سعودی عرب کی چین پالیسی امریکا کی وضع کردہ ہے؟

پروفیسر برنارڈ ہیکل
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

صدر شی جِن پنگ کا دسمبر میں سعودی عرب کا دورہ چین اور مملکت کے درمیان مضبوط گہرے تعلقات میں مزید پیش رفت کی نشان دہی کرے گا۔ چین آہستہ آہستہ اوراحتیاط سے ایران اور سعودی عرب دونوں کا ایک اہم اقتصادی شراکت دار بن کرمملکت اور وسیع ترخطے میں اپنے مفادات اور اثرورسوخ کو آگے بڑھارہا ہے۔اس نے ہتھیاروں کے ایسے نظام مہیّا کرنے کے ذریعے پورے خطے میں خود کو تزویراتی شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کے مواقع بھی تلاش کیے ہیں جوامریکا اپنے خلیجی اتحادیوں تک کو بھی مہیاکرنے سےانکارکرتا ہے ، جیسے مسلح ڈرون۔پورے خطے میں اپنے معاشی اور فوجی تعلقات کو فروغ دے کراورانھیں گہرا کرکے چین نے طاقت کے علاقائی ثالث کارکی حیثیت سے امریکاکی پوزیشن کواس حد تک کم کردیا ہے کہ ایک دہائی پہلے بھی ایسا قابل ذکر معلوم ہوتا تھا۔

بحری قزاقی سے لڑنے کی آڑ میں بیجنگ نے 2017 میں جیبوتی میں اپنا پہلا غیر ملکی فوجی اڈا قائم کیا تھا۔ نتیجتاً چین اب بحیرۂ احمراورمغربی بحر ہند میں ایک کھلاڑی بن چکا ہے۔حال ہی میں چین کے بارے میں پتاچلا ہے کہ وہ ابوظبی میں دہرے مقاصد کی حامل ایک سمندری تنصیب کی تعمیرکررہا تھا لیکن جب امریکا نے اس پرشدید احتجاج کیا تو اس نے اس کوترک کر دیا تھا۔ سعودی عرب میں چین یورینیم کی کان کنی اور بیلسٹک میزائلوں اور فوجی ڈرونز کی تیاری میں شریک ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ویژن 2030 سے وابستہ بڑے پیمانے پر معاشی منصوبوں میں بھی اہم کردارادا کرے گا۔سعودی ویژن ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کے ملک کی معیشت کو تیل کی آمدن پر انحصارکم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس بات کی قوی افواہیں ہیں کہ صدر شی اور ایم بی ایس جلد ہی اعلان کریں گے کہ چین بحیرہ احمرپرایک بڑی تنصیب تعمیر کرے گا۔

سعودی عرب میں چینی اثرورسوخ کی یہ قابل ذکر توسیع کیسے ہوئی ہے؟ جبکہ سعودی عرب امریکا کا دیرینہ اتحادی اور کمیونزم اور اسلامی دہشت گردی کے خلاف جنگوں میں شراکت دار ہے،وہ اب تیزی سے کمیونسٹ بیجنگ کو ایک تزویراتی شراکت دار کے طور پرکیوں دیکھ رہا ہے؟

ایک طرف سعودیوں (اور دیگرخلیجی ریاستوں) کے لیے چین کے ساتھ تعلقات کی بڑھتی ہوئی اہمیت ناگزیرہے۔ بیجنگ خطے کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار ہے۔وہ خلیجی تیل کی پیداوار کا بڑا حصہ بھارت، جنوبی کوریا اور جاپان جیسے دیگرایشیائی اور مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ درآمد کرتا ہے۔ دریں اثنا، سعودی عرب جیسے ممالک بڑی مقدارمیں چینی ساختہ مصنوعات درآمد کرتے ہیں۔الیکٹرانکس اوردیگر سامان کے ساتھ تیل کی تجارت صرف دونوں خطوں کے درمیان ایک قدرتی اورباہمی فائدہ مند اقتصادی تعلقات ہے۔

دوسری جانب جی سی سی کی دیگرریاستوں کی طرح سعودی عرب بھی تاریخی طور پرفوجی سلامتی، ثقافتی اور تعلیمی اثر و رسوخ کے ساتھ ساتھ مالی بہاؤ اور سرمایہ کاری کے حوالے سے امریکا کی طرف مائل رہا ہے۔ سعودی عرب کا زیادہ تر حصہ امریکی کمپنیوں نے تعمیر کیا تھا۔ سعودی اسپتالوں میں زیادہ ترامریکی تربیت یافتہ ڈاکٹروں کا عملہ موجود ہے۔ آرامکو کا انحصار امریکی انجینئرز پر ہے۔ سعودی طالب علم امریکی اسکولوں میں زیرِتعلیم ہیں۔ انفرادی سعودیوں اور امریکیوں کے مابین تعلقات نے کئی دہائیوں سے طویل دوستی اور ذاتی گرم جوشی مزید گہرا کیا ہے۔

تاہم آج جو چیزقابلِ ذکر ہے وہ یہ کہ چین جس تیزی کے ساتھ ان علاقوں پرقبضہ کر رہا ہے اور امریکا کو بے دخل کر رہا ہے،اس رجحان کی وضاحت کے لیے ہمیں امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دو دہائیوں سے جاری کشیدگی پرنظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ یہ تناؤ نائن الیون کے حملوں کے فوراً بعد شروع ہوا جب جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے عراق پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔اس فیصلے کی الریاض نے صحیح طور پر مخالفت کی۔اس نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اس کی وجہ سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوگا اور عراق پر ایرانی غلبہ کے امکانات ہوں گے۔ تاہم ، الریاض نے امریکیوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ وہ 9/11 پر امریکا پر حملہ کرنے والے سعودی شہریوں سمیت دہشت گردوں کی کسی بھی طرح سے حمایت نہیں کرتا ہے۔

اس کے بعد صدر براک اوباما نے ایسی پالیسیاں متعارف کرائی تھیں جن سے سعودیوں کو شدید خطرات لاحق تھے۔ وہ یہ تھیں:

نمبر1، امریکا کی ’’ایشیا کی طرف محور‘‘کی پالیسی، چین کے چیلنج پر توجہ مرکوز کرنا اور اس کے نتیجے میں خطے میں امریکا کی شمولیت کو کم کرنا۔
نمبر2، مصر کے صدر حسنی مبارک جیسے دیرینہ،مگرآمرمطلق ایسے اتحادیوں کوحمایت ترک کرنا اورپورے خطے میں اقتدار کے حصول کے لیے الاخوان المسلمون کی حمایت کرنا۔ اور

نمبر3، ایران کے ساتھ جوہری معاہدے مشترکہ جامع لائحہ عمل (جے سی پی او اے) پرزور،اس پرالریاض کی پیٹھ کے پیچھے بات چیت کی گئی تھی۔

اس کے بعد صدر ڈونالڈٹرمپ آئے،انھیں الریاض میں اوباما سے بہتر سمجھا جاتا تھا، کم سے کم ایران اور اسلام پسندوں کے خلاف ان کی دشمنی کی وجہ سے نہیں۔اس کے باوجود ٹرمپ نے ستمبر 2019 میں سعودی عرب کی تیل تنصیبات پرایران کے حملے کے خلاف جوابی کارروائی سے گریز کیا جس سے سعودیوں کو مایوس ہونا پڑا۔

گذشتہ دو سال کے دوران میں،سعودیوں کو صدر جو بائیڈن کے ساتھ مقابلہ درپیش ہے۔انھوں نے بار بارسعودی عرب کی قیادت کی توہین کی ہے، ایم بی ایس کو ذاتی طور پرناپسند کیا ہے اورعوامی طور پر انھیں خارج کرنے کی کوشش کی ہے۔اس دشمنی کی ظاہری وجہ سعودی عرب کا انسانی حقوق کاریکارڈ بتایا جاتا ہے۔لیکن سعودی اسے ایک چنیدہ ہدف کے طورپردیکھتے ہیں،کیونکہ بائیڈن کے بھارت کے وزیر اعظم نریندرمودی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جن کا انسانی حقوق کا ریکارڈ اتنا ہی خراب ہے۔ جولائی میں بائیڈن کے جدہ کے دورے کا مقصد تناؤ پرقابو پانا تھا،لیکن اس کے بعد سے صدراور ڈیموکریٹک پارٹی کے رہ نماؤں نے تیل کی پیداوار میں کمی کے اوپیک پلس کے فیصلے کی وجہ سے اکتوبرمیں تادیبی کارروائی کی دھمکی دی تھی اور اس طرح دھمکی آمیز بیانات کے ذریعے مملکت کے لیے اپنی دشمنی میں اضافہ کیا ہے۔نیزکانگریس کے ڈیموکریٹس ارکان نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت اور فوجی تربیت کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ سعودی عرب کسی زمانے میں امریکا کی ’’صارف‘‘ریاست رہا ہو۔ یہ سامراجیت کی اصطلاح ہے، لیکن اب وہ اپنے آپ کو اس طرح نہیں دیکھتا۔ آج، یہ ممالک کے جی -20 گروپ کا ایک رکن ہے اور تیل کے نام نہاد مرکزی بینک اوپیک پلس کاڈی فیکٹو ڈائریکٹر ہے۔ سعودی اپنی تیل پالیسی کو ایک خودمختار معاملہ کے طور پر دیکھتے ہیں اوراس کا مقصد دواہداف کو پورا کرنا ہے:توانائی کی عالمی منڈیوں کو مستحکم کرنا اور معاشی ترقی اور تنوع کے قومی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے آمدنی پیدا کرنا۔

سعودی امریکا میں کسی ایک سیاسی جماعت کو انتخابات میں فتح یاب ہونے میں مدد دینے کے لیے تیل نہیں نکالتے ہیں، اور یقینی طور پراپنے ترقیاتی اہداف کی قیمت پربھی نہیں۔ ایک پھلتی پھولتی معیشت اور دنیا کے سب سے بڑے خودمختاردولت فنڈز میں سے ایک کے ساتھ ، سعودی امریکی سیاست دانوں کی’ لات ماری ‘روش سے تنگ آچکے ہیں جو طویل مدت کی تزویراتی شراکت داری کی قیمت پر قلیل مدتی انتخابی مفادات اور پالیسیوں کوآگے بڑھانے کے لیے سخت محنت کرتے نظرآتے ہیں۔

لہٰذ،ایہ کوئی تعجب خیزامرنہیں کہ سعودی تزویراتی اور عسکری طور پرمتنوع ہورہے ہیں اور چین اس کوشش میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے جو سعودی قومی مفاد کا واضح اظہار ہے۔جس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے وہ یہ ہے کہ سعودیوں کے ساتھ نتیجہ خیز طورپردوبارہ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، دونوں امریکی سیاسی جماعتوں کے رہ نما ایک قابل قدراتحادی کو عالمی حریف کی بانہوں کی طرف دھکیلنے میں فخرمحسوس کرتے نظرآتے ہیں حالانکہ دونوں ممالک کی مفید تعمیری تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔امریکا کی عجیب وغریب اورتیزی سے خود کو تباہ کرنے والی پالیسیوں کے پیچھے جو بھی وجوہات ہیں، آپ شرط لگاسکتے ہیں کہ صدر شی کا مملکت میں بھرپورخیرمقدم کیا جائے گا،انھیں خوب پذیرائی ملے گی اور وہ اپنے دورے میں بیش قیمت انعامات حاصل کریں گے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں