تیل کی منڈی پرامریکا اورسعودی عرب میں مخاصمت

پروفیسر برنارڈ ہیکل
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب اورروس کی بالادستی کا حامل تیل پیداکرنے والی اقوام کا کارٹل اوپیک پلس اس اتوار کوورچوئل اجلاس منعقدکررہاہے۔اس اجلاس میں مستقبل کے پیداواری کوٹے کے بارے میں ایک نیا فیصلہ متوقع ہے۔اس اختتام ہفتہ پرکیا فیصلہ کیا جائے گا،اس کے بارے میں پیشین گوئیاں پورے نقشے پر ہیں۔ یوکرین پر روس کی جنگ کے اثرات، بیجنگ کی صفرکووِڈ لاک ڈاؤن پالیسیوں کی وجہ سے چینی طلب کے بارے میں غیر یقینی صورت حال اور عالمی معاشی کساد کے خطرے کی وجہ سے توانائی کی دنیا میں یہ زبردست عدم استحکام کا دور ہے۔

بہت سے لوگ جنھوں نے تیل کی مارکیٹ کی حرکیات کو دیکھا ہے،انھوں نے صدر بائیڈن اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مابین تناؤ پر توجہ مرکوزکی ہے، اورایسا کرنے میں غلط طور پر ساخت کے بجائے ذات پرتوجہ مرکوز کی ہے۔اس طرح ، اوپیک پلس کےاکتوبرمیں پیداوارمیں کٹوتی کے فیصلے کو مارکیٹ کے لحاظ سے نہیں بلکہ نومبرکے وسط مدتی انتخابات سے ٹھیک پہلے بائیڈن کی آنکھوں میں کانٹے کے طور پربیان کیا گیا تھا۔ توقع کی جارہی تھی کہ اس کٹوتی سے قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور انتخابات میں ڈیموکریٹس کی شکست میں تیزی آئے گی۔ یقینی طور پربائیڈن انتظامیہ اور واشنگٹن ڈی سی میں بہت سے لوگوں نے اس معاملے کو اسی طرح دیکھا۔ سعودی عرب کو سزا دینے کا مطالبہ تیزی سے کیا گیا اور کچھ ڈیموکریٹ سیاستدانوں نے سامراجی زبان کا استعمال کرتے ہوئے استدلال کیا کہ سعودی مملکت کوایک ’’کلائنٹ ریاست‘‘کی حیثیت سے ، سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔ صدر بائیڈن نے خود کہاتھا کہ سعودی عرب کے لیے’’نتائج ہوں گے‘‘جبکہ دوسروں نے ہتھیاروں کی فروخت کو منجمد کرنے اور’نوپیک بل‘ کی منظوری کی دھمکی دی تھی جو امریکی عدالتوں میں سعودی عرب کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت دے گی۔ اس کے باوجود جیسے جیسے چیزیں سامنے آئیں، اکتوبرمیں تیل کی پیداوار میں کٹوتی کا انتخابات پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔ ڈیموکریٹس نے نسبتاًاچھی کارکردگی کامظاہرہ کیا،اوراکتوبر کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں اوسطاً 10 فی صد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔درحقیقت اس سے سعودی عرب کے اس دعوے کو ثابت کر دیا گیا کہ تیل کی سپلائی میں اضافے کی وجہ سے کٹوتی کی ضرورت ہے اورتیل کی منڈیوں کومارکیٹوں کو متوازن ہونا چاہیے۔

اوپیک پلس کےاتوارکواجلاس سے قبل،کچھ مبصرین نے استدلال کیاہے کہ سعودی ایک اور کٹوتی کے لیے زور نہیں دیں گے کیونکہ صدربائیڈن کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے حال ہی میں محمدبن سلمان کو حکومت کے موجودہ سربراہ کے طور پر امریکی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی سے مستثناقراردیا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے کہ بائیڈن نے محمد بن سلمان کو انسانی حقوق کے معاملات پر ایک پاس دیا ہے،جبکہ حقیقت میں اس طرح کے خودمختارانہ استثناکی شناخت بین الاقوامی قانون کی ایک بنیادی خصوصیت ہے، اوراس کی اجازت نہ دینے سے امریکی عہدے داروں کو بیرون ملک قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑتا۔

لہٰذا،اگرتناؤ کی جڑیں تلخ ذاتی تعلقات میں نہیں تو پھر تیل کی پالیسی پر امریکا اور سعودی عرب کے درمیان کشیدہ تعلقات کی کیا وجہ ہے؟ اس کاجواب اس بات میں مضمرہے کہ تیل کی بین الاقوامی مارکیٹ کس طرح کام کرتی ہے اور قیمت کے بارے میں کون زیادہ سے زیادہ کہتا ہے۔زیادہ آسان الفاظ میں،کیا یہ مغرب میں استعمال کرنے والے ممالک ہوں گے یا خلیجی پروڈیوسر جو مارکیٹ میں غالب کردارادا کرتے ہیں؟ صدر بائیڈن کی قیادت میں امریکا خریداروں کا کارٹل بنانے کی کوشش کررہا ہے جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں تیل پیدا کرنے والے ممالک اس طرح کی کوششوں کی مخالفت کررہے ہیں اور 1970 کی دہائی کے اوائل سے حاصل ہونے والے غلبے کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صارفین کے لیےاس مارکیٹ کی طاقت کو پورا کرنے کے لیے، امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے سہ جہت حکمتِ عملی پر عمل کیا ہے۔ سب سے پہلے، انھوں نے گذشتہ موسم خزاں کے بعد سے اپنے متعلقہ اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر(ایس پی آر) سے لاکھوں بیرل پٹرولیم جاری کیا ہے۔یہ بے مثال ہےکیونکہ اس کامقصدخاص طورپر پمپ پر قیمت کو کم کرنا ہے ، اورسپلائی کے جھٹکے کو حل کرنا نہیں، جو ایس پی آر کا اصل مقصد ہے۔

دوسرا، امریکا اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ روسی تیل کی برآمدات پر قیمت کی حد مقرر کرنے کے لیے مارکیٹ میکانزم بنانے کے آخری مراحل میں ہے۔اس کا مقصد تیل کی فروخت سے روس کی آمدنی کوکم کرنا ہے اورقیمت مارکیٹ سے کم مقررکی جائے گی، جس میں کسی بھی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت پابندیاں عاید کی جائیں گی اور کارگو کی نقل وحمل کا بیمہ کرنے والی کسی بھی کمپنی پرجرمانے عایدکیے جائیں گے۔اگریہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو مستقبل میں اسے دیگر پیداواری ممالک کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے جنھیں مغرب کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت جیسے ممالک پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ امریکا کے داخلی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے پیداوار میں اضافہ کریں۔اس کا آغازستمبر2021 کے اواخرمیں ہوا جب امریک کی قومی سلامتی کے مشیرجیک سلیوان نے محمدبن سلمان سے تیل کی مزید پیداوارکا مطالبہ کیا۔یہ فروری 2022 میں یوکرین پرروسی حملے سے پانچ ماہ قبل کی بات ہے اوریہ درخواست سیاسی وجوہات کی بناء پر کی گئی تھی کیونکہ کووِڈ وبائی امراض کے بعد طلب میں اضافے کے نتیجے میں امریکا میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔سعودی عرب نے جیک سلیوان کی درخواست کو قبول نہیں کیا کیونکہ وہ گھریلوامریکی خیالات کے جواب میں اپنی تیل کی پیداوارکافیصلہ کرنے کی مثال قائم نہیں کرناچاہتا تھا۔

یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد، پیداوار بڑھانے کے لیے امریکی مطالبات میں اضافہ ہوا، اب بظاہرروس کودیوالیہ بنانے میں مدددینےکے لیےاور یہ جولائی 2022 میں صدربائیڈن کے سعودی عرب کے دورے کی ایک اہم وجہ تھی۔اس نے مزید تیل مانگا۔ایک بارپھر، سعودیوں نے صرف ایک لاکھ اضافی بیرل کے ساتھ جواب دیا اور اوپیک پلس فریم ورک کے اندر کیے گئے معاہدوں پر قائم رہے۔اس گروپ کے اکتوبرکے فیصلے کے بعد سے تیل کی پیداوارمیں اضافے کے لیے بائیڈن اوربن سلمان میں سمجھوتے کی جھوٹی افواہیں پھیل گئی ہیں ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سعودیوں نے قیمتوں کو بہت زیادہ سطح تک بڑھنے سے روکنے کے لیے اس میں اضافہ کرنے کا وعدہ کیا تھا،لیکن اس صوت میں اگرمارکیٹ کو ضرورت سے زیادہ تیل سپلائی نہیں کیا جاتا تو۔

رواں موسم خزاں تک ، سعودی عرب کو یہ گہری تشویش لاحق ہوگئی تھی کہ امریکی اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر روس کے خلاف جنگ کو اوپیک پلس مخالف مارکیٹ کی تشکیل نو کے لیے استعمال کررہے ہیں۔روسی تیل پرپرائس کیپ سسٹم کے علاوہ امریکی حکام نے تیل پرپرائس فلور قائم کرنے کے بارے میں بات کرنا شروع کردی تھی۔ مثال کے طور پر، امریکا کے خصوصی ایلچی اور بین الاقوامی توانائی کے امور کے رابطہ کاراور امریکی محکمہ خارجہ میں توانائی کے وسائل کے بیورو کے سربراہ آموس ہوچسٹین نے خلیجی پروڈیوسروں سے درخواست کی کہ وہ اوپیک پلس کے اکتوبر کے اجلاس سے پہلے پیداوارمیں کمی نہ کریں۔ ایسا نہ کرنے پران کی ترغیب یہ ہوگی کہ امریکا ایس پی آر کو بھرنے کے لیے 75 ڈالر فی بیرل کے حساب سے 20 بیرل تیل خریدے۔درحقیقت وہ ان سے کَہ رہے تھے کہ امریکااس تیل کی قیمت طے کرے گا۔انھوں نے بیس لاکھ بیرل کی کٹوتی کا فیصلہ کیا ، حالانکہ اصل کمی یومیہ پیداوارکے 900 ہزاربیرل کے قریب تھی۔

ان متضاداہداف اورمارکیٹ کنٹرول کے لیے رسہ کشی کو دیکھتے ہوئے اب چیزیں کہاں کھڑی ہیں؟ تیل کی مارکیٹ کی حرکیات کی پیشین گوئی کرنامشکل ہے کیونکہ بہت سے نامعلوم متغیّرات موجود ہیں جیسے کہ روس کتنی پیداواراور فروخت کرنے کے قابل ہوگا یا چین کی طلب میں کمی یا اضافہ ہوگایاامریکی شیل کی پیداوارجلد ہی اپنی اعلیٰ سطح کوبحال کرے گی۔ تاہم ،سعودی نقطہ نظرسے ،مملکت ویژن 2030 کے نام سے معاشی تنوع کے ایک وسیع ترمنصوبہ پرعمل پیراہے۔اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی مقررہ مالی ذمہ داریوں کے مطابق خام تیل کی فی بیرل کی قیمت 80 ڈالر سے زیادہ اور ترجیحی طور پر 100 ڈالر کے قریب ہے۔سعودی عرب امریکاکی سیاسی جماعتوں کو انتخابات جیتنے میں مدد دینے کے لیے مزید کچھ نہیں کرے گا اور نہ ہی روس کی فوجی شکست کی حمایت کرے گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پیداوار میں اضافہ ، اور اس طرح کم قیمتیں ، ان کے گھریلو اہداف کے حصول کوخطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ان کی فیصلہ سازی ان کی آمدن کو برقرار رکھنے پر مبنی ہے، جوان کی معاشی بقا کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔اس معاملے کی جڑ قومی مفاد اور خودمختاری ہےمگر موجودہ امریکی انتظامیہ ان ضروریات کو سمجھنے میں ناکام نظرآتی ہے۔ توقع ہے کہ سعودی عرب اوپیک پلس کے اجلاس میں مارکیٹ پرمبنی اجتماعی فیصلے پر زور دے گا اور بیرون ملک سیاست کودوررکھنے کی کوشش کرے گا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں