.

العلاء؛ سعودی عرب میں اُبھرتا ہوا نیاعالمی ثقافتی مرکز

سلطان الثاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک قدیم شہر،جو 200 ہزارسال کی بڑی حد تک غیر دریافت شدہ انسانی تاریخ کا امین ہے، تیزی سے ایک عالمی ثقافتی مرکز کے طور پرابھررہا ہے۔ یہ شہرالعلاء ہے۔یہ سعودی عرب کے شمال مغرب میں ایک خوب صورت صحرا کے وسط میں واقع ہے۔اس کا رقبہ، طول وعرض بیلجیم کے برابرہے۔ملک کی نوجوان اکثریت کے برعکس العلاء کی تعریف شاید ہی کسی ایک خصوصیت کی بناپر کی گئی ہو۔

قومی ترقی اورمعاشی تنوع کے امتزاج کا حامل یہ شہر ایک وقت میں کھلی فضا کا حامل عجائب گھر، ثقافتی تہذیب کا ایک سنگم، مشرق اوسط کے سب سے اہم آثارقدیمہ کا جھرمٹ اور خطے کے سب سے اہم اصلاحاتی منصوبہ سعودی عرب کے وژن 2030 میں ایک اہم ’لیور‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔

خلیجی ریاستیں تیل پرمنحصراپنی معیشتوں کو متنوع بنانا چاہتی ہیں اوروہ اس مقصد کے لیے سیاحت کوترقی اور فروغ دے کراس غیردریافت اورغیرمتعارف شدہ صلاحیت سے امیدیں وابستہ کررہی ہیں۔ ایک متحرک صنعت میں مقابلہ سخت ہوتا ہے۔ لیکن العلاء جو مخصوص پیکج پیش کرتا ہے،وہ ناقابل تسخیر ہے۔یہ مسابقت سے بالکل بالاتر ہے۔ کیسے؟اس کا جواب العلاء کی منفرد تاریخی اور ثقافتی حیثیت میں پنہاں ہے۔

خلیج میں بہت سارے سیاحتی مقامات سورج، سمندر اور پوش میٹروپولیٹن اسمارٹ شہروں کے درمیان واقع ہیں۔ یہ دونوں اختیارات ایک رجحان سازپیشین گوئی کرتے ہیں، آپ اپنے روزمرہ کے معمولات سے اکتاکرکسی گرم مطلوب مقام کی طرف جانا چاہتے ہیں تو یہ سیاحتی مقامات آپ کی اس مانگ کو پورا کرتے ہیں۔اس میں فطری طورپر کچھ بھی غلط نہیں ہے۔کھانے پینے کےتجربات کے ذریعے اور بالخصوص اطالوی اور مشرقی ایشیائی پکوانوں سے لذت اندوز ہوا جاسکتا ہے اور اس لذت کام ودہن کے دوران میں نرم اوردھیمی موسیقی سے لطف اندوز ہواجاسکتا۔ان کے متوقع وجود پرنادم کرنا سپرہیروفلموں کی مقبولیت پر افسوس کرنے کے مترادف ہے۔وہ فروخت کرتے ہیں، لہٰذا وہ برقراررہتے ہیں۔

اگرچہ سیاحت کے مشہورمقامات اور سپرہیروفلموں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن وہ شاذونادر ہی بہت اچھے ہوتے ہیں مگر ان میں ایک جگہ سب سے نمایاں ہے اور وہ العلاء ہے: یہ ایک مربوط تجربہ پیش کرتا ہے جہاں تاریخ اور جدیدیت ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتی ہے۔یہ گیلریوں، تیوہاروں، فنون لطیفہ اور آثار قدیمہ کے اتارچڑھاؤ کا ثقافتی نخلستان ہے۔

عالمی سیاحت کے لیے طویل عرصے سے ناقابلِ تسخیر اور ملک میں یونیسکو کی پہلی ورثہ جگہ حجرہ کا گھرہے۔ العلاء غیرمتوقع کی تلاش میں مسافروں کے لیے تیزی سے لازمی سفرناموں میں داخل ہورہا ہے۔آٹھ ہزار سال پرمحیط انسانی تاریخ کا ایک خزانہ العلاء میں 23,000 سے زیادہ آثار قدیمہ کے مقامات موجود ہیں۔ان میں سے صرف ایک چھوٹی سی تعداد کی پہلے سے کھدائی کی گئی ہے۔ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس علاقے کےآثارقدیمہ کی دولت کے صرف پانچ فی صد کادوبارہ احیاء کیا جاچکا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ شہرایک جامع بیانیہ پیش کرتا ہے - 3000 سال پرانی نقاشی کی پے درپے جدیدآرٹ میلوں میں نمائش کی گئی ہے۔ان میلوں میں صحرا ایکس العلاء؛ تنتورا میں موسم سرما؛ العلاء آرٹ فیسٹیول اور یکے بعد دیگرے مختلف نمائشیں شامل ہیں۔

مقامی اور بین الاقوامی دونوں طرح کی تخلیقی صلاحیتوں کامظاہرہ کرنے کے پلیٹ فارموں کو آرٹ ریزیڈنسیز کے ساتھ ملایا جاتا ہے تاکہ اُبھرتے ہوئے ٹیلنٹ کوبنیادی سطح پربااختیاربنایا جاسکے۔ گذشتہ دسمبر میں شاہی کمیشن برائے العلاء (آر سی یو) اور فرانسیسی ایجنسی برائے العلاء ڈویلپمنٹ (افلولا) نے شہر کے پہلے آرٹ ریزیڈنسی (اقامتی) پروگرام کا آغازکیا تھا۔یہ العلاء کی ثقافتی ترقی میں ایک نیا سنگ میل ہے۔11 ہفتوں پرمحیط اس اقامتی پروگرام کے ذریعے مقامی پریکٹیشنرز،فن کاروں اور العلاء میں برسرزمین کام کرنے والے ماہرین کی کمیونٹی کے درمیان تزویراتی مکالمے اور اشتراک کوفروغ ملا ہے۔

شاہی کمیشن نے کمیونٹی سطح پرفعال مشغولیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک لینگویج انسٹی ٹیوٹ اوراسکالرشپ کا ایک پروگرام بھی شروع کیا ہے۔خطے میں سیاحت کی مختلف حکمت عملیوں کے برعکس یہ طریق کارسعودی ورثے اورعالمی ثقافتی مرکز کے طور پرالعلاء کے عروج میں نامیاتی طور پرایک مربوط درآمدی ماڈل ہے اور یہ مقامی امکانات کو اجاگر کرتا ہے۔

اس نقطہ نظرکا حالیہ اظہارجیرارڈ بٹلر کی آنے والی ایکشن تھرلرفلم ’’قندھار‘‘کی تیاری میں نظرآتا ہے۔ بٹلرکے ہمہ وقت معاون ریک رومن وا کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں کام کرنے والے عملہ اور ایکسٹرا میں سے 10 فی صد سے زیادہ سعودی شہری ہیں۔ ’’قندھار‘‘کی نہ صرف العلاء میں مکمل طور پرشوٹنگ کی گئی ہےبلکہ شمال مغرب کے سرسبزنخلستان،ریت کےپیلے ٹیلوں پر بھی اس کی عکس بندی کی گئی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک میں انتہائی مسابقتی کی بنیاد پر بنائی جانے والی اس فلم پر 40 فی صد نقد چھوٹ دی گئی ہے۔

بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے کے علاوہ العلاء کا تیزی سے عروج مملکت میں جاری سماجی اور ثقافتی ترقی کو بھی ظاہر کرتا ہےلیکن اس سب کا سعودی عرب کی قومی ترقی میں کیا تعلق ہے؟ العلاء علم پر مبنی معیشت میں تنوع لانے اور کامیابی سے تبدیلی کے مملکت کے خواہش پر مبنی منصوبوں میں مرکزی حیثیت کیوں رکھتا ہے؟ معاشی طورپر العلاء میں ایک پھلتا پھولتا ثقافتی ماحولیاتی نظام براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)، روزگار کے مواقع پیداکرنے اور سعودی سیاحت کے شعبے کی منظر کشی اورکشش پرمثبت اندازمیں اثرات مرتب کرے گا۔ تحقیق سے پتاچلتا ہے کہ ایف ڈی آئی کی آمد کا ریاستوں کی گھریلومعاشی صلاحیت اور ثقافتی خوب صورتی کو وسیع ترعالمی برادری کے سامنے ظاہرکرنے کی صلاحیت سے قریبی تعلق ہے۔العلاء کا ثقافتی آغازان عوامل میں ایک طاقتور مثال کے طور پر کام کرے گا۔

اقتصادی اشاریوں کو ایک طرف رکھیں،العلاء میں ایک پھلتا پھولتا ثقافتی ماحولیاتی نظام مقامی تخلیقی صلاحیتوں کواجاگر کرتا ہے، قومی تشخص کو مضبوط کرتا ہے، معیارزندگی کو بہتربناتا ہے، سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے اور ثقافتی سفارت کاری کے ذریعے دنیا بھر کی قوموں کے ساتھ تزویراتی تعلقات کو گہرا کرنے میں مدد دیتا ہے۔العلاء کی ترقی میں فرانسیسی ثقافتی اداروں کے ساتھ مل کرکام کرنے کے لیے فرانسیسی حکومت کے ساتھ سعودی عرب کی حالیہ شراکت داری اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔

مملکت کے پوشیدہ جوہر میں کیا مستقبل پنہاں ہے؟ وژن 2030 کے اعلان کی سالگرہ کے موقع پرشاہی کمیشن برائے العلاء نے وقت کے ساتھ ساتھ سفر (ری جنریشن پروجیکٹ دا جرنی تھرو ٹائم) کا ماسٹر پلان شروع کیا جو پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے منصوبوں میں ذمہ دارانہ سرمایہ کاری کے لیے 15 ارب ڈالر کے مواقع کی نمائندگی کرتا ہے۔یہ منصوبے 2035ء میں مکمل ہوں گے۔ ان کامقصد 38,000 نئی ملازمتیں پیدا کرنا، سالانہ 20 لاکھ سیاحوں اور زائرین کوراغب کرنا، علاقے کی آبادی کو 130,000 تک بڑھانا اور مملکت کی معیشت میں 32 ارب ڈالرشامل کرنا ہے۔ اس منصوبے میں پہلے ہی 2 ارب ڈالر سےزیادہ کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے اور ترجیحی بنیادی ڈھانچے پر 3.2 ارب ڈالرصرف کیے جارہے ہیں۔

انسانی تاریخ کے 8000 سال بعد العلاء ایک بارپھراپنے آپ کو توجہ کا مرکز سمجھتا ہے۔یہ ماضی اور حال کے درمیان تخلیقی سنگم کامرکز ہے۔ یہ کبھی تجارت کے مشہور گرمائی راستوں پرواقع ایک اہم تجارتی مرکز تھا۔اب وہ تیزی سے ایک عالمی ثقافتی مرکز کے طور پراُبھر رہا ہے۔ لہٰذا تاریخ اپنے آپ کو دہُرانے جارہی ہےاور یہ وقت ہے جب دنیا ایک بار پھرالعلاء کی دھڑکن پررقص کرتی ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں