سعودی نوجوان مملکت کی اصل دولت

سعود بن سلمان الدوسری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سابق امریکی وزیر خارجہ آنجہانی میڈیلین البرائٹ نے 2016 میں سعودی عرب کے لیے تاریخی کلمات کہے تھے کہ 'تیل کی دولت سے مشہور سعودی عرب کی اصل اور سچی دولت اس کی نئی نسل ہے۔' البرائٹ کے وہ الفاظ آج ایک بہت بڑی سچائی کے طور پر باز گشت کی طرح موجود ہیں۔

انہوں نے ایک بہت بڑی حقیقت کی نشاندہی کی تھی۔ کیونکہ سعودی آبادی کا 75 فیصد 35 سال سے کم عمر کے افراد یعنی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ سعودی نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد کو دیکھ کر یہ بات باآسانی سمجھ آ جاتی ہے کہ نوجوان ایک خوشحال سعودی مستقبل کی چابی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

حالیہ چند برسوں پر محیط دورانیے میں مملکت سعودی عرب نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ نوجوانوں کے لیے نمایاں اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ مقصد ہر شعبے میں نوجوانوں کو زیادہ مضبوط، فعال اور اہم کردار کے لیے تیار کرنا اور بااختیار بنانا ہے۔ سعودی عرب میں لیے گئے یہ انیشیٹوز دوسرے ملکوں میں کم ہی نظر آتے ہیں۔

سعودی عرب کی وزارت سیاحت کا 100ملین ڈالر مالیت کا سیاحت، ٹریل بلیزرز پروگرام اہم تر ہے۔ تاکہ ایک لاکھ نوجوانوں کو مہمان نوازی کی تربیت اور مہارت سے لیس کیا جا سکے اور وہ مملکت آنے والوں سیاحوں کی بہترین میزبانی کر سکیں۔

'مسک' کی طرف سے انٹرن شپ کے مواقع، ماسٹر لیول کی کلاسز کا انعقاد، سرمایہ کاری میں حوصلہ افزائی اور قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے کثیرجہتی منصوبے صنعتوں سے لے کر کھیلوں کے میدانوں تک نوجوانوں کو آگے بڑھانے کی کوششیں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔

سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئیرنگ اور ریاضی میں نوجوانوں کے لیے مہارتی منصوبوں کا آغاز اور کاروباری مواقع کی فراہمی سب کچھ سعودی عرب میں نوجوانوں کے لیے اہم ہے۔ یہ ساری سرمایہ کاری سعودی شہریوں انتہائی مثبت اثرات کا باعث بنیں گی۔

ان اقدامات کے ثمرات اگلے برسوں میں ہر طرف نظر آئیں گے۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ اس طرح کے طویل مدتی اقدامات کے نتائج فوری سامنے نہیں آتے، کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔

مگر سعودی عرب میں بعض ثمرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ رواں سال کے شروع میں 80 ممالک کے 1800 کے پول میں سے امریکی یونیورسٹیوں میں 35 سعودی طلبہ نے بائیس 'آئی ایس ای ایف ' تعلیمی ایوارڈز حاصل کیے ہیں۔ اسی طرح سعودی طلبہ کے ایک گروپ نے ملائیشا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں 13 'آئی ٹی ای ایکس' ایوارڈ حاصل کیے ہیں۔

ایک زمانہ تھا جب سعودی لوگ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ٹھہراؤ پر مطمئن ہو جاتے تھے، مگر اب ایسا نہیں۔ اب بہتر سے بہتر کی تلاش اور ترے سامنے آسماں آور بھی ہیں کی سوچ کے ساتھ مسلسل آگے بڑھنے کی لگن سے لیس ہیں۔ سعودی نئی نسل بہترین کے لیے کوشاں رہنے کا رجحان رکھتی ہے۔ وہ ایک جگہ پر رک جانے کو تیار نہیں۔ ہم سعودی یہ دیکھ رہے ہیں یہ ہماری نشاۃ ثانیہ کا ماحول بن رہا ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے اصلاحاتی پروگرام اور ویژن میں ہر شعبے کو شامل کیا گیا ہے۔ ہر شعبہ زندگی کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اقتصادی احیاء، حقوق نسواں، نوجوانوں کو بااختیار بنا کر عملی زندگی کے آغاز کے مواقع دینا اور قومی ترقی میں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھنے کو فوقیت دی گئی ہے۔

ان صلاحات سے پہلے سعودی نوجوان کچھ پابندیاں اور تحدیدات محسوس کرتا تھا لیکن اب سعودی عرب کے نوجوان یونیورسٹیوں میں اور کام جگہوں پر فخریہ اور پر جوش انداز میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے عزائم اب بلند تر ہیں۔

ابھی پچھلے ماہ نومبر 2022 کے آغاز پر 'مسک گلوبل فورم' نے دارالحکومت ریاض میں 'جنریشن ٹرانسفارمیشن' کی ' تھیم' کے تحت ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ اس پروگرام میں 15000 جوان ذہنوں نے شرکت کی۔ جن میں کاروباری دنیا میں نئے راستے کھولنے اور بنانے والوں کی تعداد غالب تھی۔

اس پروگرام میں 120 ملکوں سے زیادہ کے لوگوں میں شرکت کی اور ان لائن بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب صرف اپنے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے راستے پر نہیں ہے۔ سعودی عرب کی کوشش ہے کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی حکمت عملی دنیا بھر کے نوجوانوں کے کام ائے تاکہ عالمی سطح پر موجود چیلنجوں کا مل کر مقابلہ کیا جاسکے۔

سعودیہ کی طرف سے یہ ان بے شمار ' انیشیٹوز ' میں سے ایک مثال ہے جو اس نے حالیہ برسوں میں متعارف کرائے ہیں۔ سعودی عرب میں یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا میں مخصوص ملک اپنے نوجوانوں کو دبانے کی کوشش میں ہیں۔ وہ اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن ایسے ملک کی یہ اپنی ہی نئی نسل کو دبانے کی پالیسی کے اثرات بہت نقسان دہ ہوں گے۔

سعودی عرب کی اپنے نوجوانوں کے بارے میں پالیسی اور اقدامات بہت مستقبل کی امید دکھاتے ہیں۔ انہی اقدامات کی بدولت نوجوانوں میں مکالمے کی فضا کو بڑھایا جا رہا ہے۔ اب نوجوان مسائل کے حل کے لیے آگے بڑھ کر دیکھتے ہیں، مسائل کے سامنے آنے سے پہلے ان کا حل تلاش کرنے کی سطح پر آ رہے ہیں۔

سعودی عرب نے اپنی تیل کی دولت پر ملکی معیشت کے کامل انحصار کے بجائے اس سے ہٹ کر معاشی پالیسی بنائی ہے تاکہ دیگر برآمدات میں بھی اضافہ ہو۔ تیل پر یک رخا انحصار کم ہو۔ سعودی نوجوان ان پالیسیوں کو آنے والے برسوں میں عمل تک لے جائیں گے۔ کیونکہ حکومت کا کام تو مستقبل کا فریم ورک دیا ہے، اس میں رنگ بھرنا اور اسے عمل کے قالب میں ڈھالنا نوجوانوں کا کام ہو گا۔

سعودی نوجوانوں کے لیے نہ ختم ہونے والے امکانات اور مواقع سامنے آ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ایسا ہے جس کی ماضی میں مثال نہ ملتی تھی۔ کبھی سوچا نہ جاتا تھا۔ اب عمل کے روپ میں ڈھل رہا ہے۔ ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے یہ سعودی نوجوان اس سے بھی آگے دیکھنے والے ہیں آسمانوں سے آگے جہاں اور بھی ہیں کے مصداق۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں