بہترفلاح وبہبودکے لیے ثقافتی خلا پاٹنا

شہزادی لمياء بنت ماجد آل سعود
شہزادی لمياء بنت ماجد آل سعود
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اس عمرکو آنے تک میرا ذاتی مقصد یہ تھا کہ میں ایک زیادہ پائیدار، لچکدار، روادار اور متحد کمیونٹی کی تعمیر کے لیے تعاون کی طاقت کو بروئے کار لاؤں۔اس مقصد کے حصول کے لیے،مجھے یہ احساس ہواکہ یہ کامیابی کافی حد تک ثقافتوں کو جوڑنے پرمنحصر ہے۔جغرافیائی پھیلاؤ سے ہٹ کر،ثقافتوں کو جوڑنے کا مقصد بنیادی معاونت کے نظام،ذاتی اور پیشہ ورانہ چیلنجوں سے بالاترہوکر حاصل کیا جاسکتا ہے۔بنیادی طور پریہ زیادہ سے زیادہ معاشرتی فوائد پیدا کرنے کے لیے تنظیموں کے اندراورباہرمشترکہ اقدار کی تشکیل کے ساتھ شروع ہوتااور پھیلتا ہے۔

دنیا بھرمیں ثقافتی اور تخلیقی صنعتیں سالانہ 2,250 ارب ڈالرپیدا کر رہی ہیں اور تین کروڑملازمتیں پیدا کر رہی ہیں۔سعودی عرب میں ان سے قریباً15 ارب ڈالر سالانہ پیدا ہورہے ہیں جو ایک اندازے کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو کا 13 فی صد ہے۔ سعودی عرب میں فنون لطیفہ اور ثقافت کا نیامنظرنامہ تیزی سےاُبھررہا ہے۔

مملکت میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے چھے مقامات ہیں جبکہ 10 مزید مقامات کو فی الحال اس عالمی ادارے کی عارضی فہرست میں رکھا گیا ہے۔عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کے 44 ویں اجلاس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب خلیج میں یونیسکو کے ثقافتی ورثے کی سب سے زیادہ تعداد کامقام ہے۔ مملکت کی مالامال ثقافت اس کے لوگوں کے تنوع، سماجی اقدار، سخاوت اور اسلامی اقدار سے تشکیل پاتی ہے۔یہ سب سعودی عرب کی ثقافتی شناخت کی بنیاد ہیں۔ہم نے اپنے ملک کے ثقافتی شعبے میں ناقابل یقین تبدیلی اور ترقی دیکھی ہے۔خاص طور پر ملک کے معیشت کو متنوع بنانے کے بلیو پرنٹ، ویژن 2030 کے ساتھ ۔اس کا مقصد بین الاقوامی انفراسٹرکچر کی ترقی کوآگے بڑھانا ہے۔ایک توانا آزاد فنون لطیفہ کا منظرروزبروزایک جاندار بین الاقوامی کشش میں تبدیل ہوتاجارہاہے۔اس وقت اس امرمیں دلچسپی لینے کی ضرورت ہے کہ تعلیم، آرٹ اور ثقافت کے ذریعے اپنے ورثے اوراقدارکی تشہیرکی جائے اور اس کو فروغ دیا جائے۔

2011ء میں وینس میں منعقدہ دوسالہ بین الاقوامی ثقافتی نمائش میں سعودی عرب کی افتتاحی شرکت سے لے کرالدرعیہ میں پہلی دوسالہ بین الاقوامی ثقافتی نمائش کے انعقاد تک سعودی عرب کو معاصر آرٹ میں ایک اہم کردارکے طورپرنشان زد کیا گیا ہے۔ سعودی عرب اب دنیا میں اسلامی فنون کی دوسالہ بین الاقوامی نمائش منعقد کرنے والا پہلا پلیٹ فارم ہے اور وہ اپنے افتتاحی ایڈیشن کے لیے ’اوّل بیت‘ کے موضوع کے تحت غیردستاویزی تاریخوں کو دستاویزی شکل دے رہا ہے اور متنوع ثقافتوں کوباہم جوڑنے کا کام کرہاہے۔

الولید خیراتی ادارے (فلانتھروپیز) میں ہم نےعالمی مواقع اور چیلنجوں کو یک جاکرنے کے ساتھ ساتھ ان پیش رفتوں پرگہراغوروفکر کیا ہے۔ نیزیہ کہ ہم اپنی شراکت داریوں، منصوبوں اور تعاون کو ثقافت کے خلا کو پر کرنے کے لیے کس طرح ایک نئی سطح پرلے جا سکتے ہیں؟اکیڈیمک اور ثقافتی تعلیم کی طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم نے الولید کلچرل نیٹ ورک کا آغازکیا تاکہ سعودی عرب اوراس سے ماورا بڑی تبدیلی اورتنوع کے دورمیں معیشت، تخصص، کالجیئٹ اور ثقافتی صنعتوں کی سطح پررواداری اور بین الثقافتی تفہیم کوآگے بڑھایا جا سکے۔الولید کلچرل نیٹ ورک ایک بین البراعظمی پلیٹ فارم ہے جو سات سے زیادہ معروف تعلیمی اور ثقافتی اداروں کے ذریعے مشترکہ معلومات کا اشتراک کرتا ہے۔ ثقافت کی ابتدائی تفہیم یہ ہے کہ ان تاریخی تحریکوں پرتبادلہ خیال کیا جائے جنھوں نے عالمی تنقیدی سوچ کومہمیزدی ہے اور دیگرشعبوں اورعقائد کے سلسلے میں اس کے کرداری تنوع کوتلاش کرنا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو معاشروں کوان مثالی تکنیکی تبدیلیوں سے جوڑتی ہے جو آج کی ہماری ہائبرڈ دنیا میں رونما ہورہی ہیں۔

اس طرح، گورننس کے ڈھانچے میں شفافیت کو بلاتعطل آگے بڑھنا چاہیے اور وہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط فریم ورک فراہم کرے اور شراکت داراداروں، برادریوں اورمتعلقہ فریقوں (اسٹیک ہولڈرز) کے مفاد میں مواقع سے ذمہ داری سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ذمہ دارانہ نظم ونسق کے لیے ایک ٹھوس بنیادی نظام میں مشغول ہونے ، تعمیر کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے بصیرت کا ایک ممتازادارہ جاتی ذخیرہ درکارہوتا ہے۔خاص طور پر جب بین الثقافتی سفارت کاری اور گفتگو کی بات آتی ہے۔ ایک رفاہی ادارے کی حیثیت ہمیں ان لوگوں کو مواقع فراہم کرنے میں مستعد بناتی ہے جن کے پاس ٹھوس وسائل تک رسائی نہیں ہے۔

فنون لطیفہ، ثقافت اورتعلیم کےمضامین کو ایک عالمگیرنقطہ نظرسے دیکھا جاتا ہے۔تعلیم کا مقصد آگاہی اوررواداری کو فروغ دینا ہے تاکہ یہ تسلیم کیا جاسکے کہ دنیا بھرمیں متنوع ثقافتوں کی قابل ذکرتاریخ اوراس کا تبادلہ ایک قدرِمشترک ہے۔ مشترکہ مکالمہ ہر جغرافیائی محل وقوع، تعلیمی نظام اورثقافتی ادارے میں جڑا ہوا ہے۔اس کی ثقافتی، معاشرتی، تکنیکی اورسائنسی ترقی میں جڑیں پیوست ہیں،خاص طور پر جب ہم آہنگی کے سیاق وسباق اورعلمی نوادرات کے ذخیرے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔بین الثقافتی گفتگو کوآگے بڑھانے کے لیے وقف پلیٹ فارم ایک ذریعہ کے طور پرکام کرتے ہیں توان کے ذریعے دنیا مختلف ثقافتوں، مذاہب اورعقائد کو تلاش کرسکتی ہے اورمشمولہ تفہیم کو بہتر بناسکتی ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں