بی بی سی عربی ریڈیو کی خاموشی

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عربی بولنے والا سب سے مشہورغیرملکی ریڈیو اسٹیشن کیوں بند ہوا؟اس پرغور کرنے سے پہلے، آئیے دیکھتے ہیں کہ برطانوی حکومت نے اسے 1938ء میں کیوں قائم کیا تھا؟برطانوی نیٹ ورک نے بی بی سی عربی کو اپنے پہلے غیرملکی زبان کے اسٹیشن کے طور پرچلانے کا انتخاب کیوں کیا؟ بجائے اس کے کہ وہ ہندوستان (تاجِ برطانیہ کی سب سے بڑی کالونی) کی زبان بولتا، یا شاید اپنےحریف فرانس اور جرمنی کی زبان میں کسی اسٹیشن کی نشریات شروع کرتا؟

اس وقت ، ریڈیو ابھی ایک نئی ایجاد تھی۔ دنیا دوسری جنگِ عظیم کے آغاز اوراس کے ساتھ آنے والی طاقت ،وسائل اور نوآبادیات کی تلاش سے ایک سال دور تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انگریزوں نے عربی زبان میں اپنا پہلا غیرملکی زبان کا اسٹیشن اس لیے شروع کیا کیونکہ انھیں اس کے ذریعے پروپیگنڈے کے ان کی کالونیوں پر پڑنے والے اثرات کا احساس تھا۔

اس وقت عربوں نے جس ریڈیو اسٹیشن کو سنا،وہ ریڈیو باری تھا ، جو اٹلی کی فاشسٹ حکومت کی طرف سے شروع کیا گیا ایک اسٹیشن تھا۔اس کی نشریات عربی بولی میں ہوتی تھیں اور کہاجاتا ہے کہ وہ عربوں کو برطانوی اثرورسوخ کے خلاف اکسانے میں کامیاب رہا تھا۔ تین سال بعد ، انگریزوں نے اپنا عربی بولنے والا اسٹیشن شروع کیا۔دوسری جنگ عظیم کے آغاز کے ساتھ ہی جرمنی نے اس کی پیروی کرتے ہوئے برلن سے عربی ریڈیو کے نام سے ایک حریف اسٹیشن کی نشریات شروع کی تھیں۔

عربوں نے تب اتحادیوں اور محوری قوتوں کے درمیان جنگ کے بارے میں لندن اوربرلن کے بیانات سنے: پہلا بی بی سی عربی پراحمد سرورنے بیان کیا اور دوسرا ریڈیو برلن پر یونس بہاری نے پیش کیا۔ بلاشبہ ، اس وقت ریڈیو کا ہدف سامعین اشرافیہ تھے، کیونکہ ریڈیو تب نایاب تھے۔ مصر کے پاس صرف 55,000 ڈیوائسز تھیں جبکہ شام اور عراق کے پاس 9,000 ریڈیو سیٹ تھے۔

آج، مالی بحران بلاشبہ ممکنہ وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے معروف ریڈیواسٹیشن بند ہو رہا ہے، لیکن دیگر، زیادہ اہم وجوہات ہیں۔بہرحال، بی بی سی عربی کو چلانے کی لاگت میڈیا دیوکے کل آپریشنل بجٹ کے سمندرمیں صرف ایک قطرہ ہے۔اس کا سالانہ بجٹ پانچ ارب ڈالر سے متجاوز ہے۔اس بات کا توذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں کہ برطانوی دفتر خارجہ بی بی سی عربی ایسے غیر ملکی زبان کے اسٹیشنوں کو مالی اعانت مہیا کرتا ہے۔

برطانیہ ماضی میں کرہ ارض کے طول وعرض میں پھیلی ایک بڑی برطانوی سلطنت تھا، اور اسے ایک میڈیا سلطنت کی ضرورت تھی۔آج دنیا کی بڑی ریاستوں میں سے ایک ہونے کے باوجود برطانیہ کے مقاصد اور وسائل محدود ہوچکے ہیں۔ وہ اب دنیا کو تبدیل کرنے یا غلبہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا ہے۔بہت سے ذرائع اور پلیٹ فارموں سے بھرے میڈیا کے بازارمیں ریڈیواسٹیشن تیزی سے گم نامی میں معدوم ہوئے جاتے ہیں۔

گذشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران میں بی بی سی عربی نے عرب دنیا میں ایک اہم کردار ادا کیا۔اس واحد ریڈیواسٹیشن نے عربوں کو بتایا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ 1967ء کی جنگ ہار گئے ہیں جبکہ تمام عرب اسٹیشنوں نے فتح کا جشن منایا تھا اور لاکھوں سامعین کے لیے جعلی خبریں نشرکی تھیں۔تاہم ، یہ کہنا ضروری ہے کہ اسٹیشن نے ہمیشہ اپنی ساکھ ،اعتباریت اورغیرجانبداری کو برقرار نہیں رکھا ہے حالانکہ وہ اس کے برعکس دعویٰ کرتا ہے۔ صدام حسین کے کویت پر حملے کے فوراً بعد ہی مَیں اس اسٹیشن کے ایک پروگرام میں مہمان تھا۔ میں سمجھ گیا کہ کس طرح چند افراد بی بی سی عربی جیسے پورے معتبر اسٹیشن کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ پھر بھی، میں اس مسئلہ کو انتظامیہ کے سامنے اٹھانے کے قابل تھا۔

میں نے ایک بار اسٹیشن پر نشرہونے والے ایک پروگرام میں حصہ لینے سے انکار کردیا تھا۔ پروڈیوسر نے میرا پیچھا کیا، وہ مجھے اسٹوڈیو میں واپس لایا ، اور اس تعصب کا ازالہ کرنے پراتفاق کیا جس نے پروگرام کوداغدارکیاتھا جیسے بولنے والوں کی تعداد،ان کے لیے مختص کردہ وقت، اور پیش کنندہ کی زبان۔

عربی بولنے والے غیرملکی میڈیا میں انتہاپسندانہ اثر ورسوخ کے دعوے حقیقت سے کچھ زیادہ بعید نہیں ہیں۔ اس کی وجہ معتدل آوازوں کا نایاب ہونا ہے، اس کے مقابلے میں ناقابل یقین سرکاری پروپیگنڈے کی کثرت ہے۔ اورایک برطانوی انٹرپرائز کے طور پر، بی بی سی بائیں بازو اور قدامت پسندوں کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والے تنازع کا سیاسی طور پرتیز میدان جنگ ہے۔

بی بی سی ایک آکٹوپس ہے، اور اس کے بہت سے بازو ریاست کی وزارت برائے میڈیا کی نمائندگی کرتے ہیں، نہ کہ حکومت کی۔ اپنے سامعین کے ساتھ رابطہ استوار رکھنے کی اس کی حکمت عملی کو سب سے زیادہ ذہین اور تخلیقی سمجھاجاتا ہے۔ درحقیقت، عرب دنیا کے برعکس برطانیہ میں ریڈیواسٹیشن اب بھی عوام کی روزمرہ کی زندگی میں بہت زیادہ زندہ اور بااثر ہیں ، کیونکہ قریباً 90 فی صد برطانوی ریڈیو اسٹیشنوں کوآن لائن،اپنی کاروں میں، یا اپنے گھریلو آلات پر، ہرہفتے اوسطاً 20 گھنٹے کی شرح سے سنتے ہیں۔

ہم اب مشہور’ہُنا لندن‘(’یہ لندن ہے‘) نہیں سن سکتے ہیں، لیکن یہ بی بی سی عربی کا اختتام نہیں ہے. پیچھے رہ جانے والی میراث زندہ رہے گی، بھلے ہی وہ ہوا کے دوش پرخاموش ہو جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کالم پہلے پان عرب روزنامہ الشرق الاوسط میں شائع ہوا تھا۔اس کا اردو ترجمہ العربیہ اردو پر شائع کیا جارہا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں