2023ء میں سیاسی محاذ پرکیا کچھ ہونے کا امکان ہے؟

عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شاید 2022 میں سب سے اہم سرخی روسی افواج کا یوکرین میں داخلہ تھا۔مئی 1945میں دوسری جنگ عظیم کی آخری گولی چلنے کے کئی دہائیوں بعد ، بہت کم لوگوں نے سوچا تھا کہ جنگ یورپ کے دروازوں پر دستک دے کرواپس آئے گی۔جب تک اس تنازع کوحل نہیں کیا جاتا، جارحانہ طور پریا پرامن طریقے سے، جنگ اس سال (اور آنے والے وقت میں بھی) منظرنامے پر چھائی رہے گی۔یورپیوں کو امریکا کی بانہوں میں واپس لانے اورچین کو روس کے قریب لانے کے بعد ، یہ جنگ اس نئے سال میں آنے والی چیزوں کو تشکیل دے گی ، اور شاید اس سے آگے بھی۔

سرد جنگ کی علامات تیزی سے زیادہ نظر آرہی ہیں ، کیونکہ ریاستیں اپنے بڑے مفادات کے مطابق فریق بن رہی ہیں۔دوسری جنگ عظیم کے بعد ، یورپی ممالک نے اپنے تنازعات کو باہمی معاہدوں کے ذریعے طے کیا ہے۔سرحدیں کھینچی گئیں،معاہدوں پر دستخط کیے گئےاورجلد ہی یہ براعظم تعاون کے مشترکہ راستے کی طرف آگے بڑھ گیا اور یہ سفر یورپی یونین کے قیام پرمنتج ہوا لیکن یہ تمام انتظامات گذشتہ سال فروری کے آخر میں اس سرد دن میں اچانک دھرے کے دھرے رہ گئے جب روسی ٹینک سرحدوں کو پارکرکے یوکرین میں داخل ہوئے تھے۔

روسیوں نے تاریخی حقوق اوراعلیٰ سلامتی کے تقاضوں کے نام پریوکرین کو تباہ کر دیا۔ مغربی یورپ کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ یہ حملہ ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے، جس کا اگلا شکار،انھیں ڈر ہے کہ کوئی اور نہیں بلکہ وہ خودہوں گے۔بحران ممکنہ طور پراس مقام تک پھیل جائے گاجہاں اس کے بہت زیادہ اخراجات دونوں فریقوں کو مصالحت کرنے پر مجبور کریں گے۔

متوازی طور پر، پانیوں اوربازاروں میں چین،امریکا تنازعات اب بھی بین الاقوامی تعلقات پراپنے سائے گہرے کررہے ہیں اور دنیا بھر میں گہری دراڑیں ڈال رہے ہیں۔

یوکرین کا تنازع سرد جنگ کو ہوا دے رہا ہے جبکہ چین کی جانب سے اپنی بین الاقوامی سرگرمیوں میں پرعزم توسیع ایک نئے عالمی نظام کا اعلان کرتی نظرآرہی ہے۔ یہاں بڑی ریاستیں آج مشرق اوسط اور افریقا میں اپنے قدم جمانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ اس بین الاقوامی دوڑ میں وسائل اورگذرگاہوں کو محفوظ بنایاجا سکے۔

روسی یوکرین میں مزید گہرائی میں اتریں گے کیونکہ وہ نیٹو کو تشکیل دینے والی 30 ریاستوں سے لڑیں گے۔یہ جنگ شاید آخری میل تک جاری رہے گی۔ بیجنگ اور واشنگٹن کے محاذ پر بھی چیزیں امید افزا نظر نہیں آتی ہیں۔

بہرحال ہمارے لیے جو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ ہمارے خطے پر پڑنے والے اثرات ہیں۔ہم صرف یہ امید کرسکتے ہیں کہ بڑی ریاستیں علاقائی تنازعات میں کُودنے کے بجائے ان کے حل میں شامل ہونے کے لے سرگرداں ہیں۔مثال کے طور پر،ماسکو تہران کے قریب پہنچ رہا ہے،جویوکرین میں اپنے شاہد ڈرونز کے ساتھ روس کی فضائی افواج کا ایک اہم سپلائربن چکاہے۔وہ خلیج کے جنوب میں بندرعباس بندرگاہ تک جو راستہ بنارہا ہے وہ ہر قسم کے سامان کے لیے ایک راستہ ہوگالیکن دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں یہ پیش رفت روس کو ابھی تک ایرانی حکومت کا اتحادی نہیں بناتی کیونکہ ماسکو اب بھی الریاض اور دیگر خلیجی دارالحکومتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔

گذشتہ سال کے دوران میں ایک حیرت انگیزسیاسی اقدام سعودی عرب کی جانب سے دنیا کی دوبڑی طاقتوں کے ساتھ دوالگ الگ علاقائی سربراہ اجلاسوں کی میزبانی تھا۔ایک جولائی میں جدہ میں امریکی صدرجوبائیڈن کے ساتھ ، اور دوسرا دسمبرمیں الریاض میں چینی صدرشی جِن پنگ کے ساتھ عرب سربراہ اجلاس منعقد کیا گیا۔ان دونوں سربراہ اجلاسوں میں تیل، گذرگاہوں، منڈیوں، ہتھیاروں اوراتحادوں کے لیے بین الاقوامی دوڑکی شدت کی عکاسی ہوتی ہے۔

جہاں تک ایران کا تعلق ہے،صدرجوبائیڈن نے بھلے ہی یہ اعلان کیا ہوکہ مشترکہ جامع لائحہ عمل (جے سی پی او اے) ختم ہوچکا ہے(ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدہ باضابطہ طورپراسی نام سے جانا جاتا ہے) لیکن مذاکرات ممکنہ طورپردوبارہ بحال ہوجائیں گے۔ ایرانی حکومت معاشی اورسیاسی دونوں محاذوں پر کمزور ترین سطح پرہے۔ مظاہرے ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں اور قیادت کے پاس اپنی مشکلات سے نکلنے کا واحد راستہ جوہری پروگرام پررعایت ہے، جو بڑی ریاستوں کے لیے سب سے اہم ہے۔ کون جانتا ہے، ایرانیوں کے لیے یہ ایک مختلف سال ہوسکتا ہے، پالیسی میں تبدیلیوں کے نتیجے میں ان پرلدا قدغنوں اورپابندیوں کا بھاری بوجھ شاید کچھ کم ہوجائے،جس کے نیچے وہ ایک عرصے سے مصائب جھیل رہے ہیں۔

تیل گذشتہ سال کے دوران میں بین الاقوامی تعلقات میں ایک اہم عامل کے طورپرواپس آچکاہے۔یوکرین کی جنگ، روس پرپابندیوں اورچینی مارکیٹ کی بحالی کے ساتھ، ہربیرل زیادہ مہنگا ہوجائے گا اور زیادہ سیاسی اثرپڑے گا۔اس سے خلیجی ممالک کو کھیل کے مرکزمیں واپس لایا جائے گا کیونکہ خطے کو دیوار سے لگادیا گیا تھا اورتمام توجہ چین پر مرکوز ہوگئی تھی۔

علاقائی سطح پرہمیں یمن کی جنگ اور لیبیا اور شام کی صورت حال سمیت گذشتہ برسوں سے بہت کچھ وراثت میں ملے گا۔ لبنان طوفان کی زدمیں رہے گا۔ سوڈان میں فوج کی جانب سے زیادہ تراختیارات سونپنے کے باوجود سوڈان کی صورت حال بہترہوتی نظرنہیں آتی ہے۔سڑکوں پر کھڑے لوگ پارلیمنٹ تک پہنچنے میں ناکام رہیں گے اور اسی جمہوریت کو خراب کرنے کی کوشش کریں گے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں۔تیزی سے عالمی تبدیلیوں کے درمیان،شام کا مسئلہ اپنی جگہ پربرقرار ہے۔دنیا کواس بات کا یقین کرناچاہیے کہ اس ملک میں اس نے غلطی کا ارتکاب کیا ہے اوراسے معافی مانگنی چاہیے۔

دریں اثناء، سعودی عرب میں اقتصادی تبدیلی اورترقی کی لہر خطے کو قانون سازی، پروگراموں،منصوبوں اور پیداوار کے لحاظ سے مثبت مسابقت کی طرف دھکیل رہی ہے۔اوریہ مثبت مسابقت کو اقتصادی ترقی کومہمیزدے رہی ہے۔
نيا سال مبارک۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں