’سلمان رشدی کو قتل کرو، ایران معاہدے کو نہیں!‘

برنارڈ ہیکل
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سلمان رشدی کے قتل کی کوشش ایران کی حکومت کی جانب سے مصنف کے خلاف تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اشتعال انگیزی کا نتیجہ ہے۔ہمیں تو اس تصورہی سے چونک جانا چاہیے کہ ایک ریاست ایک مصنف اور امریکی سرزمین پرایک امریکی شہری کو اس کے تخلیقی کام کی بناپرقتل کرنے کی کوشش کرے گی مگرایسا کیوں نہیں ہوتا؟

فرانس اوربرطانیہ میں ردعمل کے برعکس جہاں سربراہان مملکت، پریس اور سرکردہ ثقافتی شخصیات نے فوری طور پر سلمان رشدی پر حملے کا ایرانی حکومت کو موردالزام ٹھہرایا تھا مگر امریکی ردعمل حیرت انگیز طور پر اس نشان دہی پرخاموش تھا۔ دی نیویارکر اوردی نیویارک ٹائمز سمیت مرکزی دھارے کے خبررساں ادارے اس بات پر زوردیتے رہے ہیں کہ رشدی کے حملہ آور ہادی مطر کے محرکات ’’نامعلوم‘‘ہیں۔

اس حقیقت کے باوجود کہ ایران نے گذشتہ کئی دہائیوں سے رشدی کے قتل کی مہم برپا کررکھی ہے اور مطر کے اپنے اعتراف اور واضح ثبوت کے باوجود کہ وہ ایرانی سپریم لیڈر کے عقیدت مند ہیں اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے پرجوش حامی ہیں۔ فیس بک پران کی پروفائل تصویرانقلابی مذہبی پیشوا آیت اللہ خمینی کی تصویر ہے جنھوں نے 1989 میں سلمان رشدی کے خلاف قتل کا ’’فتویٰ‘‘جاری کیا تھا۔ مطر کے پاس ایران کے موجودہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تصویر بھی ہے جنہوں نے رشدی کے خلاف سزائے موت کی تصدیق کی تھی۔ یہاں تک کہ مطر کے نیوجرسی سے جاری کردہ جعلی ڈرائیونگ لائسنس میں حزب اللہ کے دو سرکردہ ارکان حسن نصراللہ اورعماد مغنیہ کے نام بھی شامل تھے جولبنان میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کا سب سے زیادہ انعام پاتے تھے۔ اس میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ مطرنے جب اسرائیل کے ساتھ سرحد پر حزب اللہ کے ایک معروف گڑھ لبنانی گاؤں یارون کا دورہ کیا تھا تو وہاں ایرانی فوجی تربیت اور تعلیم حاصل کی تھی۔

ایسا لگتا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں تشدد کے آسانی سے دستیاب کسی بھی ثبوت نے اس بات کا اندازہ نہیں لگایا ہے کہ امریکی پریس اور وائٹ ہاؤس کس طرح رشدی پر حملے کو پیش کرنے کا انتخاب کررہے ہیں۔ وہ اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں۔سلمان رشدی پر قاتلانہ حملے کی باضابطہ فریمنگ کو سب سے پہلے امریکا کےقومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے ٹویٹ کیا تھا۔انھوں نے رشدی پرچاقوحملے کے بعد ان کی سب سے پہلے مدد کرنے والے کی تعریف کی تھی۔سلیوان نے ایران یا حزب اللہ کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔واشنگٹن پوسٹ اور ’دااٹلانٹک‘‘ میں شائع شدہ مضامین ’’پہلے ردعمل ظاہر کرنے اور کارروائی کرنے والوں"‘‘ کی تعریف کرتے ہیں اور ان کی ذاتی تاریخ اور موجودہ جسمانی حالت کا مشترکہ طورپرذکرکرتے ہیں کہ بظاہران کی پلک پر کٹ لگ گیا ہے۔

رشدی پر حملے کا ردعمل خاص طور پراس وقت حیرت انگیزنظرآتا ہے جب اس کا موازنہ سعودی صحافی اور سابق سرکاری عہدہ دار جمال خاشقجی کے قتل کے واقعے سے کیا جاتا ہے۔وہ سعودی حکومت سے کنارہ کشی اختیارکرکے واشنگٹن چلے گئے تھے، جہاں وہ منحرف ہوگئے اور واشنگٹن پوسٹ کے لیے کالم لکھتے تھے۔سعودی حکومت کے ایجنٹوں کی جانب سے خاشقجی کا بہیمانہ قتل کئی ماہ تک امریکی اخبارات کے پہلے صفحے کی خبرہوتا تھا اورجب بھی سعودی عرب پر بات کی جاتی تو ان ذکرجاری رہتا ہے اور ہمیشہ اس الزام کا اعادہ کیا جاتا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اس قتل کے ذاتی طور پرذمہ دار ہیں۔ چند ہفتوں کی تردید کے بعد سعودی حکومت نے سرکاری ایجنٹوں کو اس کا ذمہ دارقراردیا اور ان مجرموں کو گرفتار کرکے مقدمہ چلایا تھا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ سعودیوں نے وعدہ کیا تھاکہ وہ دوبارہ کبھی ماورائے عدالت اور ماورائے علاقائی قتل میں ملوث نہیں ہوں گے۔

ان دونوں مقدمات کے درمیان تضاد سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران کی سلمان رشدی کے خلاف تشدد کی کامیاب کفالت پر کیوں روشنی ڈالی جا رہی ہے حالانکہ تہران نے حال ہی میں امریکی حکومت کے متعدد سابق عہدے داروں کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔اب وہ سیکرٹ سروس کے تحفظ اور سکیورٹی حصار میں ہیں۔ اس خاموشی کا امکان اس لیے ہے کہ بائیڈن انتظامیہ تہران کے ساتھ جوہری معاہدے میں دوبارہ شمولیت کے لیے بے چین ہے، یہاں تک کہ ایران نے مبیّنہ طور پر اس معاہدے کے حصے کے طور پر امریکی سرکاری عہدے داروں کے قتل کے امکان کو ترک کرنے سے انکارکردیا ہے۔ایک نقطہ نظریہ ہے کہ مجوزہ معاہدہ طے پاجاتا ہے تو اس سے ایرانی تیل کے اضافی بیرل بھی پیدا ہوں گے اوراس طرح عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی آئے گی جس سے آیندہ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹس کو مدد ملے گی۔

رشدی پر حملے کے مجرموں کو نظرانداز کرنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کوجذبات کو مجروح کیا اوراسلام کی توہین کی تھی۔ رشدی کے بارے میں خمینی کے جھوٹے دعووں کواس تشدد کے جواز کے طورپر پیش کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اس کے مستحق تھے جس طرح شارلی ہیبڈوکے صحافیوں کو ان کی تضحیک آمیزی پرنشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ بدصورت منطق دیگر ثقافتوں کے احترام نہ کرنے کا ایک بہانہ ہے اور مسلمانوں کے لیے توہین آمیز ہے کیونکہ یہ ان کے عقیدے کو ایران کی ریاستی سرپرستی میں تشدد کی مہم سے وابستہ کرتی ہے۔

درحقیقت رشدی کی کتابوں کا قریب نظری سے مطالعہ کرنے سے پتاچلتا ہے کہ انھیں اسلامی تہذیب کی خوب صورتی اور کامیابیوں کی بھی گہری تحسین کی تھی۔ دیگرکتابوں کے علاوہ ان کی ’دی مورز لاسٹ سائن‘ یا ’فلورنس کی جادوگرنی‘ بھی ملاحظہ کریں۔

حالیہ حملے پرایران کا سرکاری ردعمل، رشدی کواس کا مورد الزام ٹھہرانا اور حملے میں براہ راست ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے یہ کہنا کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ اس کے حق دار تھے۔ان کے خلاف سزائے موت کا فتویٰ ابھی تک انٹرنیٹ پر موجود ہے اور مصنف کی زندگی لینے کی کوشش پرایرانی اخبارات داد وتحسین کے ڈونگرے برسائے ہیں۔ اس کے بالکل برعکس عالمی رابطہ اسلامی کے سیکرٹری جنرل شیخ محمدالعیسیٰ نے رشدی پر حملے کو ایسا جرم قرار دیا جسے اسلام معاف نہیں کرتا۔وہ دنیا کے سرکردہ اسلامی حکام میں سے ایک ہیں اور سعودی عرب کی سرپرستی میں ایک عالمی اسلامی ادارے کے سربراہ ہیں۔انھوں نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مجرمانہ کارروائی قرار دیا اور اس طرح سیاسی مقاصد کے لیے اسلام کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی روش کو مسترد کر دیا۔

تہران اورالریاض کی حکومتوں کے درمیان فرق واضح نہیں ہو سکا۔ اس کے باوجود چونکہ وائٹ ہاؤس جوہری معاہدے کی بحالی کا ارادہ رکھتا ہے،اس لیے امریکا کی سیاسی اور ذرائع ابلاغ کی اشرافیہ کا بڑا طبقہ حقیقت کو اس تصور کے حق میں مٹانے پر تلا ہوا نظر آتا ہے کہ معاہدے کے بعد پرامن ایران ابھرے گا اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ ’’مربوط‘‘ ہو جائے گا۔ چوٹاوکوا، این وائی میں اسٹیج پر جو کچھ ہوا،وہ ایک انتباہ ہونا چاہیے کہ ایرانی حکومت پرتشدد ذرائع اختیار کرتی رہے گی اور مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برنارڈ ہیکل سلمان رشدی کے ذاتی دوست ہیں۔ وہ مشرقِ قریب مطالعات کے پروفیسر اور پرنسٹن یونیورسٹی میں معاصر مشرق اوسط ، شمالی افریقا اور وسط ایشیا کے انسٹی ٹیوٹ فار ٹرانس ریجنل اسٹڈی کے ڈائریکٹر ہیں۔

محمد الیحییٰ مقتول جمال خاشقجی کے ذاتی دوست ہیں۔ وہ ہارورڈ یونیورسٹی کے بالفور مرکز برائے سائنس اور بین الاقوامی امور کے مڈل ایسٹ انیشی ایٹو میں فیلو اور ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں سینٹر فار مڈل ایسٹ پیس اینڈ سکیورٹی میں سینیر فیلو ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں
  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size