.

سعودی شعبہ تعلیم میں جامع تبدیلی کی ضرورت

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مجھے حال ہی میں ریاض میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس اور نمائش کے مباحث کا بغور مطالعہ کرنے کا موقع میسر آیا۔ اس کانفرنس کا موضوع تعلیم تھا۔ اس مطالعہ سے مجھے علم ہوا کہ بڑے اور اہم کھلاڑی گروہوں کو اس معاملے سے کس قدر دلچسپی ہے۔

میں ایک بار پھر تعلیم کے موضوع پر لکھ رہا ہوں۔ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ایک حقیقی معنوں میں زندہ موضوع ہے۔ یہی سب سے بڑا حقیقی چیلنج بھی ہے۔ سول اور فوجی امور میں یہ ایک سنجیدہ کوشش کہی جا سکتی ہے۔ اسی سے اقوام کے بہتر مستقبل کو سمجھا اور آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

اگر ہم سعودی وژن 2030ء کو سامنے رکھیں تو یہی بات ترقی کے عمل کو سبوتاژ کر سکتی ہے۔ قدیم طور پر موجود یہ ایک ایسی وراثت ہے جس نے گذشتہ برسوں میں مزید اہمیت حاصل کی ہے۔ خطے کے ملکوں کے لیے پرانا نظام تعلیم اب بھی ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر موجود ہے۔ یہ سب اس حقیقت کے باوجود بڑا مسئلہ ہے جو ملکوں کی سرکاری دولت کے بڑھتے رہنے کے ساتھ ساتھ عمل طلب ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو اس خطے کو دنیا کے صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہ ممالک سے جدا کرتا ہے۔ یہ ایسا فرق ہے جو بڑھ رہا ہے۔

میں اس مسئلے پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ یہ ضرورت بڑھتی جا رہی ہے کہ آؤٹ آف باکس سوچا جائے۔ ہمیں تدریس پر خصوصی توجہ دینا ہو گی تاکہ ہم سائنس کی تعلیم کے لیے امریکی ماڈل سامنے رکھ کر مباحث کا آغاز کریں۔ ہمیں اس موضوع پر زیادہ مربوط اور بہتر لیکچرز اور سیمینارز منعقد کرانا ہوں گے۔ کانفرنسوں کا انتظام کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ایک مکمل تبدیلی درکار ہے۔

میرا خیال ہے کہ تعلیمی منصوبہ بندی سے وابستہ حکام مسئلے کی ضرورت کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں۔ وہ نصاب تعلیم میں بہتری، تدریسی عمل میں عملی کردار کے ساتھ ساتھ عمارتوں کو جدید طرز پر تیار کرے، یونیورسٹیوں اور اداروں کو بہتر فنڈز دینے جیسے امور کو عارضی راستہ قرار دے رہے ہیں۔

دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے ہمیں مزید پچاس سال کی کوشش درکار ہے۔ آنے والی نسلوں کو ایڈوانس سائنس اور ٹکنالوجی کے علوم سے بہرہ مند کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس کے لیے ہمیں دیگر شعبہ جات کو قربان بھی کرنا پڑے تو ہمیں یہ کام کر گزرنا ہوگا۔

ہم ان تعلیمی حکام سے بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں انقلابی تعلیمی پروگرام وضع کر کے دیں گے۔ یہ پروگرام 20 سال پر مشتمل ہو اور اس میں روایتی تعلیم کی بھی جھلک دکھائی دینی چاہیے۔ اس کام کے لیے ہمیں آنے والے 20 سالوں کو ایک ہنگامی پیریڈ کے طور پر لینا ہوگا۔ ہمیں روایت ترک کرنا اور خطرات بھی مول لینا ہوں گے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم سائنس کی تعلیم پر درکار توجہ دے پاتے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہوگا کہ سکول کے اندر طلبہ کو اس طرح سے تیار کر سکیں کہ وہ یونیورسٹی پہنچ کر اپنے اہم مضامین کو اس معیار تک لے جائیں تو بہترین یونیورسٹیوں میں اب اختیار کیا جا چکا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم سے بہتر یونیورسٹیوں میں ہم بہترین طلبہ کو لانے میں کامیاب ہو رہے ہیں تو یہی پہلا امتحان ہے۔ اگر وہ اپنے پروفیسرز اور نصابات سے آگے بڑھ سکیں تو اس پر توجہ دینا ہو گی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ سرکاری تعلیم کو بہتر بنانے پر توجہ دینا بھی اہم تقاضا ہے۔ ہم اپنے طلبہ کو تخصص کی طرف بڑھنے سے پہلے ہی ایسی راہنمائی فراہم کریں جو انہیں سائنسی اور طبی شعبہ جات میں آگے لے جا سکے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جس میں وہ خود کو تیار کرتے ہیں تاکہ تخصص کو حقیقت میں ترقی کا روپ دیا جا سکے۔

اب وہ زمانہ نہیں ہے کہ ایک طالب علم ہر طرح کے علم میں تخصص حاصل کرے۔ اب سائنسی علوم کا دائرہ پھیل رہا ہے اور ان کے نئے رنگ سامنے آ رہے ہیں۔ اس وقت سعودی عرب کے 27 ہزار سکولوں میں 60 لاکھ طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ ملک میں چالیس سے زیادہ پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں کام کر رہی ہیں۔ یہ ادارے شروع میں ہی تخصص کی جانب ان طلبہ و طالبات کو لے جا سکتے ہیں۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ان نصاب ہائے تعلیم کو ترک کر دیا جائے جو کم اہمیت رکھتے ہیں؟ کیا یونیورسٹی ٹریک تبدیل کیا جا سکتا ہے اور وہاں زیادہ اہم مضامین پڑھائے جائیں۔ کیا یونیورسٹی سطح کی ملازمت کو نئے سرے سے ڈیزائن کیا جا سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ فنڈز جدید سائنس، ٹکنالوجی اور انجیئرنگ میں منتقل کیے جا سکیں۔ ہمیں میڈیکل ٹکنالوجی کے نئے کالجز کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں بائیو انجینئرنگ، صنعتی اور زرعی ٹکنالوجی کو بھی اہمیت دینا ہو گی۔ ہمارا فوکس خلائی سائنس اور مواصلاتی علوم بھی ہونے چاہئیں۔ ان تمام شعبہ جات کے لیے ایسے طلبہ کو مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں جو بہترین کارکردگی دکھا سکیں۔

تخصص کی طرف تبدیلی کا عمل کسی بھی اعتبار سے آسان نہیں ہوگا۔ یہ مہنگا اور مشکل مرحلہ ہوگا۔ اس کے لیے زیادہ صلاحیت والے مدرسین کی ضرورت ہوگی۔ یہ ایک بالکل منفرد تعلیمی سلسلہ ہوگا جو ہمارے معاشرے کو زیادہ اعلیٰ معیار تک لے جائے گا۔

مجھے خطرہ ہے کہ محض سطحی اقدامات اور سست رو تبدیلی دو وجوہات سے نقصان کا سبب بنیں گے۔ تعلیمی سیکٹرز کے نتائج اور کردار لیبر مارکیٹ کی ضروریات پوری نہیں کرسکیں گی۔ اس سے قومی ترقی کے منصوبے تشنۂ تکمیل رہیں گے۔ دنیا اس وقت روشنی کی رفتار سے آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ گویا اس طرح سے سامنے آنے والے چیلنج ایسے ہوتے جارہے ہیں جو سست روی کی ہماری حالت کو زیادہ مسائل کی وجہ بنانے کے ساتھ ساتھ ترقی کی قیمت بھی بڑھا دیں گے۔ ہم جن امکانات کو پہلے ہی ضائع کر چکے ہیں، ان کے بذکرے کی ضرورت نہیں ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ پانچ عشروں پر مشتمل یہ مسئلہ بہت سنگین تر ہو چکا ہے۔ ہمیں تعلیمی میدان میں جس کیفیت سکا سامنا ہے، اس یہ کوئی ہنگامی مسئلہ نہیں رہ گیا ہے۔ ہماری تعلیم آئی سی یو میں ہے۔

اس مشکل صورت حال سے نکلنے کے لیے بہت کوششیں کی گئی ہیں۔ ہم نے سکالر شپ پروگرام سے ہزاروں طلبہ کو بیرون ملک بھیجا ہے۔ اس کے باوجود ہم پیدا ہونے والے خلاء کو دور نہیں کرسکے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ سکالر شپ حاصل کرنے والوں نے بھی چھلانگ لگائی ہے۔ ان میں وہ طلبہ بھی شامل ہیں جو روایتی تعلیم حاصل کر کے گئے ہیں۔ وہ اس سب کے باوجود درکار نتائج پیدا نہیں کرسکے ہیں۔

آج معاملہ یوں ہے کہ ہر مرحلے پر واضح وژن کی ضرورت ہے۔ اس وژن کو حاصل کرنے کے مناسب حکمت عملی اور اس کے مطابق تعلیمی پروگراموں کو اختیار کرنا لازمی ہوگیا ہے۔ نئی مارکیٹ کے تقاضے اور ہیں۔ ان کو ہماری سیکنڈری اور اعلیٰ سطح کی تعلیم پورے کرنے سے یکسر قاصر ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ تخصص پیدا کرنے کے علاوہ بھی کوئی راستہ ہے جس سے مطلوبہ تبدیلی آسکے گی۔

اس طرح سے ہم اپنی اس صلاحیت کو کسی بھی طرح سے کم نہیں کر رہے ہوں گے جو دوسرے شعبوں میں درکار ہے۔ اگر ان شعبہ جات کو بھی اسی حکمت عملی سے دیکھا جائے تو ہم لاکھوں طلبہ و طالبات کو ان میں بھی تخصص کے راستے پر کامیابی سے لے جاسکیں گے۔ ہم غیر سائنسی اہم شعبہ جات بہ شمول قانون، تاریخ، ابلاغیات، سیاسیات، آرٹس اور دوسرے مضامین بھی ترقی کی راہ پر ڈال سکیں گے۔ ہمیں ان کی تعلیم مزید ابتدائی مراحل سے ہی دنیا ہوگی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے موجودہ طلبہ سابقہ نسلوں سے زیادہ بہتر ثابت ہوں گے۔ اس طرح وہ تخصیص کے ساتھ آگے بڑھ سکیں گے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں