اب عوام کے بولنے کی باری ہے آپ کی نہیں

نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ملکوں میں معیشت اور سیاست کے دو پہیوں کی حیثیت اگر گستاخی نہ سمجھی جائے تو میاں بیوی کی طرح دو پہیوں کے مانند ہوتی ہے۔ دونوں میں ہم آہنگی، توازن، ارتباط اور ایک دوسرے کا لحاظ اہم ہوتا ہے۔ وگرنہ برا حال اور بانکے دھیاڑے یقینی۔ وطن عزیز میں ان دنوں بھی ان دونوں پہیوں میں کافی فرق اور تضاد ہے۔ معیشت کا پہیہ جام ہونے کے قریب اور سیاست کا پہیہ ان حدوں کے اندر بھی رواں دواں جہاں اس کی موجودگی بھی خلاف آئین ہونے کا گہرا ادراک پایا جاتا ہے۔

عام آدمی اور ملک کی معیشت کا پہیہ انتہائی بری پالیسیوں، فیصلوں، اللے تللوں، کرپشن اور لوٹ مار کے 'ٹریک' پر ہونے کی وجہ سے تقریباً رک چکا ہے۔ قوم و ملک پر اوپر سے مسلط ہونے یا کی جانے والی حکومتوں کی طرح مہنگائی بھی بھاری مینڈیٹ اور پوری استبدادیت کے ساتھ قوم و ملک پر مسلط ہے۔ حکمران اور مہنگائی عوام پر تسلط کے حوالے سے ایک صفحے پر ہیں۔

زر مبادلہ کے ذخائر میں تاریخی کمی ہے، توانائی کا پھر سے بحران در آیا ہے۔ پاکستانی روپے کا عالمی کرنسی مارکیٹ میں اسی طرح بے قدر ہو چکا ہے جس طرح پاک وطن میں عام پاکستانی، غریب شہری اور سیاسی جماعتوں میں عام کارکنوں سے لے کر دوسرے درجے تک کی قیادت بے قدری اور بے توقیری کا شکار رہتی ہے۔

ہاں ملکی اشرافیہ، قائدین سیاست وحکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے حالات مختلف ہیں۔ یہ بھی گراوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر صرف اخلاقی گراوٹ کا۔ جیسا کہ آئے روز ایک دوسرے کو عریاں اور بے حجاب دکھانے کے لیے 'آپریشن رد شرم وحجاب' شروع کر کے خود بھی بے نقاب ہونے کی راہ پر ہیں۔ اللہ رحم فرمائے۔

ملکی سیاست کا پہیہ گھوم گھوم کر تیزی میں ہی رہتا ہے۔ کراچی میں متحدہ کی سیاست اور لندن مقیم سابق قائد الطاف حسین کا نام بھی پھر میڈیا میں سنے اور سنائے جانے کی تیاری جاری ہے۔ لگتا ہے متحدہ لندن اور متحدہ پاکستان پاک سرزمین کہتے ہوئے باضابطہ طور پر ایک ہو جائیں گی اور پھر سے مکا چوک کی سیاست سے شہر کراچی کو زیروز بر کرنے کی پوزیشن میں ہوں گی۔

لندن میں ہی حال مقیم نواز لیگی اعلی قیادت کی وطن واپسی کے امکانات کی تخلیق کا عمل جاری ہے۔ چپ چاپ اور ملک سے دور رہ کر بھی پاکستانی سیاست میں تلاطم پیدا کر سکنے کی جدید ہنر مندی سے لیس مریم نواز شریف کو ملک اور حکومت سے دور رہنے پر ان کے پارٹی صدر چچا میاں شہباز شریف نے 'انعام کی بارش کر دی ہے۔

مریم نواز کا 'پارٹی میں ایک عہدہ مزید اونچا کر دیا گیا ہے اور دوسرا عہدہ اضافی طور پر ان کے حوالے کر کے انہیں پارٹی کے سب سے اونچے رہنماوں سے بھی اونچا کر دیا ہے۔ مریم نواز شریف اب پارٹی کی سینیر نائب صدر ہو چکی ہیں ۔ علاوہ ازیں پارٹی کی تنظیم سازی کا شعبہ بھی ان کے پاس ہے۔

اس تازہ لیگی فیصلے سے مریم نواز پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی اونچی منصب دار ہو گئی ہیں۔ پہلے بھی وہ ان سب پر بھاری تھیں مگر اب مزید بھاری محسوس ہونے لگیں گی۔ خود میاں شہباز شریف اور پارٹی کی لندن قیادت بھی اب پہلےسے زیادہ ان کی بات سننے اور بطور والد سیاسی چاؤ پورے کرنے کے پابند ہو ں گے۔ مریم نواز علانیہ طور پر 'پارٹی ٹرائیکا' کا حصہ ہیں جنہیں چیلنج کرنا پہلے سے بھی مشکل ہو گیا ہے۔

میاں نواز شریف کی سیاست کے 'پلیٹ لیٹس' بڑھنے کی جو امید پیدا ہورہی تھی۔ اس سے انہیں ہی نہیں ان کی پارٹی کے کئی رہنماوں کو لگتا تھا کہ شہباز حکومت جلد انہیں 'سب اچھا' کی رپورٹ بھیج دے گی۔ لیکن مریم نواز کو تیزی سے پارٹی سربراہی کی طرف دھکیلنے سے لگتا ہے 'سب اچھا کی رپورٹ' کےحوالے سے ابھی 'سب اچھا' نہیں ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

نواز لیگ میں ایک اور تبدیلی کا اشارہ خواجہ سعد رفیق نے دیا ہے۔ ان کے اس اشارے نے ان کی گوجرانوالہ میں کئی سال پہلے کی گئی مشہور زمانہ 'چنا برانڈ' تقریر کی یاد تازہ کر دی ہے ۔اللہ کرے زور 'سخن' اور زیادہ۔

پاکستان اور دنیا بھر میں انسانوں کی بولنے کی طرف آنے کی صلاحیت عام طور ڈیڑھ دو سال کی عمر سے شروع ہو جاتی ہے۔ البتہ کمزور یا ابنارمل بچوں کا معاملہ اسٹیبلشمنٹ کے کھونٹے سے بندھے سیاستدانوں اور آرائشی لیڈروں کی طرح مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے وہ آہستہ آہستہ ہی بولنا شروع کرتے ہیں۔ کئی پہلے آپ پہلے آپ کہتے ہوئے بولنے سے بچتے رہتے ہیں۔ 'اک چپ تے سو سکھ'

گاہے گاہے تو خاموشی ان کا عقیدہ بن جاتی ہے۔ خواجہ سعد نے کہا ہے ساٹھ سے اوپر ہو گیا ہوں اب بھی نہ بولےتو پھر کیا قبر میں جا کر بولیں گے؟ ان کا ساٹھ سال بعد بولنے کا عندیہ اہم ہے۔ یہ تو بولنے کی جرنیلی عمر ہے۔ سب 'کھا کھٹ کر' وقت پیری بولنے لگتے ہیں تو پھر بولتے ہی جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو نوخیز یوٹیوبرز، بلاگرز اور ہیکرز کی طرح۔

خواجہ سعد رفیق کو جرنیلی صحبت تو میسری رہی لیکن وہ 'ایک بہادر آدمی' کے خوشہ چینوں میں بھی شامل رہے ہیں۔ جاوید ہاشمی بھی بہادری کے کئی 'سیزن' کر چکے ہیں۔ کبھی ادھر کبھی ادھر، کبھی اس منڈیر کبھی اس منڈیر پر، کبھی اس گلی کبھی اس گلی۔ آخر میں 'کلم کلی'۔ وہ آج کل اسی 'سیاسی ضعف حلوے' کے اسیر ہیں۔

خیر سعد رفیق کا بولنے کا ایک وقت تب آیا تھا۔ جنرل مشرف کا توتی بولتا تھا۔ وہ اپنے انداز کے جنرل باجوہ تھے۔ میاں نواز شریف ابھی لندن کے لگژری فلیٹوں اور ٹھنڈی فضاوں میں نہیں پہنچے تھے۔ سعودی ساحلی اور اہم ترین تجارتی شہر کے سرور محل میں ملی جلی جلاوطنی کاٹ رہے تھے۔ مریم نواز شریف ابھی سیاسی اعتبار سے پنگھوڑے میں تھیں اس لئے خواجہ سعد رفیق کے لئے بولنے کا خوب موقع تھا۔ مگر خواجہ صاحب اس وقت بھی سیاسی لکنت کے اسیر رہے۔ہاں پیرا گون بھی اسی دور میں آگے بڑھائی۔

خاکسار نے ایک بار نسبت روڈ پر نواز لیگی دفتر میں پریس کانفرنس میں لچھے دار گفتگو سننے کے بعد پوچھا 'خواجہ صاحب اپنی جماعت کو 'ٹو سٹروک' کب کروا رہے ہیں تاکہ آپ کی جماعت ادھر ادھر گلی محلوں میں جلسے جلوس کرنے کے بجائے شہر لاہور کے مرکز مال روڈ پر بھی کوئی سیاسی سرگرمی کر سکے۔ یہ وہی دور تھا جب صرف دھواں چھوڑنے اور شور کرنے والے'ٹو سٹروک رکشوں' کی مال روڈ پر چلت پھرت ممنوع ہو گئی تھی۔ خواجہ صاحب ناراض ہو گئے کہ ان کی جماعت کے اس حال کو پہنچ جانے کی نشاندہی اور بولنے بالنے کی فرمائش کیوں کر دی۔

پریس کانفرنس سے فارغ ہو کر دفتر پہنچا تو دفتر کے دروازے پر ہی چیف ایڈیٹر مجیب شامی صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ ان کےساتھ جمیل اطہر صاحب چیف ایڈیٹر روزنامہ تجارت تھے۔ سلام دعا ہوتے ہی شامی صاحب نے بے دھڑک خواجہ صاحب کی تازہ شکایت پر جواب طلب کر لیا۔ جوابا ًبس اتنا عرض کیا کہ انہیں کہہ دیں پریس کانفرنس نہ کیا کریں صرف پریس ریلیز بھیج دیا کریں۔ جہاندیدہ چیف ایڈیٹر نے کارکن صحافی کے اس جواب کو کافی اور شافی سمجھا۔ اچھی بات ہے کہ خواجہ صاحب نے اب خود بولنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ ایک اچھی تبدیلی ہے مگر 'سٹھ ورہے' گذار لینے کے بعد!

دیر بہت ہو چکی ہے۔ حمزہ شہباز جنہیں لاہور کی سیاست میں مداخلت کرتے دیکھ کر خواجہ صاحب دکھی ہوا کرتے تھے ۔وہ اب سابق وزیر اعلی پنجاب کہلاتے ہیں۔ مریم نواز شریف جن کے بارے میں ان کے والد اور چچا نے چوہدری نثار علی خان ایسے نامی کے تحفظات اور خیالات کی پروا نہ کی تھی۔ اب وہ نئے سال کے ساتھ ہی ایک نہیں دو عہدوں پر متمکن ہو چکی ہیں۔ اس لیے اگر خواجہ صاحب نے اس 'بڈھے وارے' میں پارٹی میں بولنے کا کام شروع کیا تو بے وقت کی راگنی اور کسی دل جلے کی آہ وبکا سے زیادہ کچھ نہ سمجھا جائے گا۔ جو کام سنہ 2000 میں شروع کیا جانا تھا اب بائیس برس بعد کیا رنگ لائے گا۔ کچھ زیادہ توقع نہیں۔ اس لئے جس طرح ریلوے میں اب کسی بڑی چھلانگ کی سکت نہیں ہے ریلوے کے وزیر کو بھی دیکھ بھال کر قدم اٹھانا ہوں گے۔ بہتر ہو اس عمر میں گفتار کے غازی بننے میں نام پیدا کرنے کےکوشش کے بجائے کردار کے غازی بننے کی کوشش کریں۔

توانائیاں ذاتی اور پارٹی کی سیاست کے ہی حوالے نہ کر دیں۔ عام آدمی کی اور ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے اسی جوش وخروش سے کام کریں جس جوش وخروش سے پیراگون کے لیے کام کرتے رہے اور ان کی جماعتی حکومت حالیہ مہینوں میں کیس ختم کرانے کے لیے دن رات ایک کیا ہوا ہے۔ تاکہ معیشت اور سیاست کے پہیوں میں توازن آجائے۔ ارتباط پیدا ہو جائے۔ ہم آہنگی کا فقدان ختم ہو سکے۔ بصورت دیگر پھر آپ حکمرانوں کی نہیں بولنے کی باری عام آدمی کی ہو گی۔ کیونکہ اس کے لیے آپ اور آپ کی حکومت کے پاس کچھ اچھا نہیں ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں