علامہ یوسف القرضاوی کی وفات؛کیا یہ الاخوان المسلمون کا خاتمہ ہے؟

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

الاخوان المسلمون کی ایک اورعلامتی شخصیت علامہ یوسف القرضاوی کی وفات کے ساتھ ہی یہ تحریک اپنے ایک اہم پروپیگنڈے سے محروم ہو گئی ہے۔ اپنے زیادہ تررہ نماؤں کی عدم موجودگی اور ان ریاستوں میں اقتدار سے محروم ہونے کی وجہ سے جن پراس کا کنٹرول تھا،الاخوان المسلمون کو قریباً ہر سطح پر بھاری نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ تو کیا یہ تحریک علامہ یوسف القرضاوی کی وفات کے ساتھ ہی دم توڑ گئی ہے؟ کیا وقت آگیا ہے کہ الاخوان المسلمون کا صفحہ پلٹ دیا جائے؟

الاخوان المسلمون ایک انتہاپسندسیاسی مذہبی گروہ ہے جوگذشتہ صدی کے آغاز میں ابھرنے والے نئے عالمی نظام میں ایک تصورکے طور پر شروع ہوا تھا۔ اس عالمی نظام نے کئی نئی سیاسی اورنظریاتی لہروں کوجنم دیا تھا۔قومی ریاستوں ،نئے علاقائی نقشے اور مقامی شناختوں ،نیز عرب ریاستوں کی لیگ کے تصور کو جنم دیا تھا۔

گذشتہ صدی میں الاخوان المسلمون نے مختلف گروہوں کے ساتھ مقابلہ کیا۔ان میں عرب بعث جماعت بھی شامل تھی۔یہ 1940 کی دہائی میں قائم ہوئی تھی اوراس نے عراق میں اقتدارکی باگ ڈورسنبھالی تھی مگرعراق میں صدام حسین کی حکومت کے دھڑن تختے کے ساتھ ہی بعث پارٹی کا خاتمہ ہوگیاتھا اور پڑوسی ملک شام میں بشارالاسد نے دیوار سے لگا دیا تھا۔

الاخوان کا ایک اور حریف کمیونزم تھا۔اس کی زیادہ ترعرب ریاستوں میں شاخیں تھیں لیکن اس کی صرف جنوبی یمن پر حکمرانی قائم ہوسکی تھی اورسوویت یونین(یونین آف سوویت سوشلسٹ ری پبلکس ،یو ایس ایس آر)کے خاتمے کے ساتھ ہی دنیا اور خطے میں اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہاتھا۔ ناصریت ، قذافیت ، اور دیگر انفرادیت پسند قیادت کی حامل تحریکیں بھی تھیں جو اپنے رہ نماؤں کی موت کے ساتھ ہی غائب ہوگئیں، جیسا کہ ماؤازم اور اسٹالن ازم کے ساتھ ہوا تھا۔

جو چیز الاخوان المسلمون کو بعث پارٹی، کمیونزم اور قوم پرستی سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ کہ الاخوان المسلمون ایک فاشسٹ سیاسی گروہ ہے جس کی بنیاد مذہب کے استحصال کے خیال پر رکھی گئی ہے، اور اس وجہ سے وہ کبھی مر نہیں سکتی۔

الاخوان کا خطرہ اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اسلامی ریاست کے احیاء کے رومانوی تصور کو برقرار رکھتی ہے اور اسے فروغ دیتی ہے اور ایسی ریاست ماضی میں کبھی اس تصویر میں موجود نہیں تھی جو وہ اپنے پیروکاروں کے لیے پینٹ کرتے ہیں۔ تاریخی طور پر ، تمام اسلامی خلافتیں خاندانی بادشاہتیں تھیں ، اموی ریاست سے لے کر سلطنت عثمانیہ تک۔

الاخوان المسلمون نے سب کو استعمال کیااور سب نے انھیں استعمال کیا۔ان پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انھیں قاہرہ میں برطانوی حکمرانی کی اس وقت حمایت حاصل ہوئی تھی جب عرب دنیا اور اسلامی برادریوں کی اکثریت تاج برطانیہ کی حکمرانی میں تھی۔ یقینی طور پر ، اس وقت ، کوئی بھی جانبدارانہ منصوبہ برطانوی شناخت یا حمایت کے بغیرابھر کر سامنے نہیں آسکتا تھا۔

انگریز اپنی نوآبادیات میں مقامی پیش رفتوں پر گہری نظر رکھنے کے لیے جانے جاتے تھے ، اور کچھ دستاویزات میں الاخوان المسلمون میں ان کی دلچسپی کا ذکر 1930 کی دہائی میں اس کے ابھرنے کے بعد سے ایک تحریک کے طور پر کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ (مصری شہری)اسماعیلیہ میں الاخوان المسلمون کی جانب سے تعمیر کی جانے والی پہلی مسجد کو برطانوی ملکیت والی سوئز کینال کمپنی کی جانب سے مالی اعانت ملی تھی۔

لندن کے لیے ایسا کرنا فطری بات ہے۔ کئی دہائیوں تک برطانیہ نے اپنے حریفوں کے خلاف ہر کارروائی کی حمایت کی، چاہے وہ ترکی ہو، نازی ہو یا کمیونسٹ۔ اس نے الاخوان المسلمون کو خطے میں کمیونسٹ ’’الحاد‘‘کے خلاف اپنی سیاسی بیان بازی کو فروغ دینے کے لیے ایک ترجمان کے طور پر استعمال کیا اورسوئیکارنو کا مقابلہ کرنے کے لیے انڈونیشیا تک اپنے پرچے تقسیم کیے۔

برطانیہ کے ساتھ اس تحریک کے تعلقات ان کے خلاف ہونے ثبوت نہیں ہیں۔ بہرحال، عرب لیگ ایک برطانوی تجویز ہو سکتی ہے جو اس وقت کے انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے خارجہ امور انتھونی ایڈن نے 1941 میں عربوں کو نازی جرمنی کے خلاف اتحاد کا بندوبست کرنے کے لیے پیش کی تھی۔ تاہم ، ماضی کے بارے میں حساسیت کو ایک طرف رکھتے ہوئے ، یہاں تک کہ اگر لندن نے اس کی تجویز نہیں دی تھی تو ، اتحاد کے دور میں لیگ ایک فطری اور کسی حد تک ناگزیرخیال تھا جبکہ بہت سے ممالک نے آہستہ آہستہ اپنی آزادی حاصل کی۔

اگرالاخوان المسلمون کا برطانوی دفترِ خارجہ میں ایک خفیہ دفتر ہوتا تو خطے کی ریاستوں کے لیے اسے بند کرنا آسان ہوتا، لیکن یہ ایک سادہ لوح، سازشی سوچ ہے۔ مزید یہ کہ الاخوان المسلمون ایک فاشسٹ مذہبی سیاسی گروہ ہے جو ہراسلامی ملک میں ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے تمام مخالفین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیارہوتا ہے، خواہ وہ مغرب ہو ، کمیونسٹ ، یا انتہا پسند شیعہ گروہ ہوں، اگر اسے اقتدار میں لانے کی تگ ودو کریں تو یہ جماعت ان کے ساتھ مل کرکام کرنے کوتیارہوتی ہے۔

الاخوان پروپیگنڈے اور جمہوریت، بقائے باہمی اور جدیدیت کے نظریات کو فروخت کرنے میں مہارت رکھتی ہے، اگرچہ 2012 میں تحریک نے مصر میں اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد ان کو مسترد کر دیا تھا. یہ واضح ہوگیا کہ یہ تحریک انتہاپسندوں کے ذریعے چلائی جا رہی ہے، جبکہ اعتدال پسند صرف ایک دکھاوا ہیں۔

سوڈان سے لے کرتُونس، یمن اور لیبیا تک یہ ایک سلسلہ وار تنظیم کے طور پر ابھرکر سامنے آئی تھی، جو ہر وقت دوسرے ممالک میں مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے اور خطے میں اس سے لاحق خطرات اس وقت بے نقاب ہو گئے جب اس نے اقتدار میں آتے ہی ایران کے ساتھ روابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔

مصر میں ، اس نے آہستہ آہستہ عدلیہ ، محکمہ تفتیش عامہ (جنرل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ) ، پولیس اور میڈیا میں عہدوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور اس طرح ایک منتخب جماعت سے خود کو ایک مطلق العنان گروپ میں تبدیل کردیا تھا۔

الاخوان المسلمون اپنے رہ نماؤں کی موت یا پابندیوں اور قدغنوں سے نہیں مرتی،الاخوان المسلمون ایک تصور کانام ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کالم پہلے پان عرب روزنامہ الشرق الاوسط میں شائع ہوا تھا اور اس کا ترجمہ العربیہ اردو کے ویب صفحات پر شائع کیا جارہا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size