نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

بات امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں جوہری معاملے پر کرنا ہے۔ پہلے کچھ ذکر میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کا ہو جائے۔ کیونکہ دونوں کے درمیان ایک نئی مماثلت سامنے آئی ہے۔ میاں شہباز شریف کا ذکر مریم نواز شریف کے حوالے سے جو قومی اسمبلی کی آٹھ اور صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں کے ضمنی انتخاب کی مہم کے مکھن سے خود کو بال کی طرح نکال لے گئیں۔ بعد ازاں ان کی اور ان کے ابا کی جماعت بھی ضمنی انتخابی نتائج کے مکھن سے بال ہی کی طرح نکل گئی۔

چند ماہ پہلے کی بات ہے جب مسلم لیگ نواز کی اصلی اور مالک قیادت یعنی میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی پاک فوج اور فوجی قیادت کے بارے میں اور طرح سوچ رہی تھیں۔ ان سموں میں مریم نواز شریف کے فوج اور اس کی قیادت کے بارے میں تندوتیز بیانات کے بارے میں ایک ان گھڑے قسم کے صحافی نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے پوچھ لیا۔ مریم نواز فوجی قیادت کا اس برے پیرائے میں کیوں ذکر کرتی ہیں؟

وزیر اعظم میاں شہباز شریف جو خود بھی سٹیج پر کبھی ذوالفقار علی بھٹو کی لہر میں اور کبھی حبیب جالب کی بحر میں ایسا گرج اور برستے رہے ہیں کہ یہ تک بھول جاتے رہے ہیں کہ جس بھٹو کے اسلوب میں وہ فن خطابت کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ اسی بھٹو کے داماد کا نشانہ لے رہے ہیں۔ بہر حال اس ان گھڑے صحافی کو میاں شہباز شریف نے یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ وہ کبھی کبھی شعلہ بیانی کر جاتی ہیں۔ یوں وزیر اعظم نے کمال ہوشیاری سے معاملہ ٹھنڈا کر دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے بھی کچھ ایسا ہی کہا اور کیا ہے۔ البتہ انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن کے پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں بیان پر بطور وزیر خارجہ اپنے رد عمل میں کہا اور کیا ہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بڑے دھیمے سے لہجے میں پاکستان اور پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں امریکی صدر کے بغض کو یہ کہہ کرقوم کو چپ رکھنے کی کوشش کی ہے کہ صدر جو بائیڈن کی غیر رسمی گفتگو تھی ان کا مقصد یہ نہیں تھا۔

'خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا' ۔ غالب کا یہ مصرع جو بائیڈن اور بلاول دونوں کے کذب کے بارے میں صادق آتا ہے۔ معاملہ چونکہ بار بار ڈسے جانے کا ہے لہذا اعتبار مشکل ہے۔ اس لیے امریکہ کے وائٹ ہاوس میں بیٹھی سیاہ فام ترجمان کیرین ژاں پٔیر کا اس کے بعد یہ بیان 'صدر جو بائیڈن نے جو کہا ہے اس میں کوئی نئی بات نہیں۔' مل ملا کر سرمئی سا تاثر پیدا کر گیا ہے۔ جسے آج کی دنیا میں ' گرے' کہا جاتا ہے۔ جو نہ تیتر ہوتا ہے نہ بٹیر، نہ سیاہ ہوتا ہے نہ سفید۔

وہی جس میں( امریکہ بہادر نے 'وایا بٹھنڈا ' ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو ایک طویل عرصے سے پھنسا رکھا ہے) گویا پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں امریکہ کی یہ شعوری طور پر اختیار کردہ رائے ہے۔ خاکم بد ہن امریکہ نے ہمارے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہمیں مستقلا 'گرے لسٹ' میں رکھا ہوا ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ وائٹ ہاوس کے ذریعے اپنی سفید شناخت پر فخر کرنے والا امریکہ مجموعی طور خود کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سرمئی ملک کہلانے کے لیے سب سے زیادہ میرٹ پر آنے والا ملک ہے۔ عالمی سطح پر پیش آنے والے واقعات اور ان کے بارے میں امریکی موقف ایک وقت میں ایک اور دوسرے وقت میں دوسرا ہو جاتا ہے۔ ایک ہی موضوع کے امور ہوں یا واقعات امریکہ ایک ملک کے بارے ایک رائے ظاہر کرتا ہے اور دوسرے کے بارے میں دوسرا موقف۔ یہی وجہ ہے امریکہ یہ حق رکھتا ہے کہ اسے ایک سرمئی ملک کہا جائے۔

اسی لیے صدر جو بائیڈن کے دماغ میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں تشویش والی فائل اس کے باوجود کھل گئی کہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے "آئی اے ای اے" کی 2019 تک جوہری پروگراموں کے حوالے سے سامنے آنے والی 3686 مرتب کردہ خلاف ورزیوں اور شکایات میں سے ایک بھی شکایت یا خلاف ورزی پاکستان کے حوالے سے نہیں ہے۔ (بحوالہ سینیٹر جنرل (ر) عبدالقیوم) لیکن 80 سال کو چھونے والے صدر جو بائیڈن کو اس کے باوجود اپنے ذہن میں پاکستان کے جوہری پروگرام کی ترتیب کا توازن درست نہ ملا۔

یہی نہیں جو بائیڈن کے برسر اقتدار آنے کے بعد کم از کم دو مرتبہ بھارت میں یورینیم کی چوری اور بھارت سے یورینم کی سمگلنگ کی کوشش کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے اب تک کا آخری واقعہ مئی 2021 میں سامنے آیا۔ جب بھارتی ریاست مہاراشٹر کو اطلاع ملی کہ انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ نے اشن پانڈیہ اور اس کے ساتھی کو ممبئی کے مضافات سے حراست میں لیا ہے۔ ان دونوں سے سات کلو گرام یورینم برآمد کی گئی۔ دونوں ملزمان بھارت کے اندر یورینیم کے نجی شعبے میں گاہک تلاش کر رہے تھے۔

مگر سفید فاموں سے منسوب وائٹ ہاوس کے مکین صدر جو بائیڈن نے بھارتی جوہری توانائی سے جڑے اس واقعے کا کوئی نوٹس نہ لیا۔ صدر جو بائیڈن نے کوئی تشویش محسوس کی اور نہ ہی کوئی بیان جاری کیا۔

اسی بھارت میں، ماہ مئی سے دو ماہ قبل یعنی ماہ مارچ میں بھارت سے یورینیم سمگل ہو کر نیپال پہنچنے والی اڑھائی کلو یورینیم قبضہ میں لی گئی۔ معلوم ہوا کہ اس سمگلر پارٹی میں ایک بھارتی خاتون بھی شامل تھی۔ یورینیم کی بھارتی سمگلر خاتون کے مطابق اس کے سسر بھارت کے جوہری پروگرام سے متعلق ادارے میں گزشتہ دو عشروں سے کام کر رہے تھے۔ یورینم کی اس چوری اور سمگلنگ کی کوشش میں انہی کا کردار اہم تر تھا۔ لیکن نیپالی فورسز نے انہیں سرحد عبور کرنے کے بعد گرفتار کر لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی صدر کو بھارت میں یورینیم کی اس چوری اور سمگلنگ کے واقعے پر بھی تشویش میں نہ دیکھا گیا۔

خود امریکہ کی اپنی تاریخ جوہری حوالے سے دنیا کی بری تاریخوں میں سب سے نمایاں ہے۔ 1945 میں جب اقوام متحدہ کی تشکیل کا مرحلہ قریب تر تھا اور امریکہ کے زیر قیادت دنیا اقوام متحدہ کے تصور کے ساتھ اگلے لائحہ عمل کی تیاری میں مصروف تھی۔ کہ اقوام متحدہ کی تشکیل سے محض اڑھائی ماہ قبل امریکی صدر ٹرومین نے 6 اگست 1945 کو جاپان میں ہیرو شیما پر ایٹم بم گرانے کا حکم دے دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس کے بعد شاید دنیا کا سب سے زیادہ تباہی پھیلانے والا ہتھیار چلانے میں کچھ دقت آ جائے۔

یہ نہیں کہ اس 6 اگست 1945 کے بعد امریکہ میں کوئی انسانیت جاگ گئی۔ امریکی کابینہ میں کوئی بغاوت ہو گئی۔ عوامی سطح پر انسانیت دوستی کے جذبے نے کوئی ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ کوئی شرمندگی ہوئی نہ پچھتاوا ۔ بلکہ 9 اگست کو ناگا ساکی پر ایٹم بم مار گرایا گیا۔

ممکن ہے اقتدار میں جانے والے کا معاملہ زیادہ سنگین ہو جاتا ہے مگر امریکہ کے شروع سے انسان دوست عوام، معاشرے اور اداروں نے بھی ٹرومین کے حکم پر ہونے والی انسانی تباہی کا برا نہیں منایا بلکہ اسی صدر ٹرومین کو 1952/ 1953 تک اپنے ملک کے وائٹ ہاوس میں بیٹھنے کے لیے سب سے زیادہ اہل مانا۔ ایسا نہیں کہ وہ رجعت پسند آدمی یا رجعت پسند جماعت سے تعلق رکھتے تھے بلکہ وہ بھی صدر جوبائیڈن کی طرح پکے 'ڈیموکریٹ، لبرل ، ترقی پسند ، روشن خیال اور انسان دوست' تھے۔

صدر جو بائیڈن چونکہ عمر کے اس حصے میں ہیں جس میں ایک خاص ذہنی کیفیت کی وجہ سے سوئی جہاں اٹک جائے پھر وہیں اٹکی رہتی ہے۔ اس میں انسانی جسم ہی نہیں بعض لوگوں کے دل اور دماغ بھی کافی حد تک کمزور ہو جاتے ہیں۔ قوت تخیلہ اور قوت فیصلہ تو درکنار قوت گویائی اور قوت سماعت سب متاثر ہونے لگتی ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے امریکہ کے 1950 کی دہائی سے لاپتہ ہو چکے ' وار ہیڈز ' کو نظر انداز کر کے صرف پاکستان پر فوکس کیا۔ حالانکہ چند ماہ قبل بھارت کے اس میزائل کے بارے میں بھی اظہار تشویش کر سکتے تھے جو بھارت کی طرف سے غلطی کے ساتھ پاکستان کے علاقے میں آگرا تھا۔ مگر سوئی اڑ جانے والا معاملہ جو بائیڈن کے ساتھ تو ہو سکتا ہے پورے امریکہ کے ساتھ تو نہیں کہ جس امریکہ کے بارے اس کی ترجمان کیرین ژاں پئیر نے خبر دی ہے کہ صدر جو بائیڈن نے کوئی نئی بات تو نہیں کہی ہے۔

مگر ان کا سارے کا سارا نزلہ پاکستان پر ہی گرنے کی صورت ممکن ہوئی۔ اس پاکستان پر جس کا جوہری پروگرام بین الاقوامی سطح کے تمام سٹینڈرز پر پورا اترتا ہے۔ جس کے سکیورٹی، سیفٹی اور آپریٹرز سے متعلق تمام امور بین الاقوامی جوہری ادارے کے معیارات کے مطابق ہیں۔ صرف یہی نہیں بین الااقوامی ادارہ 'آئی اے ای اے' پاکستان کے جوہری ادارے کے ساتھ مل کر دنیا بھر کے لوگوں کی تربیت کرتا ہے اور دونوں اس ناطے جوہری معاملات میں تربیتی شراکت دار ہیں۔

لیکن پھر بھی صدر جو بائیڈن کا گلہ پاکستان سے ہے۔ ان کے خیال میں پاکستان ایک خطرناک ملک ہے۔ بہتر ہوتا کہ اگر امریکی جوہری وار ہیڈز کی گمشدگی کے واقعات کی تفتیش وتحقیق کے بارے میں جان کاری کر لیتے کہ بات کہاں جا کر رک گئی تھی۔

ممکن ہوتا اسرائیل جو اعلان کے بغیر ہی جوہری بموں کے 50 سے 60 دانے چھپا کر بیٹھا ہوا ہے اس کی طرف دیکھ لیتے۔ اسرائیل میں سیاسی عدم استحکام کا مسئلہ ہمیشہ سنگین رہتا ہے۔ آج تک شاید ہی اسرائیلی حکومت اپنی مدت پوری کر سکی ہے۔ وہ اسرائیل جس کی فوج گلی کوچوں اور چوک چوراہوں پر ہر روز فلسطینیوں کی جانیں لیتی ہے۔ اس کے جوہری پروگرام پر نظر ڈال لیتے۔ کہ ایسا ملک جو اپنے ہر ہمسائے کے ساتھ لڑائی میں رہ چکا ہے، اس کے ہاتھ میں جوہری ہتھیاروں کا ہونا کیسے خطرناک نہیں ہوسکتا۔

مگر جس طرح میاں شہباز شریف مریم نواز کی شعلہ بیانی کے بارے میں بردبار، بلاول بھٹو جو بائیڈن کے حق میں نرم خو اور جو بائیڈن کچھ ملکوں کے بارے میں خوامخواہ زبان دراز۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size