پاکستان کے متحرک وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری

ملک رمضان اسراء
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارتی وزیرِ خارجہ جے ایس شنکر کے ’’پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز اورالقاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی مہمان نوازی کرنے‘‘کے بیان پردلچسپ ردِ عمل کا اظہارکیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ’’اسامہ بن لادن تو مرچکا مگر گجرات کا قصائی زندہ ہے"۔ان کا اشارہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی آبائی ریاست گجرات میں سنہ 2000ء کے عشرے کے اوائل میں مسلمانوں کے قتل عام کی جانب تھا۔

پاکستان میں وزیر خارجہ کے اس بیان کو سراہا گیا لیکن بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بلاول بھٹو زرداری کے خلاف ناصرف احتجاجی ریلیاں نکالیں، توہین آمیزنعرے لگائے گئے بلکہ بی جے پی کے ایک جنونی انتہا پسند رہنمامنوپال بنسل نے تو بلاول بھٹو زرداری کا سرتن سے جدا کرنے والے کے لیے دو کروڑ روپے انعام کا بھی اعلان کردیا جوانتہائی تشویش ناک بات ہے۔عالمی برادری کو منوپال کے اس اعلان پربی جے پی حکومت سے بازپرس کرنی چاہیے۔ دوسری طرف پاکستان میں بھی بلاول بھٹو زرداری کے حق میں ریلیاں نکالی گئی ہیں لیکن پاکستان میں اب جو لوگ بلاول زرداری کو نریندرا مودی کو گجرات کا قصائی کہنے پر داد دے رہے ہیں،ماضی قریب میں یہی لوگ ان کے بطور وزیرخارجہ بین الاقوامی دوروں پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ بتائی جاتی تھی کہ پاکستان کے وزیرخارجہ اپنے ملک پاکستان میں شاذونادرہی نظرآتے ہیں۔ یہاں تک کہا گیا کہ بین الاقوامی دوروں میں مگن وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری پاکستان کا دورہ کرنے ہی آتے ہیں لیکن ان کے غیرملکی دوروں پر ان کی سوشل میڈیا پر ٹرولنگ انتہائی غیرمناسب اور حقیقت کے برعکس ہے کیونکہ وزیرخارجہ اگر بیرون ملک دورے کرکے پاکستان کے دوسرے ملکوں سے تعلقات بہتربنانے کی کوشش نہیں کرے گا تو پھر اور کیا کام کرے گا؟ چونکہ ان کا کام ہی یہی ہے کہ بین الاقوامی سطح پراپنے ملک کے سفارتی تعلقات مستحکم بنائیں۔یہ تو ایک عام سی بات ہے کہ اگر آپ نے کسی عام انسان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات بناناہوتے ہیں توکبھی آپ کو ان کے پاس جانا پڑتا ہے تو کبھی انھیں اپنے پاس بلانا پڑجاتا ہے۔ریاست بمقابلہ ریاست تعلقات استوارہوتے ہیں۔

سابق پاکستانی سفیر اورکتاب’’احساسِ زیاں‘‘کے مصنف محمد عاقل ندیم کا پاکستان کے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور موجودہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کی کارکردگی پرکہنا ہے کہ ان دونوں کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں بنتا ہے کیونکہ شاہ محمود قریشی ایک مقامی سطح کے رہنما ہیں جن کا اپنے علاقے سے آگے کوئی اثرورسوخ نہیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے خود کو قومی سطح کاایک لیڈرثابت کیا ہے۔ بقول عاقل ندیم اگرچہ ہم شاہ محمود قریشی کی دو مرتبہ بطور وزیر خارجہ کی کارکردگی کودیکھیں تو ماضی میں ان کے دونوں ادوارمیں کافی مسائل رہے ہیں اور پہلی مرتبہ توانھیں اس وقت ان کی سابقہ جماعت پیپلزپارٹی کی کابینہ سے نکال دیا گیا تھا کیونکہ جماعت کے سربراہ ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے اور دوسرا یہ کہ انھوں نے پاکستان کی وزارت خارجہ کو ایسے چلایا جیسے یہ ان کی اپنی جاگیر ہوجبکہ وزارت خارجہ میں اپنے من پسند لوگوں کو ناصرف لگایا بلکہ وہ خودتقرروتبادلے کرتے تھے اور یہی نہیں حتیٰ کہ وزارتِ خارجہ کے دفترکوبالکل غیرمؤثر بنا دیا گیا۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ خارجہ سروسز اور خارجہ پالیسی پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے اور یہ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔

سابق سفیر کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت میں ایک بار پھر جب شاہ محمود قریشی کو وزارت خارجہ کا قلم دان سونپا گیا تو بدقسمتی سے اس بار بھی ان کی پہلے سے زیادہ بری کارکردگی رہی۔ جیسا کہ پاکستان کے دوست ملک چین کے ساتھ تعلقات کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے گہری نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن اس ملک کے ساتھ بھی چائنا پاک اقتصادی راہداری (سی پیک) کے معاملے میں بداعتمادی کی فضا ناصرف پیدا ہوئی بلکہ کافی حد تک بڑھی بھی۔ اس کے علاوہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے ایک اور اہم دوست ملک سعودی عرب سے بھی تعلقات خراب کرائے جس کے بعد پاکستان کے بارے میں بداعتمادی کو ہوا ملی۔

سابق سفیرعاقل ندیم کے خیال میں یہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ہی تھے جنھوں نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ایک غلط مشورہ دیا کہ سائفر کے معاملے پر پروپیگنڈا کرکے اپنی سیاست چمکائی جائے حالانکہ اس معاملہ پر وہ انھیں صحیح مشورہ بھی تو دے سکتے تھے؟ جو نہیں دیا گیا۔ کیونکہ سابق وزیر خارجہ نے خود کوایک مقامی رہنما ثابت کرتے ہوئے اس معاملے پراپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کےلیے خارجہ پالیسی کو استعمال کیا اوریہ انتہائی غیر شائستہ حرکت ہے۔

عاقل ندیم کہتے ہیں کہ سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے مقابلے میں اگرآپ موجودہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کی کارکردگی پرنظرڈالیں جس کا دورانیہ بھی بہت کم ہے تو جس قدر بین الاقوامی معاملات پران کی گرفت نظر آتی ہے وہ کافی متاثرکن ہے۔ سابق سفیرکے مطابق بلاول بھٹو زرداری ہمیشہ دوسروں کے مشورے سنتے ہیں اور انھیں اہمیت بھی دیتے ہیں اور پھر اس کے بعد فیصلہ کرتے ہیں۔کسی سیاست دان کاایک اچھا وصف یہی ہے کہ وہ دوسرے ماہرین کی بات سنے نہ کہ خود کو حرف آخر سمجھے۔پھر چونکہ بلاول بھٹو زرداری ایک واضح شخصیت کے مالک ہیں تو وہ نپے تلے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے مقابلے میں شاہ صاحب! ایک جذباتی انسان ہیں جو اکثراوقات الفاظ کی رو میں بہ جاتے ہیں۔ مگر بلاول زرداری اپنا مدعا دوٹوک الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

سابق سفیر کا مزید کہنا تھا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ دنوں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس میں بھی ایک اہم کردار تھا اس کے علاوہ گروپ 77 کی پاکستان کی صدارت کے ضمن میں بھی وزیرخارجہ نے ایک زبردست کردار ادا کیا۔حالیہ دنوں اقوام متحدہ کی کانفرنس میں بھی انھوں نے پاکستان کی احسن طریقے سے نمائندگی کی اور گزشتہ ایک مشہور پریس کانفرنس جس میں بھارت کو بڑے اچھے طریقے سے جواب دیا گیا۔

عاقل ندیم کے خیال میں شاہ محمود قریشی کے بعد وزارت خارجہ میں بلاول بھٹو زرداری کی شکل میں تبدیلی کو پاکستان کے دوست ممالک جیسے چین اور سعودی عرب وغیرہ بہ نسبت ماضی کی حکومت کے بہتر محسوس کررہے ہیں کیونکہ ایک تو سابقہ حکومت کے وفاقی وزراء تک نے سی پیک کے بارے میں کئی مرتبہ غلط الفاظ کا استعمال کیا۔شاید یہ رویہ تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسی کا حصہ تھا۔ اور یہی وجہ تھی کہ پی ٹی آئی حکومت کے چین کے ساتھ معاملات خراب ہوگئے تھے۔اس کے بعد جلتی پر تیل کاکام یہ ہوا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے عدم اعتماد کے بعد جس قدر امریکا پر الزامات لگائے،اس سے پاکستان کے امریکا سے بھی تعلقات خراب ہوگئے تھے لیکن موجودہ قیادت نے امریکا اور چین سمیت سبھی دوست ممالک کا اعتماد بڑھانا شروع کردیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کی مؤثر سفارت کاری کی بدولت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تعلقات بہتر ہورہے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں