ہائے یہ کھلونا

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

آج لکھنا تو اپنے پیارے وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لیے تھا ۔ جس کے لیے ہم سب کے بڑوں نے قربانیاں دی تھیں۔ ہجرتیں کی تھیں ۔ عزتیں لٹائی تھیں۔ لیکن کیا کیا جائے کہ پچپن اور بچپن میں معمولی سا ہی فرق ہوتا ہے۔ جب انسان پچپن کا ہو جاتا ہے تو پھر بچپن کی طرف پلٹ پلٹ کر دیکھتا ہے۔ پرانی باتوں کو یاد کرتا ہے۔ بچپن کی یادوں میں کھویا رہتا ہے۔ ایسے ہی حالات میں کھلونے یاد آنے لگتے ہیں۔

کیوں نہ یاد کریں ۔ کھلونا ہمیشہ مزے کی چیز ہوتا ہے۔ مزے کرنے کی چیز بھی ۔ خوبصورت بھی، رنگ برنگا بھی ، پیارا بھی اور ضروری بھی ۔ یہ کبھی دن دکھاتا ہے کبھی رات۔ کبھی ہنساتا ہے کبھی رولاتا ہے۔ کبھی سورج دکھاتا ہے ، کبھی چاند ، کبھی ستاروں کی کہکشاں اور کبھی دن میں تارے۔ کبھی چلتا ہے کبھی رکتا ہے۔ کھلونا دلچسپ بھی ہوتا اور عجیب بھی۔

مگر اس کے ساتھ عجیب معاملہ یہ ہر کسی کو محبوب تر بھی ہوتا ہے اور گاہے مغضوب تر بھی یہی ٹھہرتا ہے۔ ضد ہی نہیں بعض اوقات لڑ جھگڑ کر اسے حاصل کرنے والے بچے بھی طیش میں آکر اپنے اسی پیارے اور نہایت بیش قیمت کھلونے کو خود ہی توڑ دیتے ہیں۔

کبھی زمین پر دے مارتے ہیں ، کبھی ایک دوسرے سے ایسی کھینچا تانی کرتے ہیں کہ ان کے باہم دست و گریبان اور گتھم گتھا ہونے سے پہلے ہی کھلونا ان کی زور آزمائی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ یوں اس کی ہستی سے نیستی میں بدل جانے کا خطرہ کسی بھی وقت کوئی بھی پیدا کرسکتا ہے۔ کبھی کبھار یہ بچوں کے ہاتھوں خطرے کی زد پر آجاتا ہے اور کبھی کبھار 'نکے کے ابا حضور' بھی شوق ہی شوق میں اسے توڑ پھینکتے ہیں۔

اس کی کہانی بھی اس کی طرح عجیب ہے۔ اس سے ہمیشہ کھیلا جاتا ہے اور' انھے واہ ' کھیلا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ سلوک مستقل روش بن جائے تو پھر یہ صرف یادوں کے نقشے میں یا کچھ تصویروں کی کہانیوں میں کبھی کبھی نظر آجاتا ہے۔ حقیقت میں نظر آنے کی پوزیشن میں نہیں رہ پاتا۔

ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کو اپنے ہاتھ یا کنٹرول میں رکھنے کی کوشش ، کشمکش اور کھینچا تانی میں بدل جاتی ہے۔ ایک بچہ دوسرے سے اسے چھینتے چھینتے توڑ ڈالنے کی بھی پرواہ نہیں کرتا ۔ کبھی کبھی تو یہ ظالمانہ آوازہ سننے کو ملتا ہے کہ نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے۔

پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات یہ تو نہیں ہوتا کہ اس کی ہستی ہی باقی نہ رہے اور مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے ۔ لیکن یہ ضرور ہوجاتا ہے کہ سب کے دلوں کو لبھانے والا یہ کھلونا کم از کم اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ یہ مکمل نہیں رہتا ۔

اسے ہر کوئی ادھورا محسوس کرنے لگتا ہے۔ کبھی دو لخت ہوتا ہے تو کبھی لخت لخت ہونے کی حالت کے قریب چلا جاتا ہے۔ بظاہر یہ اس سے محبت کرنے والے سب بچے اس کی محبت میں ہی سب کچھ کر رہے ہوتے ہیں۔ کئی تو رو رو کر ہلکان بھی ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن سچی بات یہ کہ اس میں ساری محبت اس کھلونے سے زیادہ اپنی گیم ڈالنے سے ہوتی ہے کہ کھلونا کسی اور کے پاس نہ جائے۔ کوئی اور اس سے نہ کھیلے۔

کھلونا دیکھنے میں تو بڑا خوبصورت ہوتا ہے ۔ مگر اس کی قسمت ہمیشہ دوسروں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ کبھی کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں ، کبھی اناڑیوں کے ہاتھوں میں اور کبھی 'جواریوں' کے ہاتھوں میں۔ یہ کھلونا شروع سے ہی دیکھا ہے یہ کسی کے بھی ہاتھ میں اس کی قسمت کا مالک کوئی اور ہی ہوتا ہے۔

نہ جانے کیا وجہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اس سے محبت کے دعوے کی مالا جپنے والے اس کی سلامتی کے لیے اس کی چھینا جھپٹی سے گریز کرتے ہوئے کہہ دیں کہ بھائی تم لے لو مگر اسے توڑو نہیں۔ یہ بڑی مشکل سے ملا تھا۔ ایک دوسرے سے کٹی ہوجاتے ہیں، ایک دوسرے کے بال کھینچتے ہیں۔ آنکھیں تک نوچ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کھلونا کسی دوسرے کے پاس نہ چلا جائے۔ ایک کو دھکا دیتے ہیں، دوسرے کو ساتھ ملاتے ہیں۔ نہ جانے کیا کیا جتن کرتے ہیں، بس وہ نہیں کرتے جو اس کھلونے کی سلامتی کے لیے ضروری ہوتا ، اہم ہوتا ہے ، لازم ہوتا ہے۔

بد قسمت کھلونے کے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا ۔ جیسا ایک زمانے میں ایک بچے کی ماں ہونے کی دعوے دار دو عورتیں سامنے آگئی تھیں۔ پھر یہ مقدمہ خلیفہ کے پاس پیش کیا گیا۔ خلیفہ نے دونوں عورتوں کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا کہ اس بچے کے جسم کے درمیان سے دو ٹکڑے کردیے جائیں۔ ایک ٹکڑا ایک 'ماں ' لے جائے اور دوسرا ٹکڑا دوسری' ماں' لے جائے۔ یعنی ادھر والا اس 'ماں 'کا ہو جائے گا اور ادھر والا اس 'ماں' کے سپرد کر دیا جائے گا۔

یہ سن کر بچے کی جھوٹی دعوے داری والی 'ماں ' تو فٹا فٹ راضی ہو گئی۔ مگر اصلی ماں کی ممتا کویہ کیونکر قبول ہو سکتا تھا ؟ کہ اس کے نور نظر کو اس کے سامنے دولخت کر دیا جائے۔ اس نے کہا ۔ مجھے نہیں چاہیے۔ یہ بچہ میرے مقابل مقدمہ لڑنے والی عورت کو ہی دے دیا جائے۔ یہ اسی کا ہے میرا نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک ممتا کا جذبہ تو یہ ہوسکتا ہے لیکن ایک کھلونے سے کھیلنے والے اور طویل عرصے سے کھیلتے چلے جانے والوں کا یہ انداز نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ تو ان کے لیے کوہ نور کا ہیرا ہے۔ ان کے تخت و تاج کا استعارہ ہے۔ وہ کیسے اس کی فکر کو اپنے جاہ و جلال کی فکر سے زیادہ اہم قرار دے سکتے ہیں ۔

وہ اس کھلونے کو ایک بار پھر توڑ تو سکتے ہیں دوسرے کو نہیں دے سکتے ۔ ہاں انہیں یہ بھی قبول ہو سکتا ہے کہ کھلونا توڑ کر کئی حصوں میں بانٹ دیا جائے اور سب میں اس کے پرزے اور پارچے بانٹ دیے جائیں۔ تاکہ سبھی اپنے انداز سے اس کھلونے کے ساتھ کھلواڑ جاری رکھ سکنے کا لطف اٹھا سکیں۔ سکون پا سکیں۔ کھل کر کھیل سکیں اور کھل کر کھا سکیں۔

اللہ نے زندگی رکھی تو پاک وطن اور پاک سرزمین کے بارے میں پھر کبھی لکھیں گے۔ ہو سکتا ہے سولہ دسمبر کو ہی لکھیں۔ اس روز میرے پاک وطن کو بھی اسی کھلونے کی طرح توڑا گیا تھا۔ وہ چلن تو آج بھی جاری ہے۔ بس ناموں کا ادل بدل ہوا ہے کھیل تو وہی کھیلا جا رہا ہے۔ ادھر اور ادھر کی تقسیم کے داعیان بھی ہیں۔ ہوس کے مارے ہوئے بھی۔ نشہ اقتدار کے پکے عادی ، بہت منظم بھی اور غیر منظم بھی۔ تو فی الحال کھلونے کے ساتھ جاری کھیل کو دیکھیں ۔ پاک وطن کا ذکر پھر کبھی سہی۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں