پولیس چھاؤنی پر دشمن کا حملہ!

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پولیس لائنز پشاور کی مسجد میں ہونے والے خوفناک دھماکے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک سو سے زائد قیمتی اور بے گناہ جانوں کا نقصان کبھی نہ بھول سکنے والا سانحہ ہے۔ شہدا کی اکٹریت پولیس اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ لاریب یہ اپنے محکمے کے بہتر لوگوں میں سے تھے۔ اس لئے ان کا اس طرح اچانک قوم سے چھن جانا ایک قومی سانحہ ہے۔

مگر اس سانحے کو ایک خطرناک پیغام اور خطرے کی گھنٹی کے طور پر بھی محسوس کیا جانا چاہئے۔ پولیس لائنز کا مطلب اندرونی سکیورٹی سے متعلق سب سے اہم ادارے پولیس کی چھاؤنی کی ہے۔ فوج کا کام ملک کو بیرونی خطرات سے محفوظ کرنا اور سرحدوں کا دفاع ہوتا ہے۔ جبکہ پولیس اندرونی محاذ پر ہمہ وقت شہریوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اس پر حملہ براہ راست ملک وقوم پر حملے سے کم نہیں یے۔

چند سال قبل راولپنڈی کی پریڈ لین مسجد اور اس کے کچھ عرصہ بعد جی ایچ کیو پر اسی طرح کا سخت تکلیف دہ دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ پھر پشاور میں ہی آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوا۔ پچھلے سال پنجگور اور نوشکی میں فوجی کیمپوں پر انتہائی مختلف انداز کے حملے ہوئے۔ کئی سال قبل لاہور میں آئی بی، آئی ایس آئی، نیول وار کالج اور پولیس کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، کوئٹہ اور کراچی بار بار اس طرح کی تباہی کی زد میں آ چکے ہیں۔ یہ سب واقعات بلا شبہ زندہ اور بے حسی سے بچے ہوئے قائدین اور عمال حکومت کو جھنجوڑنے لئے کافی ہونے چاہئیں تھیں۔ مگر بدقسمتی سے کافی ثابت نہیں ہوئے۔ نتیجتاً پشاور میں تازہ سانحہ سامنے آ گیا۔

یہ دھماکہ صرف مسجد کے حوالے سے دیکھنے کا ایک رجحان غالب نظر آتا ہے۔ اس کی وجوہات نظر انداز نہیں کی جا سکتی ہیں۔ لیکن اس سانحے کا تعلق صرف مسجد کے تقدس تک محدود نہیں ہے۔ پولیس لائنز 'پولیس چھاونی' کا درجہ رکھتی ہے۔'پولیس چھاؤنی' پر حملہ ملکی سرحد پر در اندازی سے کہیں زیادہ سنگین معاملہ ہے۔ پاکستان کا دشمن گھر کے اندر تک پہنچنے کا ایک مرتبہ پھر اعلان کر رہا ہے۔

پشاور کی اس 'پولیس چھاؤنی 'کا محل وقوع بھی اس امر کا گواہ ہے کہ دشن نے اندر گھس کر مارا ہے۔ اس پولیس چھاؤنی کے گرد وپیش میں اہم سرکاری دفاتر کا ایک جال ہے۔ اس لیے اگر یہ بات درست ہے جس کا اظہار غیر محتاط گفتگو کے عادی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کیا ہے تو انہیں تو قوم سے اپنی نااہلی کی معافی مانگتے ہوئے گھر چلے جانا چاہیے تھا کہ بطور وزیر دفاع سرحدوں کی حفاظت کے ذمہ دار محکمے کی نگران وزارت کا قلمدان ان کے پاس ہے۔ مگر انہیں کوئی شرمندگی نہ ملال۔ صرف وقتی اور زبانی ابال۔ کوئی عمل نہ کردار ۔۔ صرف گفتار ہی گفتار۔

اس قدر غیر ذمہ داری اور غیر سنجیدگی کی توقع سیاسی چٹکلوں اور شعبدہ بازی کے حوالے سے تو چل سکتی ہے ملکی سلامتی، شہریوں کے جان ومال اور ملک کی تزویراتی اور خارجہ پالیسی کے معاملات کے ساتھ میل نہیں کھاتی۔ یہ غیر معمولی تحیر کی بات ہے کہ ملکی حساس ادارے اس بدترین سانحے کوروکنے میں تو درکنار اس کی قبل از وقت انٹیلی جنس کے حوالے سے کوئی آڈیو اور وڈیو نہ بنا سکے۔

البتہ سانحے کے فوری بعد سب کچھ آناً فاناً معلوم ہو گیا کہ دھماکہ کس نے کیا، کس نے کرایا۔ یہ جتنا بڑا سانحہ ہے اس کے لیے اتنی ہی سنجیدہ تحقیقات کے اہتمام کے بعد لب کشائی بہتر ہوتی۔ اپنی مغربی سرحد پر مسائل کم کرنا ہماری ہمیشہ کی ضرورت رہی ہے۔ اس ضرورت کو سنجیدگی کے ساتھ دیکھنے سے عاری انداز مزید مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ سلسلہ جنبانی کی ضرورت ہے۔ مگر اس انداز سے اور ان شخصیات کے ذریعے جن کی طالبان کے ہاں وقعت و عزت ہو، ساکھ ہو۔ یہ سفارتی نزاکت نظر انداز نہ کر کے بہتر نتائج لیے جا سکتے ہیں۔ مولا ناعبدالاکبر چترالی نے چند ہفتے قبل اس جانب توجہ دلائی تھی، مگر پارلیمنٹ میں قومی مسائل پر بات کا رواج نہ ہونے کی وجہ سے انہیں لینے کے دینے پڑ گئے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے حالات کی سنیگین سمجھنے والے اس پارلیمنٹیرین کی تجویز کو پارلیمنٹ نے ایک کامل 'فیمینسٹ فورم' کے انداز میں ایک نئی بحث کا موضوع بنا دیا۔ یوں اصل بات بیچ میں ہی رہ گئی۔

مشاہد حسین سید کی سینیٹ میں حالیہ تقریر کا بھی اسی طرح رد عمل آیا۔ حتیٰ کہ اس صاحب الرائے پارلیمنٹیرین کو پہلے سینیٹ سے استعفیٰ دینے کے لیے کہہ دیا گیا کہ اگر رائے رکھنی ہے اور اس کا اظہار کرنا ہے تو سینیٹ کی رکنیت چھوڑ دو۔ سیاسی جماعتوں میں اپنے سینئیر لوگوں کی برداشت کی حالت یہ ہو گئی ہے ۔

سانحہ پولیس لائنز پشاور کے بعد بھی اگر سنبھلنے کی کوشش کے طور پر کچھ فیصلے کر لیے جائیں تو مناسب ہو گا، ممکن ہے کچھ مزید سانحات سے بچت ہو جائے۔

پارلیمنٹ کو مکمل کیا جائے۔ اس کے لیے تمام سیاسی جماعتیں اپنے جماعتی اور پارٹی قیادتوں کے ذاتی یا خاندانی مفادات سے اوپر اٹھ کر قومی و ملکی مفادات کے پیش نظر مفید دیکھیں تو فی الفور نئے انتخابات کے لیے آمادگی کا اعلان کریں۔ تاکہ بقول مشاہد حسین سید 'لولی لنگڑی 'حکومت' کی جگہ ایک موثر حکومت کا امکان پیدا ہو سکے۔

پارلیمنٹ کو گالی گلوچ اور الزام واتہام کے فورم کے بجائے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے قوم کے نمائندہ پلیٹ فارم کے طور پر متعارف کرایا جائے۔ تاکہ اس میں پالیسیاں بن سکیں اور بہتر ہو سکیں نہ کہ یہ محض ذاتی وگروہی مفادات کے تابع آئینی و قانون کے ادل بدل کا اڈہ بن کر رہ جائے۔ اسے قسمت نوع بشر تبدیل کرنے کا مرکز یعنی عام پاکستانی کے فائدے کے لیے سرگرم ادارے کی نئی شناخت دی جائے۔

اگر یہ سچ ہے کہ قوم کو دہشت گردی اور 'ففتھ جنریشن وار فئیر' کے سنگین تر چیلنجوں کا سامنا ہے تو دہشت گردی کے قانون کا اطلاق ذاتی یا سیاسی مخالفین پر ہر گز نہ لگایا جائے بلکہ اسے صرف دہشت گردوں کے لیے اور وہ بھی پوری امانت ودیانت کے ساتھ استعمال کیا جائے۔

پولیس کو مضبوط کیا جائے۔ اس کے لیے تربیت کے تمام پہلووں کو خیال میں رکھا جائے۔ اخلاقی تربیت کو پیشہ ورانہ تربیت میں خشت اول کے طور پر لیا جائے۔ وسائل فراہمی کے حوالے سے چونکہ پولیس کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے تو اسے بھی پوری طرح لیس کیا جائے۔

ملک کے تمام سیکیورٹی اداروں بشمول پولیس کے کارکنوں کی تنخواہوں اور مراعات میں افراط و تفریط کو ختم کرکے یکسانیت پیدا کی جائے۔ گلی محلوں اور گھر کی دہلیز پر شہادت پیش کرنا بھی کافی بڑی قربانی ہے اس کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔ خصوصاً جب دہشت گردی کا چیلنج سنگین تر ہے اور ملک کے طول و عرض میں پھیلا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس سے پولیس میں بہتر ٹیلنٹ اور دانش و لیاقت کے لوگوں کے آنے کی حوصلہ افزائی ہو گی اور رشوت کے مسائل کم ہو سکیں گے۔

اگر یہ بھی درست ہے کہ 'ففتھ جنریش وار' کا سامنا ہے تو اس کا ایک اہم محاذ پر میڈیا کے سارے شعبے درجہ بدرجہ کھڑے ہیں۔ ان ' ابلاغ کے سپاہیوں' کو اپنی قوت بنائیں۔ یہ مضبوط ہوں گے تو قومی مفاد کے لیے بہتر مقابلہ کر سکیں گے۔ جہاں جائز بنیادوں پر قواعد کی عمل داری کی ضرورت ہے وہ ضرور کی جائے، مگر متجاوز قانون اور قدغن مفید نتائج نہیں دے سکتی۔ ابلاغ کے محاذوں پر کھڑے ان 'سپاہیوں' کو توانا کیا جائے کمزور نہیں۔

قوموں کے مابین اس محاذ کی لڑائی شدید تر اور چومکھے انداز میں لڑی جا رہی ہے۔ معیشت، سیاست، سفارت اور ثقافت سمیت ہر میدان کے لیے اس کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ اس شعبے کو جسے نام نہاد انداز یا افسانوی پیرائے میں ریاست کے چوتھے ستون کا نام دیا جاتا ہے۔ اسے معاشی عدم استحکام کا شکار نہ بننے دیا جائے کہ اس محاذ پر کھڑے 'سپاہی' اپنے قلم غیروں کو بیچنا شروع کر دیں۔ صحافتی کارکن کو دوسرے محاذوں پر لڑنے والوں سے بعض گوشوں میں زیادہ اہم لڑائی لڑنا ہوتی ہے اس لیے انہیں بے دست و پا نہ کیا جائے۔ خصوصاً اب جبکہ ' ففتھ جنریشن وار' کا ہر جگہ شدت اور جدت پکڑ چکی ہے۔

قوم پرستی تیز تر ہو چکے بخار کو حکمت ، تربیت اور تعلیم کے ذریعے ٹھیک کیا جائے۔ لسانی ۔ علاقائی ، نسلی اوع فرقہ ورانہ تقسیم دشمن کے لیے ایندھن کاباعث بن رہی ہے۔ کراچی ، اندرون سندھ ، بلوچستان میں مسائل کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ وزیرستان کو اس کے مرکز میں بدلنے کی کوشش کافی برسوں سے جاری ہے۔ اسے حکمت کے ساتھ ڈیل کرنے کی ضرورت بڑھ چکی ہے۔

آخری بات جس کا جو کام ہے اسے وہیں تک محدود رکھا جائے۔ دوسروں کی رائےسنی جائے۔ ریاستی اور حکومتی طاقت ، اختیار اور وسائل کو قومی امانت کے طور پر استعمال کیا جائے۔ انہیں یتیم کا مال یا شیر مادر نہ سمجھ لیا جائے۔

قانون سے ماورا ہونے کی کوشش کی ترک کر کے قانون کے سامنے اسی قدر اخلاص کے ساتھ 'سرنڈر' کیا جائے جس طرح ملک کے باغیوں سے 'سرنڈر' کرانا اچھا لگتا ہے۔ ملک کا باغی اپنی بغاوت کا آغاز قانون کی بغاوت سے ہی کرتا ہے۔ جو اس کے سامنے 'سرنڈر' سے بھاگتا ہے اسے پھر دوسروں کے آگے ' سرنڈر' کرنا پڑتا ہے۔ کیا دوسروں کے سامنے بار بار ' سرنڈر' کرنا عزت وغیرت کو قبول ہو سکتا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں