السودانی اورخلیج

عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق تاریک سرنگ سے باہر نکلنے اور معمول کی صورت حال میں داخل ہونے کے لیے ہم سب کی حقیقی خواہشات کا مستحق ہے۔ہم صرف یہ امید کر سکتے ہیں کہ حالیہ سیاسی تبدیلی ملک کے دکھ درد کے اُس طویل سفرکے خاتمہ کا پیش خیمہ ہوگی جو صدام حسین کے عروج سے شروع ہوا تھا جنھوں نے اس ملک کوفضول اوربے کارکی جنگوں میں گھسیٹا اور جس نے آج خطے کو درپیش بہت سے بحرانوں کے بیج بوئے ہیں۔

آج عراق کی حکومت کے سربراہ محمد شیاع السودانی ہیں، جو پارٹی بازی ،متعصبانہ اور سیاسی کاموں کی طویل تاریخ کے باوجود ایک کم معروف شخصیت ہیں۔ ان کے جاننے والوں کاکہنا ہے کہ انھیں منظرعام میں رہنے میں بہت کم دلچسپی ہے، جس کی وجہ سے عراق کی سیاست میں آنے والے مرحلے کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

افواہوں گرم ہیں کہ عراق کے نئے وزیراعظم ایران کے قریب ہیں مگر حقائق سے پتاچلتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے قریب ہے جو ایران سے قریب ترہیں۔اس کے باوجود،یہ معاملہ اس طور پر لیبل کرنے کے لیے کافی نہیں ہونا چاہیے۔آخرکار،السودانی آج عراق کے وزیراعظم ہیں، جو ایک اہم اور بڑا عرب ہمسایہ ملک ہے۔

داخلی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے اور ریاست کے نظم ونسق اور انتظامی میکانزم کو مضبوط بنانے کے ان کے وعدے امید کی ایک کرن ہیں جو عراق کو کامیابی کی طرف بڑھتے ہوئے اور بیرونی اتھل پتھل اوردھاروں سے دور دیکھتے ہیں۔

عراق کے نئے وزیراعظم محمد شیاع السودانی۔
عراق کے نئے وزیراعظم محمد شیاع السودانی۔

عراق ایک غریب ریاست ہے جس میں ایک امیر حکومت ہے۔100 ارب ڈالر کے بجٹ کے ساتھ، السودانی کی حکومت ملک کی تاریخ میں سب سے امیر ہے۔وزیراعظم کو اس چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا کہ کرپشن میں گھرے ہوئے اس بجٹ کو کس طرح خرچ کیا جائے لیکن پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے۔ملک بہت سارے مسائل کا شکار ہے۔ یہ شیعہ اور سنی ملیشیاؤں کے درمیان آویزش سے شروع ہوتے ہیں ۔یہ مسلح ملیشیائیں ریاستی اختیار سے باہرہیں اورجنگل کے قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتی ہیں۔ پھر وسیع پیمانے پر بدعنوانی ہے جو ریاست کو دہشت گردی سے کہیں زیادہ مفلوج کردیتی ہے، غیر ملکی مداخلتیں ہیں جو طفیلی کیڑے مکوڑوں کی طرح ابھرکر سامنے آتی ہیں اور مرکزی اتھارٹی کی کمزوری کومہمیز دیتی ہیں۔

صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کو 20 سال ہونے کو ہیں اورامریکا کو عراق سے گئے 10 سال ہونے والے ہیں، لیکن عراق کو ابھی ایک لمبا سفر طے کرنا ہےاور اسے سلامتی، سیاسی استحکام اور اچھی حکمرانی حاصل کرنے اور تعمیرِنو شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

جہاں تک بیرونی دباؤ اور غیر ملکی انحصار کے معاملے کا تعلق ہے تو کوئی بھی یہ توقع نہیں کر سکتا کہ نئے وزیراعظم اور قیادت عراق کو سعودی عرب، ایران یا امریکا کی گود میں ڈال دے گی۔ ایک مکمل طور پر خود مختار عراق عراقیوں اورعام طور پر خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔ بہرحال، خودمختاری کا فقدان لبنان، فلسطینی اتھارٹی، صومالیہ اور دیگر ریاستوں کی مسلسل ناکامی کی بنیادی وجہ رہا ہے۔

سبکدوش ہونے والے صدر برہم صالح نے کہا:’’میں عراق کی جدید تاریخ کا نواں صدر ہوں، اور ہم سب، صدور اور وزرائے اعظم، جب ہماری مدت ختم ہوئی تو اپنے گھروں کو چلے گئے، جیل میں نہیں، جو عراق میں ہمارے لیے بہت معنی رکھتا ہے‘‘۔

جہاں تک خارجہ امور کا تعلق ہے تو بغداد خلیج میں تناؤ کو کم کرنے اور شام کے بحران یا یہاں تک کہ ترکی کے ساتھ بھی اپنی جغرافیائی سیاسی حیثیت اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ منسلک معاملات کو دیکھتے ہوئے علاقائی سطح پر مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔ یا، کم سے کم،وہ ایک غیرجانبدار مؤقف اختیار کرسکتا ہے۔جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ تو کیاعراق کا نیا وزیراعظم ایک ایسے اہم کردار کی بنیاد رکھ سکتا ہے جو ایک خوش حال اور مستحکم خطے کی طرف حوصلہ افزائی کرے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کالم پہلے پان عرب روزنامہ الشرق الاوسط میں شائع ہوا تھا اور اس کا ترجمہ یہاں قارئینِ اردو کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں