توانائی کے شعبے میں امریکہ اپنے مفادات کو نہ سجھ سکا

عمر العبیدلی
عمر العبیدلی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

اوپیک کے ایک اور فیصلے پر پھر ہیسٹیریائی آوازیں بلند ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ ان آوازوں کے اونچا ہونے کا ایک پرانا امتزاج کم علمی کے ساتھ چلا آ رہا ہے کہ جس کسی کے ہاں علم کی کمی یا کمزوری ہوتی ہے اس کی آواز عام طور اونچی ہوتی ہے۔

کچھ ایسا ہی معاملہ ان دنوں اقتصادی علم کی کمی کی وجہ سے یہ تصور کیا جا رہا ہے کہ مبینہ سعودی غدار امریکی صورت حال کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ اس ماحول میں اوپیک کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے تعلقات عامہ کی حکمت عملی اور نظام کو جدید تر بنائے۔

کووڈ 19 کے دنوں میں جب زندگی کا پہیہ تقریبا رک سا گیا تھا تیل کی قیمتیں 20 ڈالر کی کم ترین سطح تک آ گئی تھیں، اس کے بعد سے قیمتیں مسلسل بڑھتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ ان دونوں مظاہر کا بنیادی سبب اور محرک عالمی سطح پر طلب اور رسد کے معاملات تھے۔

2014ء اور 2016ء میں تیل کی سپلائی میں سست روی ہوئی تو تیل کے شعبے میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں بھی کمی ہو گئی۔ سرمایہ کاری کی یہ کمی آئل فیلڈز سے تیل کی پیداوار پر بھی اثر انداز ہوئی کہ مسلسل سرمایہ کاری کے بغیر تیل پیدا کرنے والے آئل فیلڈز کی صلاحیت میں کمی آ گئی۔ نتیجتاً قیمتوں کو اوپر جانے کے لیے ایک طرح سے دباؤ لینا پڑا ۔

تیل کے شعبے کے وابستگان کو یہ اچھی طرح اندازہ ہے کہ تیل کے لیے سرمایہ کاری کا تقریباً پانچ سال لیتا ہے پھر جا کر سرمایہ کاری کے پھل پکنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ تیل کی دنیا میں لوگ ابھی وہی فصل کاٹ رہے ہیں جو انہوں نے 2010ء کی دہائی کے دوسرے نصف میں لگائی تھی۔

اس میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ لوگوں کے لیے تیل کی تازہ قیمتوں کے سبب مشکلات ہیں۔ لیکن یہ محض اکلوتی وجہ نہیں ہے۔ یوکرین کا تنازع اور اوپیک کی وجہ سے قیمتوں کے اضافے کا سوچنا فطری ہے ۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاستدانوں اور تبصرہ کاروں کو محض اس حد تک نہیں رہنا چاہیے بلکہ زیادہ بہتر جاننے اور سوچنے کا اہتمام کرنا چاہیے اور ہمہ پہلو انداز سبھی عوامل کو دیکھنا چاہیے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یوکرین تنازع کے دوران تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک گئی اور پھر عالمی کساد بازاری کے خوف کی وجہ سے تیل کی قیمت میں کمی بھی ہوئی۔

قیمتوں میں کمی کا رجحان ماہ جون میں شروع ہو گیا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ مغربی دنیا کی معیشتیں جن حالات سے دوچار ہیں ان کی وجہ سے عام صارفین کے لیے مہنگائی کی وجوہات اس کے علاوہ بھی ہیں۔

اس صورت حال میں شرح سود میں اضافہ بھی لازم ہے۔ جو حالات درپیش ہیں ان میں کاروباری سرگرمیاں سست ہو سکتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ اوپیک کی طرف سے تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے فیصلے سے بھی پہلے سیاہ سونے کی قیمت یوکرین تنازع سے بھی پہلے والی قیمت کی سطح تک نیچے چلی گئی تھی اور مزید نیچے کی طرف جا رہی تھی۔

اس لیے اوپیک نے درست فیصلہ کیا۔ اگر اوپیک میں تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ نہ کیا جاتا تو ایک مرتبہ پھر تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری میں کمی ہوتی۔ سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے اگلے چند برسوں میں تیل مزید مہنگا ہو نے کا خدشہ بڑھ جاتا۔ تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ سب کے لیے زیادہ بری خبر بن کر آتا۔ خصوصاً تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے پریشانی بڑھ جاتی۔

رہی بات سعودی عرب کی تو سعودی مملکت یقیناً اوپیک میں ایک اہم اور مؤثر کھلاڑی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اوپیک کے پلیٹ فارم سے تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے معاملے میں وہ روس کے ساتھ امریکہ مخالفت میں کھڑا تھا۔ یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ جیسا کہ ایران کے ساتھ اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود اوپیک کے پلیٹ فارم سے سعودی عرب تعاون کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تیل کی پیداوار میں کٹوتی کا فیصلہ امریکہ، یورپی یونین اور تیل کے تمام برآمد ودرآمد کنندگان کے طویل مدتی فائدے میں کیا گیا ہے۔

اصل چیز جو اس بارے میں تبدیلی کی کلید یہ ثابت ہوئی ہے وہ طویل مدتی سوچ ہے۔ یہ قابل فہم ہے کہ بہت سے امریکی کیوں ناراض لہجے میں ہیں۔ اس کی وجہ ان ڈیموکریٹس کے سامنے ان کے قلیل مدتی انتخابی فوائد ہیں۔

وہ اپنے ان انتخابی اور سیاسی مفادات کو عام امریکیوں طویل مدتی مفادات کے ساتھ خلط ملط کر رہے ہیں۔ یہ آج کے سیاستدانوں کے لیے ایک عمومی سی بیماری ہے۔ جو ان کے اعصاب سے متعلق ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے قیمتوں کے تعین اور افراط زر کی سطح کے بارے میں فیصلے کرتے ہوئے ان سے مایوسی والے فیصلے ہوئے۔ جب 2021 کے اواخر میں معاشی ماہرین مہنگائی میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے سودی شرح میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مگر ڈیمو کریٹس سیاستدانوں ایسا کرنے کی اجازت نہ دی اس معاملے کو التوا میں رکھنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔ ان کا ہدف 2022 میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات تھے۔ ان کی ضرورت یہ تھی کہ وسط مدتی انتخابات کے وقت معیشت کو انتہائی اعلی درجے پر رکھیں ۔

یہ غلط حساب لگانے کی وجہ سے ہوا کہ معیشت مشکل سے دوچار ہو گئی۔ لیکن چونکہ انہوں نے غلط اندازے لگائے تھے اس لیے اب انہیں شرح سود میں اضافے کی 'ڈبل ڈوز' لینا پڑے گی۔

ان غلط اندازوں کی وجہ تیل کی عالمی منڈی کے اتار چڑھاو اور معاشی مسائل سے کم علمی۔ امریکی معاشی ضروریات کے طویل مدتی اہداف سے آگاہی نہ ہونا یا جانتے بوجھتے طویل مدتی مفادات کو نظر انداز کرنے والی امریکی اشرافیہ غصہ کا اظہار کر رہی ہے۔

اس کا ایک اظہار اس سے بھی ہوتا ہے کہ سیاست اور صحافت کے وابستگان واضح طور پر معیشت کے بارے میں بہت کمزور علم کے مالک ہیں۔ ان میں برنی سینڈر ہوں یا تھنک ٹینکوں میں موجود ایسے دانشور امریکی سلامتی اور دفاع کے امور کے ماہر ہیں۔ ایسے لوگ سب سے زیادہ شکایت کرنے والوں میں شامل ہیں۔

ایک اور سبب اوپیک کی تعلقات عامہ کے شعبے میں ہمیشہ کی کمزوری ہے، جس نے اس معاملے میں شدت پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ اوپیک کی ویب سائٹ 2005 کے پرانے آثار کی نمائندہ ہے۔ حتیٰ کہ پریس ریلیز بھی ناقص ہوتی ہیں۔ اوپیک کے ارکان ملکوں نے نچلی سطح پر انتخابی مہم پر بہت کم سرمایہ لگایا ہے۔

خدشہ یہ ہے کہ اگر تیل پیدا کرنے والے کلب اپنا ابلاغی سطح پر تشخص بہتر کرنے میں ناکام رہا تو اوپیک اور عالمی معیشت دونوں کو بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

حالیہ ناراضگی کے ان عوامل کے علاوہ کچھ معاون عوامل بھی ہیں جن میں ایک نو آبادیاتی ذہنیت ہے۔ یہ ذہنیت مغربی دنیا کی خارجہ پالیسی سے متعلق حلقوں میں کافی پھیلا ہوا مسئلہ ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے بارے میں عام طور پر یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ انہیں وہی کرنا چاہیے جو انہیں کہا جائے۔

سمجھنے کی چیز یہ ہے کہ معاشی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جبکہ معاشی تعلیم کے حوالے سے فرق زیادہ ہے۔ امریکہ کے لیے اس صورت حال تیل کی منڈیوں کو لیکچر دینے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ کچھ سیکھ لے کہ یہ کچھ سننے اور سیکھنے کا وقت ہے۔ ممکن ہے اس اپروچ کے ساتھ وہ کچھ بہتر سیکھ سکے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں