شاہد خاقان: عینی شاہد یا وعدہ معاف گواہ؟

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

سیاست وحکومت کے ایوانوں میں 900 کی تعداد پوری کرنے کے بعد سیاستکاروں یا ظاہری سیاسی بے روزگاروں کے ایک جتھے نے 'حج' کی تیاری شروع کر دی ہے۔ سیاسی بے گھری کے خدشے نے انہیں اس عمر میں مجبور کر دیا ہے کہ یہ نئے سیاسی شکار کے لیے ایک جتھہ بنائیں اور عوام کا پھر سے شکار کریں۔

عوام کے جذبات سے کھیلنا، عوامی مسائل کو اپنے لئے سیاسی مواقع میں تبدیل کرنا، ملک میں حد سے بڑھی ہوئی بے روزگاری کو اپنے روزگار سیاست کے لئے ایندھن کے طور پر استعمال میں لانا ، عوامی و علاقائی محرومیوں کو اپنی دولت مندی کی بلندی اور حصول اقتدارکے لیے سیڑھی کے طور پر استعمال کرنا کوئی سیاستدانوں، سیاست کاروں اور اس نوع کی سیاسی جماعتوں سے سیکھے۔ جن کا عوام سے دور کا تعلق صرف انتخابی ضرورتوں، استحصالی مقاصد اور عوام کومشکل فیصلوں کے لیے تختہ مشق بنانے یا پھراحتجاج کے لیے لاٹھی گولی کی زد میں لانے کے لیے قربت میں بدلتا ہے۔

جبکہ عام حالات تو درکنار حکومتی نا اہلیوں کے سبب آنے والی آفتوں کے دوران بھی ان کا عوام کے ساتھ 'تو کون میں کون ' والا معاملہ ہی رہتا۔ حکومت میں ہوتے ہوئے پالیسیوں اور فیصلوں کے علاوہ بڑے سیاسی قائدین کے گھروں کے عوام کے لیے بند دروازوں اور ان کے مسلح محافظین کے لشکروں کواس حقیقت کی گواہی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر اس سے تسلی نہ ہو تو قائدین سیاست کے بیرون ملک لمبے لمبے قیام کے اربوں کے خراجات سے گذرنے والی پر تعیش زندگی کی طرف نظر دوڑا لینی چاہیے۔ ان کی زندگوں کا نصب العین ہی یہ ہے کہ ' کوئے اقتدار سے نکلو تو ملکوں پار چلو ۔'

بہر حال ایک شرطیہ نئے پرنٹ کے انداز میں جمع ہونے کی کوشش کرنے والے اس سیاسی جتھے نے عوامی جذبات سے کھیلنے کے لیے وہاں سے شروع کیا ہے جہاں محرومیوں کے باعث استحصال کے مواقع سرداروں، وڈیروں اور خوانین خوب فراہم کر رکھے ہیں۔ یقیناً صوبہ بلوچستان اس کی نمایاں مثال ہے۔ بلوچستان اور اس کے عوام محرومی کی دولت سے مالا مال ہیں تو اس کا بڑا کریڈٹ اس محرومی کے پالنہار سرداروں کو جاتا ہے، جو ہمیشہ اقتدار کا حصہ رہے لیکن عوامی محرومی کی سیاست کو انہوں نے کبھی مرنے نہ دیا۔ یہ دھرتی معدنی وسائل سے بھی مالا مال ہے اور محرومی کے بھی یہاں چشمے ابلتے ہیں۔ اس لیے نئے سیاسی جتھے نے اسی بلوچستان سے عوامی محرومیوں کا رونا شروع کیا ہے۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بظاہر نئے تصور پاکستان کے بانی کے طور پر اپنے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ حقیقتاً سیاسی مستقبل کی صورت گری کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے ہمراہ مفتاح اسماعیل ہیں جن کے پاس (زیادہ پرانی بات نہیں) ملکی خزانے کی چابی بھی رہی۔ خود وزیر اعظم کے طور پر شاہد خاقان ملک کے اہم ترین عہدے پر فائز رہے۔ آج بھی مسلم لیگ نواز جس کی ملک میں حکمرانی کے پھریرے لہرا رہے ہیں، موصوف اس کے سینیئر نائب صدر ہیں۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر اپنے والد کے بعد پی پی پی میں ہی رہے، جب تک ان سے پی پی پی نے خود استعفیٰ نہیں لے لیا۔ ان کے والد مرحوم کا تجربہ ایک سے زائد جماعتوں کا رہا۔ وہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بھی رہ چکے ہیں۔ گویا ہر کوئی سیاسی حوالوں سے نابغہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان سب کا طریقہ واردات وہی پرانا ہے جسے حضڑت اقبال نے بعضے فقیہان حرم کے حوالے سے بیان کیا ہے 'خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں'۔ یہ وطن عزیز کی یہ فقہی روایت تو اپنی جگہ، حکومتیں آئین اور قانون کے ساتھ بھی ہمیشہ سے یہی واردات کرتی آئی ہیں۔ یا سیاست کار ہمیشہ پاکستان کو بدلنے کے درپے نظرآتےہیں خود کو تبدیل کرتے نہیں۔

کوئٹہ میں ان کے اولین میزبان قرار پانے والے لشکری رئیسانی بھی کئی جماعتوں میں رہ چکے ہیں۔ وہ بلوچستان میں سرداروں کے سردار قبیلے کے اہم رکن ہیں۔ ان کے بھائی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے موجودہ رہنما ہیں ماضی میں پی پی پی کی طرف سے وزیر اعلیٰ بلوچستان رہ چکے ہیں۔ حکومت واقتدار اور مال و دولت ان سب کے لیے کنیزوں اور باندیوں کی طرح رہے۔

2023 کے آغاز میں انہیں پہلی بار اطلاع ملی ہے کہ 8 کروڑ عوام خط افلاس سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ 80 فیصد بچوں کا مستقبل انہیں پہلی مرتبہ تباہ ہوتا نظر آیا ہے۔ شکر ہے ان کے علم میں یہ بھی بات آگئی ہے کہ پاکستانی مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہوگا۔ آئین کے بارے میں بھی انہیں خبر ملی ہے کہ اس میں قوم و ملک کےسب مسائل کا حل موجود ہے۔ جن ٹاک شوز میں یہ حضرات 'شمع محفل' کے طور پر ہوتے ہیں انہی کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ 'ٹاک شوز' میں پاکستان 'کی بات نہیں ہوتی'۔ بلا شبہ ہر روز ان ٹاک شوز کی زینت بننے والوں سے زیادہ بہتر گواہی کس کی ہو سکتی ہے کہ یہ' ٹاک شوز' میں کیا کرنے جاتے ہیں۔

یہ سب 'اصحاب درد'ماضی اور آج کی حکمران جماعتوں کے اقتدار کا حصہ رہے ہیں۔ بلکہ حصہ دار رہے ہیں۔ ان حکومتوں کا بھی تو یہی حال ہے کہ پاکستان اور پاکستان کے بائیس کروڑ عوام ان کے ترجیحی ایجنڈے پر ہر گز نہیں ہوتے۔ اب ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی طرح سارے ملک کا یہ حال ہے کہ اس میں اقتدار اور پارلیمان میں وہ لوگ نظر آتے رہے ہیں جو عوامی نمائندہ نہیں تھے۔ جو غیر نمائندہ لوگ تھے۔ گویا انکشاف در انکشاف کا ماحول ہے۔ جو ان پر طاری ہے

مزے کی بات ہے کہ جن قیادتوں کے فیصلوں اور اقدامات کی وجہ سے ملک اور قوم اس حال کو پہنچے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ آج بھی احتیاط کا شکار ہے۔ شاید معاملہ 'شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے' والا ہے۔ یادش بخیر ۔۔ان میں ایک سابق بیوروکریٹ فواد حسن فواد بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران وزیر اعظم نواز شریف کی وفاداری خوب نبھائی تھی۔ میاں صاحب نے بھی ان پر بہت زیادہ اعتماد کیا۔ ان کے گریڈ سے بڑھ کر انہیں عطا کیا تھا۔

اسی وجہ سے فواد حسن فواد بیوروکریٹ اور سرکاری ملازم ہونے کے باوجود عملاً نواز لیگ میں رچ بس گئے تھے۔ پھر نیب کیسز کی زد میں بھی آ گئے، لیکن اب یہ سب لوگ بظاہر اپنی جماعتوں کی محبت، وفاداریوں سے بالا تو ہو کر نکلے ہیں۔ اللہ کرے سچ ہو۔ البتہ یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ان سب میں سے کسی ایک نے بھی کم از کم پچھلے بیس برسوں کے دوران کی اپنی جماعتوں اور حکومتوں کی عوام اور ملک کے حق میں عدم کارکردگی اور ذاتی و گروہی مفادات کے لیے کارکردگی کی نشاندہی یا اعتراف نہیں کیا ہے۔

مگر کم از کم ماضی پر شرمندہ تو ہوں، اپنی قیادتوں اور جماعتوں سے کی ان خامیوں اور نالائقیوں کا تو ذکر کرین جن کی وجہ سے ملک تباہی کو پہنچا، 8 کروڑ عوام خط غربت سے نیچے گئے، نئی نسل میں سے 80 فیصد کا مستقبل تباہی سے دو چار ہو رہا ہے۔ معیشت خوفناک ہے، سیاسی شرمناک ہے اور مہنگائی بیس کروڑ سے زائد پاکستانیوں کے لیے المناک ہو چکی ہے۔

اس رائے میں بھی وزن ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نئے ابھرتے درد مند جتھے کو کسی اور نے نہیں ان کی اپنی ہی سیاسی قیادتوں نے ہی عوام میں ہمدردی کے ٹچ کے ساتھ ' لانچ 'کر دیا ہے۔ جاؤ عوام کا غصہ کم کریں، متبادل قیادت کے ابھرنے کا راستہ روکنے کے لیے اپنی جماعتوں اور قیادتوں کی مدد کرو ۔ تاکہ عوام آنے والے انتخابات میں صاف ستھری قیادت کی طرف نہ چلے جائیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں