'تھیم چینج ڈاکٹرائن' کی ضرورت ہے، 'رجیم چینج' کی نہیں!

نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

صورت حال سنجیدہ ہی نہیں سنگین تر ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود ان سطور کا آغاز ایک وکیل صاحب کے تذکرے سے کیا جا رہا ہے۔ ایک صاحب سے قتل ہو گیا۔ جی ہاں روایت یہی ہے کہ قتل کرنا یاکسی کو قتل کرانا چھوٹے اور کمزور لوگوں کا کام کم ہی رہا ہے۔ خصوصاً کسی کی ناحق جان لینے کا معاملہ درپیش ہوا ہو یا تاریخ میں ایسا کوئی ماجرہ گذرا ہو تو نام اکثر بڑے لوگوں کا ہی آیا ہے۔ تاریخی مثالیں فرعون و نمرودو کے علاوہ بھی ہیں، مگر جگہ کی قلت اور وقت کی تنگی آڑے ہے۔

ہاں تو بات قتل کی ہو رہی تھی۔ قتل کے بعد قاتل صاحب، ان کے بڑے اور خاندان کے سیانے ایک سمجھدار وکیل صاحب کے پاس پہنچے۔ مدعا بیان کیا۔ پورا واقعہ اور اس کا سارا پس منظر بیان کیا اور وکیل صاحب سے درخواست کی کہ وہ اس کیس میں ان کے وکیل بن کر سزا سےہر قیمت پر بچائیں۔ وکیل صاحب نے حامی بھر لی۔ لیکن جب فیس کی بات آئی تو وکیل صاحب نے بہت معمولی سی فیس طلب کر کے موکلین کا انہیں وکیل کرنے کاارادہ تبدیل ہو گیا۔ موکلین خوب اچھی طرح سمجھتے تھے کہ قتل کے اس سنگین جرم سے ان کے لاڈلے کو بچانے کے لیے وکیل صاحب کو بہت محنت کرنا ہو گی۔ لیکن صرف پانچ لاکھ روپے فیس لے کر وہ کیسے یہ کیس جیت سکیں گے۔

صرف پانچ لاکھ روپے فیس کا سننا تھا کہ قاتل صاحب اور ان کے خاندان کے بڑے خاموشی سے اٹھ کر وکیل صاحب کے دفتر سے باہر چلےگئے۔

گویا انہیں کسی بہت تکڑے وکیل صاحب کی ضرورت تھی۔ جو اس طرح کے بہت سے کیس کر چکے ہوں ، بھاری فیس لینے والے ہوں ۔ تاکہ جم کر کیس لڑیں اور ملزم کو بری کرا سکیں۔ تھوڑی کو شش کے بعد مطلوبہ وکیل صاحب مل گئے۔ بڑا نام ، بہت شہرت ، سالہا سال سے یہی کام کرنے کا تجربہ۔ بہت منظم قسم کا چیمبر، ہر چیز ایک نظم اور ضابطے کے اندر۔ ماحول اور شان وشوکت ، رعب و دبدبہ ہر چیز متاثر کن۔ سودا کروڑ وں میں طے پا گیا کہ وکیل صاحب اپنی محنت ، مہارت اور تجربے کی وجہ سے کسی بھی صورت کروڑ وں روپے سے کم فیس نہیں لیتے تھے۔

مقدمہ عدالت میں چلنا شروع ہو گیا۔ بھلے وقتوں کی بات ہے عدالتیں مقدمے کی مثل کو دیکھ کر، ثبوتوں کو جانچ کر اور گواہیوں کا پرکھ کر فیصلے کرنے کا رجحان رکھتی تھیں۔ یوں قاتل صاحب کو سزا موت سنا دی گئی۔

قصہ کوتاہ یہ کہ سزائے موت سنانے کے بعد کے بھی سارے مراحل اسی سمت میں طے ہوگئے اور قاتل صاحب کو پھانسی لگا دیا گیا۔ ایک روز قاتل صاحب کے خاندان سے کم فیس مانگنے والے وکیل صاحب کا کسی تقریب میں اچانک آمنا سامنا ہوگیا تو کم فیس مانگنے والے وکیل صاحب نے رسما کیس کے بارے میں پوچھ لیا تو جواب ملا۔ سر وہ بہت غلط ہوا، ہم نے ایک بڑے وکیل کو کروڑ وں روپے فیس کے بھی دے دیے مگر ہمارے بچے کو پھر بھی پھانسی ہوگئی۔ کم فیس والے وکیل صاحب نے اظہارِ افسوس تو خیر کیا ہی لیکن ساتھ یہ کہے بغیر بھی نہ رہ سکے کہ اگر پھانسی ہی لگوانا تھا تو یہی کام تو میں معمولی فیس کے ساتھ کرنے کو تیار تھا۔ آپ نے اتنی بھاری فیس ادا کرنا کیوں قبول کیا؟

ملک کی سیاسی، سماجی، معاشی اور اخلاقی صورت حال اس قدر دگرگوں ہے کہ کئی دہائیوں بلکہ بہت شروع سے ٹھیکیداری کرنے والے صاحبان اختیار و اقتدار سے کون پوچھے گا کہ اگر ملک کو اسی انجام سے دوچار ہی کرنا تھا، دو لخت ہی ہونا تھا، وطن عزیز نے 'ان گورن ایبل' ہی قرار پانا تھا۔ ملک کو معاشی طور پر دیوالیہ کرنے سے پہلے سیاسی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہی کرنا تھا تو پھر یہ کام تو یہاں کے عام اور 'مہاتڑ لوگ ' بھی کر سکتے تھے۔

ملک کو اندرونی طور پر کھوکھلا اور کمزور کرنے اور بیرونی دنیا میں تنہا اور بے یارو مددگار بنانے کے لیے بڑے بڑے 'سیاسی قبوں' اور جاگیردارانہ پس منظر رکھنے والے پشت در پشت لوٹوں، سودا کاروں اور انا اور اقربا پرستوں کے سپرد کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ کیا ضروری تھا کہ ملک کی سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنا اصل کام چھوڑ کر کبھی ایک سیاسی قائد اور جماعت کی 'مٹھی چانپی' کر رہی ہوتی اور کبھی دوسری کی تاکہ انہیں طاقت دے کر بعد ازاں ان کے ذریعے ملک کا بیڑا غرق کر نے میں شریک جرم قرار پائے۔

دور جانے کی ضرورت نہیں، جس طرح سے وزارت خزانہ اسحاق ڈار چلا رہے ہیں۔ مفتاح اسماعیل، عبد الحفیظ شیخ، شوکت ترین ، شوکت عزیز ، معین قریشی و دیگر نے چلائی ہے اور ملکی معیشت کو دیمک زدہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس کے لیے قطعاً ضرورت نہ تھی کہ ان سب ماہرین فن کی فنکاریاں دیکھنے کے لیے انہیں بیرون ملک سے بلا کر بلا کر لایا جاتا۔ انہیں سینیٹر بنوایا جاتا ، وزیر خزانہ ، ڈیفیکٹو وزیر اعظم حتیٰ کہ وزیر اعظم بنایا اور بنوایا جاتا۔

بڑے بڑے سیاسی قائدین جن کے گفتار و کردار سے سیاست و حکومت کے در و بام جس طرح غلاظٹ کا ڈھیر بن کر ملک کے گلی کوچوں کو منعفن کر رہی ہے۔ اس گندگی اور تعفن زدگی میں ملک کے حساس ادارے سہولت کار کے طور پر کبھی ایک کے ساتھ اور کبھی دوسرے کے ساتھ مل کر اپنی انٹیلی جنس کی تمام تر صلاحیتوں کا زور وہاں لگا رہے ہیں جہاں قطعاً لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ کام تو کسی بھی گھٹیا سی سطح کے فرد یا افراد سے بآسانی لیا جا سکتا تھا۔ اگر یہی کام ہمارے ملک کی بڑی بڑی طرم خان طرز کی سیاسی جماعتوں اور قائدین نے پس منظر میں رہ کر یا بیرون ملک رہ کر کر نا ہے تو بڑی معذرت کے ساتھ یہ جسارت کرنا پڑے گی،میاں بلے ہم لنڈورے ہی بھلے۔

اس طرح کی تبدیلیاں جو ملک میں 1970سے لے کر مسلسل دیکھنے کو ملتی رہی ہیں اور 1985 سے بہت تیزی کے ساتھ آنے لگیں، اب بھی جاری ہیں۔ انہیں امریکہ میں سفیر کے سائفر کے مبینہ دعوے کے حوالے سے رد بھی کردیا جائے تو ملکی تاریخ کے بہت سارے واقعات 'رجیم چینج'کے کسی زمرے میں ضرور آتے رہے ہیں۔ اس بحث میں بھی پڑنے کی ضرورت نہیں کہ 'رجیم چینج' کی ان ساری سرگرمیوں میں بیرونی طاقتیں ملوث تھیں یا نہیں ہیں۔ ان کا کسی سازش میں دخل تھا یا نہیں، انہوں نے کوئی سازش کی تھی یا مداخلت ۔ ان سارے سوالوں کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو یہ سوال بجائے خود ایک جواب ہے کہ یہ خود بخود نہیں ہوتا رہا۔

کوئی تھا جو یہ سب کرتا رہا۔ 'رجیم چینج' کا یہ کھیل اس کے بغیر کبھی بھی ممکن ہو سکتا تھا نہ ہوتا رہا۔ لیکن نتیجہ بدقسمتی سے ہر بار ڈھاک کے تین پات کی طرح ایک ہی رہا، ہر مرتبہ غلطی ہوئی ۔ ہر بار'ملک دشمن' اور 'نالائق و نا اہل' مسند پر بٹھائے جاتے رہے۔ مالی اور اخلاقی کرپشن میں لتھڑے ہوؤں کو قوم پر مسلط کیا جاتا رہا۔ اس لیے ضرورت ہے ایک کامل 'اباؤٹ ٹرن' لے کر 'رجیم چینج' کے بجائے 'تھیم چینج' ڈاکٹرائن ' اپنائی جائے۔ اپنے گھسے اور بری طرح پٹ چکے سافٹ ویئر کو تبدیل کیا جائے۔ دوسروں کا نہیں اپنا سافٹ ویئر بدلا جائے۔ یہ بار بار ثابت ہو چکا کہ یہ کیس جیتنے کا تھا ہی نہیں ۔ اسے اتنی بھاری فیس کے ساتھ لینے سے کچھ بائیس چوبیس کروڑ لوگوں کو کچھ حاصل ہوا ہے نہ آئندہ ہونا ہے۔ اس سے ملک کی سیاست بدلی ہے نہ معیشت سنبھلی ہے۔ سیاسی، معاشی اور اخلاقی دیوالیہ پن کرپشن کا ایسا عروج کہ چودھویں کا چاند بھی اس تلے دب کر رہ گیا لگتا ہو۔
اس لیے بہت ضروری ہے کہ پاک وطن کے خاک نشینوں اور بوریہ نشینوں کو خود فیصلے کرنے کی اجازت دی جائے۔ ملکی سیاست کے قیصر و کسریٰ کو ان پر مسلط کرنے میں کردار ادا نہ کیا جائے۔ چھوٹے لوگ اور چھوٹی جماعتیں اگر بہت ساری غلط باتوں سے بچی ہوتی ہیں تو کیوں ان کا راستہ روکا جائے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں