کراچی سے ایک نئی آپشن کی نمود

نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان جمہوری عمل کے ذریعے بنا تھا۔ اس لیے ابھی تک کا اجماع اسی پر ہے کہ اسے چلانے کا بہترین راستہ بھی جمہوریت ہے۔ جمہوریت کی عمل داری جس قدر بڑھتی جائے گی، ملک میں استحکام، ترقی، اطمینان اور ہم آہنگی میں بھی اسی قدر اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ یہ احساس اپنی جگہ اہم اور ضروری ہے کہ پاک سر زمین جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ جس کے آئین میں قرآن و سنت کو بالاتر قانون قرار دیا گیا ہے۔ جس کی پارلیمنٹ کے ماتھے پر کلمہ طیبہ کا جھومر سجایا گیا ہے۔ اس کی جمہوریت، اس کےنظریے اور اقدار کے مطابق ہی ہو سکتی ہے۔

لیکن چند مسئلے جو ہمارے ساتھ شروع سے چل رہے ہیں اور جن مسائل کا جمہوریت کو بھی چیلنج درپیش رہا ہے۔ اس میں سے ایک چیز تو عموماً زیر بحث رہتی ہے، وہ اسٹیبلشمنٹ ہے۔ البتہ جن چیلنجوں پر کم بات ہوتی ہے، ان میں ایک جمہوریت کے لیے لڑنے مرنے اور مارنے مرنے کو تیار رہنے کی دعویدار سیاسی جماعتوں اور قیادتوں کا حقیقتاً جمہوریت مخالف اسلوب و کردارہے، عمل اور تاریخ ہے، چال اور چلن ہے، روائت اور مفاد ہے۔

اسی نے سیاسی جماعتوں کو 'ون مین شو'، شخصی آمریت اور موروثیت کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔ اس پر موروثیت اور خاندانی سیاست یا سیاسی جماعت پر خاندانی ملکیت کے ایشوز بھی کبھی ہلکے انداز میں، کبھی اشارتاً اور کبھی ڈرتے ڈرتے زیر بحث آجاتے ہیں۔ ہماری جمہوریت کو درپیش یہ چیلنج یا عارضہ بنیادی طور پر آمریت کی عطا ہے۔ یہ براہ راست آمریت کا نچوڑ ہے۔ جب سیاسی جماعتیں اسی شخصی یا خاندانی آمریت کے کلچر میں رچ بس جائیں تو جمہوریت کا یہ عارضہ لازمی لاحق ہو جاتا ہے۔ یہ عارضہ جمہوریت کے روح و بدن کو متاثر ہی نہیں کر رہا بلکہ کینسر کی طرح کھا رہا ہے۔

'تو ہمارے پاس متبادل کیا ہے؟' ، 'کوئی اور آپشن ہی نہیں!' ، 'اور کس کو ووٹ دیں؟' وغیرہ وغیرہ۔

ایسے کئی حیلے ،بہانے اور عذر آمرانہ اسلوب کی قیادتیں اور شناختیں گھول گھول کر عوام کو پلاتی رہی ہیں۔ جس طرح چڑیا گھر کے شیر، پنجروں میں بند رکھے گئے پرندے اور بچپن ہی سے زنجیر سے بندھے ہاتھی کے بچوں کی نفسیات بن جاتی ہے کہ بس دھاڑ رہ جاتی ہے، شیر کی جرات ختم ہو جاتی ہے۔ صرف پر رہ جاتے ہیں، طاقتِ پرواز ختم ہو جاتی ہے اور محض جثہ رہ جاتا ہے، طاقت صفر ہو جاتی ہے۔

اہل وطن کی جمہوری سوچ، اہلیت اور ہمت کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اس نے ذات اور اجتماعیت کے شعور کو بھی کچل کر رکھ دیا ہے اور جمہوری روح اور اپروچ کو بھی پنپنے نہیں دیا ہے۔ اگر کبھی کسی نے اس سے ہٹ کر سوچا یا کچھ کرنے کی کوشش کی تو گالی کا نشانہ بنا یا گولی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ پہلے کھڈے لائن لگا یا اور پھر یوسف بےکارواں بنا دیا گیا۔

معراج محمد خان، جے اے رحیم اور نواب محمد احمد خان کے صاحبزادے نواب احمد رضا خان اس نوع کی پرانی اور تاریخی مثالیں ہیں۔ دور جانا برا لگے تو قریب کی مثال چوہدری نثار علی خان کی دیکھ لیجیے۔ حافظ حسین احمد، مصطفیٰ نواز کھوکھر، جسٹس وجیہ الدین احمد، حامد خان ایڈووکیٹ اس طرز کی نئی مثالیں ہیں۔

سیاسی جماعتیں ایسی بہت سی شخصیات کے سیاسی قبرستان کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔ان میں کئی قدیمی سیاسی قبرستان ہیں اور کئی نئے سیاسی قبرستان آباد ہو رہے ہیں۔ ہر صوبے اور ہر ضلع میں ایسی مثالیں جا بجا بکھری ہونے کی وجہ سے ہر دور میں ملتی رہی ہیں۔

سیاسی قیادتوں اور شخصیات کے متبادل نہ ہونے کے پرانے واہمے کی طرح متبادل سیاسی جماعتوں کا نظر نہ آنا بھی اسی نوع کی بلکہ اس سے بھی شدید تر عوامی بیماری رہی ہے۔ اسی وجہ سے عام آدمی کے روٹی، کپڑا اور مکان کے مسئلے آج بھی اسی طرح زندہ ہیں جس طرح 'آج بھی بھٹو زندہ ہے۔' ترقی و خوشحالی اور ہر شہر کو پیرس بنانے کے وعدوں سے لے کر اب نیا ایڈیشن اسلامی ٹچ کے ساتھ ریاست مدینہ کا بھی آگیا ہے۔

یہ نیا اضافہ بہرحال ایک پہلو سے بہت مثبت بات ہے، اس بحث سے قطع نظر کہ قیادت کے منصب کے لیے خوبیاں، بلند کرداری، اہلیت اور شفافیت کا معاملہ کیا رہا اور کیا کیا گل کھلائے گئے۔ مگر یہ ضرور ہوا کہ دو پارٹیوں کا طلسم ٹوٹ گیا۔ یہ ایک خوش آئند آغاز ہے مگر سفر باقی اور منزل ابھی دور ہے۔

جمہوریت اور جمہوری عمل نام ہی مسلسل چلتے رہنے اور شعور کے تواتر کا ہے۔ ذرا رخنہ یا تعطل آیا تو پھر زیرو پوائنٹ سے شروع کرنا پڑتا ہے۔ شعور اور جمہوریت کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے ایک نئی آپشن کی شروعات 15 جنوری کوکراچی سے ہوئی ہے۔ کراچی شروع سے شعور اور آگاہی کا شہر رہا ہے۔ ہاں درمیان میں جاوید لنگڑا کلچر کا کراچی کے شعور پر مکروہ پیوند ضرور لگا دیا گیا۔ کٹی پہاڑی بھی انہی برے دنوں کی جیتی جاگتی مثال ہے لیکن حالیہ بلدیاتی انتخاب نے کراچی کے شعور کا رخ پھر سے نکھرنے کی امید پیدا کی ہے کہ جمہوریت مکے سے نہیں حکمت، محبت اور خدمت سے آگے بڑھتی ہے۔ قوم کو ایک نئی آپشن ملی ہے۔ وطن عزیز کے جمہوریت پسند میڈیا ورکرز کو بھی اس پیش رفت کو مثبت طور پر لینا چاہیے۔

یہ نئی آپشن حافظ نعیم الرحمان اور ان کی جماعت کی صورت میں ہے۔ جماعت اسلامی کے ان لوگوں نے اہل کراچی اور اہل سندھ کے درمیان رہتے ہوئے سیاسی جدوجہد اور سماجی خدمت سے یہ مقام ایک بار پھر حاصل کرنے کی طرف پیش رفت کی ہے۔ عوام اور ووٹروں کو متوجہ کیا ہے کہ۔۔۔گلشن میں علاج تنگی داماں بھی ہے۔

کردار کے قحط، شفافیت کے فقدان کی ملکی قیادت و سیاست میں اصولوں، اقدار اور خدمت و کردار کا رجحان بھی ہے، میلان بھی ہے۔ کیا خیال ہے حافظ نعیم الرحمان اور ان کی جماعت سراج الحق، امیر العظیم، لیاقت بلوچ اور مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں پورے ملک کو یہ پیغام دے سکے گی؟ کیا پورے ملک کے نوجوان، خواتین اور بوڑھے اس تازہ ہوا کے جھونکے کو ملک اور عوام کی بہتری کے لیے ایک آپشن بنا سکیں گے؟

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں