عراق میں افراتفری کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟

عبدالرحمان الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ماہ اگست کے آخری پیر کے روز سے بغداد میں ہونے والے تصادم نے عراق کے دارالحکومت کو پہلے سے زیادہ خطرناک بنا دیا ہے۔ متحارب سیاسی جماعتوں کے مسلح کارکنوں کا ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑے ہونا، لاشوں کا گرنا یہ سب زیادہ خطرے کی گھنٹیاں ہیں۔ فوج کی سڑکوں پر آمد اور جگہ جگہ سے ناکہ بندی کے باوجود جھڑپوں کے 'آفٹر شاکس' جاری ہیں۔ جیسا کہ جمعہ کے روز بصرہ میں تازہ جھڑپ ہوئی ہے۔ اس لیے نہیں کہا جا سکتا کہ مستقبل کا منظر نامہ کیا ہو گا۔ جب تنازعات بات چیت کے بجائے سڑکوں پر مسلح لوگ طے کرنے لگیں تو یقیناً تنازعات کا حل نہیں نکلتا، بلکہ بگاڑ بڑھتا ہے۔

اس بگڑتی ہوئی صورت حال کا بنیادی اور اہم سبب عام انتخابات کے بعد دس ماہ گذرنے کے باوجود حکومتی تشکیل نہ ہو سکنا بنا ہے۔ اس سلسلے میں ریاست کی بے بسی ریاست کو ناکام ریاست کی شناخت دینے کا باعث بن سکتی ہے۔ خصوصا جب تک حکومت سازی کے لیے کوئی معاہدہ نہ ہو جائے۔ عراق میں حریفانہ سیاسی کشمکش کو ایک بیرونی فریق بھی شعوری طور پر ناکامی اور انتشار کی جانب دھکیل رہا ہے۔ یہ ملک ہر صورت میں عراق میں اپنا کردار اہم دیکھنا چاہتا ہے۔ خواہ اس کے لیے عراق کو کتنے ہی انتشار میں دھکیلنا پڑے۔ لہذا جہاں عراق کے اندرونی مسائل کا تدارک لازمی ہے اس بیرونی عنصر سے نجات بھی عراق کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

بغداد کے گرین زون میں متحارب گروہوں کے درمیان تصادم کے علاوہ برطانیہ اور آسٹریلیا کی سفارتی گاڑیاں بھی دھماکوں کا نشانہ بنیں۔ حالیہ واقعات سے الگ مگر امریکی سفارتخانہ بھی اسی طرح کے واقعات کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اسی طرح عراقی کردستانی علاقے کے علاوہ بندرگاہ ام قصر پر بھی ایرانی گولہ باری ہو چکی ہے تاکہ عراقی تیل کی برآمد نہ ہو سکے۔

اس لیے یہ جاننے یا سمجھنے کے لیے قطعاً کسی گہرے غور و فکر کی ضروروت نہیں ہے کہ عراق کو اس انتشار اور عدم استحکام کی طرف دھکیلنے والا یہ فریق ایران ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عراق سے امریکہ کے نکلنے کے بعد ایران ہی سب سب سے زیادہ بااثر ملک ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ کی حیثت یہ ہے کہ اس کے فوجیوں کی تعداد ایک زمانے میں عراق کے اندر 170000 تھی اب صرف دو ہزار رہ گئی ہے۔

یہ بھی ایران ہے جس پر عراقی ہتھیاروں پر قبضے کی کوشش کرنے کا الزام لگ چکا ہے۔ تاہم اس کی ان کوششوں کو ناکام بنایا جا چکا ہے۔ حتیٰ کہ ایران عراقی پارلیمانی اور سیاسی اداروں میں بھی اپنی پراکسیز کو متحرک کر چکا ہے۔ ایران ایک جانب فوجی شعبے میں اپنی پراکسیز پر یقین رکھتا ہے وہیں سیاسی اعتبار سے بھی وہ اپنے حامیوں کو اپنی پراکسی بنا کر استعمال کی سوچ میں غلطاں رہتا ہے۔

لیکن عراق اب تک ایرانی مداخلت کی ان صورتوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ عراقی حکومت اور پارلیمنٹ نے تہران کی کسی بھی طرح کی مداخلت کو قبول نہیں کیا ہے جب سے عراق میں انتخابات ہوئے ہیں۔ عراق نے اپنے ہاں کسی پراکسی کو برداشت نہیں کیا ہے۔ یہ ایران کے لیے بڑی تکلیف دہ بات ہے۔

سب سے بڑی بات یہ کہ عراق نے اپنے ہاں پارلیمانی انتخابات کے بعد بھی کسی بھی طور یہ کوشش ضرور کی ہے کہ بیرونی مداخلت اور عملداری کے بغیر اس کی حکومت بن سکے۔ اگرچہ عراق میں عدم استحکام کی علامات ایک کمزور ملک ہونے کے باعث موجود رہی ہیں۔ جیسا کہ اب مسلح سیاسی اور مذہبی فریقوں مقتدیٰ الصدر کے حامی اور شیعہ رابطہ کے درمیان لڑائی ہونا حیران کن نہیں ہے۔

موجودہ بحران جسے پچھلے سال اکتوبر کے انتخابات سے جوڑا جا رہا ہے، یہ اس سے نسبتاً زیادہ پرانا بحران ہے۔ جس کی جڑیں 2010 کے انتخابات سے جڑی ہوئی ہیں۔ جب الیکشن میں جیت ایاد علاوی کی ہوئی مگر اقتدار میں آنے کی دعوت المالکی کو دے دی گئی۔

اب بھی شیعہ کوآرڈینیشن انتخابات ہارنے کے باوجود اقتدار میں حکومت بنانے کی کوشش میں آخری حد کو جا چکی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اتحادیوں کے ووٹ لے کر وہ اس میں کامیاب رہے گی۔ اس لیے مقتدیٰ الصدر اور ان کے حامیوں کا سیاست سے دلبرداشتہ ہونا لازمی ہوگیا۔ اس صورت حال سے نکلنے کی ایک ہی امید ہو سکتی ہے کہ عراقی آئین اور اس کی تشریح کے مطابق حل تلاش کرنے پر سبھی لوگ آمادہ ہو جائیں۔

اسی کے تحت اپنے اختلافات کو طے کرنے کی کوشش کریں۔ بلاشبہ یہ تمام فریقوں کے عزم اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ اس حالیہ بحران کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر صدام حسین کی کویت پر حملے کی غلطی یاد آ رہی ہے۔ کویت پر حملہ عراق پر آنے والے اب تک کے تمام بحرانوں کی بنیاد بنا۔ جس کے بعد عراق پر امریکی حملہ ہوا اور صورتحال آج بھی سنبھل نہیں سکی۔

عراق کے سیاسی بحران کا احاطہ کیا جائے تو اس کی جڑیں ماضی قریب میں کم از کم دس سال پیچھے تک ضرور جاتی ہیں۔ اس وقت بھی ملک میں سیاسی خلا تھا، آج بھی ملک میں سیاسی خلا ہے۔ یہ سیاسی خلا ملک کو نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے اور ناکام ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یقیناً اس سارے کھیل میں بیرونی عنصر غیر متعلق نہیں ہے بلکہ ایک متحرک کردار کے طور پر کئی محاذوں پر موجود ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں
  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size