آٹھویں کثیر الملکی بحری مشق امن 2023 پاکستان کے لیے کتنی اہم؟

ثوبیہ عندلیب
ثوبیہ عندلیب
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

دنیا کی 90 فیصد بین البراعظمی تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس صدی کے آغاز ہی سے بحر ہند کی تجارتی گزرگاہیں بتدریج اہمیت اختیار کرتی چلی گئیں اور خطے کی بڑی طاقتوں کے درمیان بحر ہند کی سمندری گزر گاہوں میں قدم جمانے کے لیے کشمکش جاری ہے۔ بحر ہند اور بحرالکاہل کو ملانے والا خطہ اہم ابھرتی ہوئی معیشتوں کا مرکز ہے۔

سمندروں کی اہمیت کے پیش نظر حالیہ برسوں میں کئی بین الاقوامی اتحاد وجود میں آئے ہیں ۔خصوصا بحر ہند کے علاقے میں بحری اتحادوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان کے لیے بدلتے ہوئے سٹریٹجک منظر نامے میں بلیو اکانومی اور پاکستان بحریہ کی استعداد کو جدید خطوط پر استوار کرنا ایک چیلنج ہے۔ خصوصا اس وقت جب روایتی حریف انڈیا بحر ہند میں اپنے توسیع پسندانہ اقدامات کے تحت جنگی اور دفاعی استعداد بڑھا رہا ہے۔

پاک بحریہ کی جانب سے حال ہی میں آٹھویں کثیر الملکی میری ٹائم مشق "امن 2023" منعقد ہوئی۔ہر دو سال بعد ہونے والی یہ مشق پاکستان بحریہ کے ساتھ ساتھ بحری معیشت اور قوت پر انحصار کرنے والی دیگر طاقتوں کے لیے ایک میگا ایونٹ ہوتا ہے۔

چھ روز تک جاری رہنے والی یہ اب تک کی سب سے بڑی امن مشق تھی جس میں 50 سے زائد ممالک نے بحری جنگی جہازوں، ایئرکرافٹ، اسپیشل آپریشن فورسز اور مندوبین کی کثیر تعداد کے ساتھ شرکت کی۔ مشق کے عزم "امن کے لیے متحد" کے تحت تمام شرکا نے خطے میں بقائے باہمی اور مشترکہ سیکیورٹی کی ضرورت پر زور دیا۔

بحری مشق کے مقاصد میں شریک ممالک کے درمیان ہم آہنگی، امن کا فروغ ، خطے کا بحری استحکام، مشترکہ کارروائیوں کی صلاحیتوں میں اضافہ اور پاکستان کا مثبت تصور اجاگر کرنا شامل تھا۔

بحری قزاقی، دہشت گردی، فضائی دفاع ، سمندری ماحول اور بحری تجارتی راہداریوں کا تحفظ امن مشق 2023 کے اہم پہلو تھے۔ آپریشنل مشقوں کے ساتھ ہی پہلی بار میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں ساحلی علاقوں کے عوام، سمندری وسائل، شپ بریکنگ اور دیگر صنعتی مواقع جیسے امور کو اجاگر کیا گيا۔


کراچی میں امن 2023 مشق - آغاز سے اختتام تک

امن 2023 مشقوں کو دو مراحل ہاربر اور سمندر میں تقسیم کیا گیا تھا۔ "ہاربر" مرحلے میں دوستانہ میچ، کراس ڈیک وزٹ، بین الاقوامی بینڈ ڈسپلے، بحری دہشت گردی کے خلاف مشق کا مظاہرہ، کانفرنسں، اور مباحثے شامل تھے۔
سمندری مرحلہ بین الاقوامی فلیٹ ریویو کے ساتھ ساتھ دیگر سرگرمیوں جیسے سرفیس فائرنگ اور فضائی یونٹوں کے ذریعے فلائی پاسٹس وغیرہ پر مشتمل تھا۔

اہم سرگرمیاں

امن 2023 کے تحت ملکی اور غیرملکی بحری جنگی جہازوں اور ائیر فلیٹس نے کھلے سمندر میں متعدد مشقیں کیں۔
مشق کے دوران جہازوں میں ری فیولنگ کا مظاہرہ کیا گیا جبکہ پاکستان بحریہ کے جوانوں نے سی کنگ ہیلی کاپٹر اور اسپیڈ بوٹس سے بحری قذاقوں کے خلاف آپریشن کا مظاہرہ کیا۔

پاکستانی بحریہ، چین اور انڈونیشیا کے جنگی بحری جہازوں نے کھلے سمندر میں ہیوی گن فائرنگ کا مظاہرہ کیا جبکہ پاک بحریہ نے راکٹ فائرنگ کا بھی مظاہرہ کیا۔ جے ایف 17 تھنڈر، پی تھری سی اورین، اے ٹی آر طیاروں، سی کنگ ہیلی کاپٹرز اور زولو ہیلی کاپٹرز نے فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا۔

مشقوں کے تیسرے روز منوڑا میں ہاربر فیز کے دوران پاک بحریہ کی اسپیشل آپریشنز فورسز اور پاک میرینز نے دیگر سرگرمیوں کے ہمراہ انسداد دہشت گردی میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ پیش کیا۔

پاکستان نیوی کے سی ایگل ٹروپرز نے دس ہزار فٹ کی بلندی سے شریک ممالک کے پرچموں کے ساتھ چھلانگ لگائی اور پیرا شوٹ کی مدد سے کامیاب لینڈنگ کی۔

انڈونیشیا، امریکہ، اٹلی، سری لنکا، جاپان ،چین اور ملائشیا کے جہازوں اور میزائل بوٹس نے بھی آپریشنل مشقوں میں حصہ لیا۔


انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس

اس سال کی اہم پیش رفت مشقوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی پہلی انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کا انعقاد بھی تھا۔ 10 سے 12 فروری 2023 تک جاری رہنے والی اس کانفرنس کا مقصد پاکستان میں میری ٹائم سیکٹر کی ترقی اور بلیو اکانومی کو فروغ دینا ہے۔

کانفرنس کے موضوعات میں بندرگاہوں کے آپریشنز، میری ٹائم لاجسٹکس، سمندری نقل و حمل، جہاز سازی اور مرمت، شپ بریکنگ، ماہی پروری ،آبی زراعت اور سمندری وسائل کی تلاش وغیرہ کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور تعاون کو فروغ دینا شامل تھا۔

نمائش کے دوران 20 مفاہمت کی یادداشتوں، 1 مشترکہ منصوبے اور خام لوہے کی برآمد کے لیے 1 خرید و فروخت کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

یہ کانفرنس ممکنہ طور پر پاکستان کے صنعتی سیٹ اپ کو مہمیز دینے کے لیے مشترکہ منصوبوں کے آغاز، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تحقیق کے ساتھ ساتھ بلیو اکانومی میں پاکستان کی وسیع صلاحیت کو اجاگر کرنے کا ایک بہترین فورم ثابت ہوگی۔ خصوصا ایسے وقت پر جب روایتی حریف انڈیا دفاعی خود انحصاری سے آگے بڑھ کر اپنی دفاعی برامدات میں تین گنا اضافے کا اعلان کررہا ہے۔

مشقوں کے ذریعے تعاون اور امن کا فروغ

پاکستان تحارت کے لیے سب سے پہلے کراچی کی بندرگاہوں ، پھر گوادر اورپھر اپنی جغرافیائی لوکیشن پر انحصار کرتا ہے۔ اسی طرح بحر ہند ایشیا کی بڑی معیشتوں کے لیے توانائی کی نقل و حمل اور تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔

اس پس منظر کے ساتھ مشترکہ مشقوں کے تحت خطے کی اجتماعی سیکیورٹی کی صلاحیت کو بڑھانا نہایت اہم ہے۔
مشقوں کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل امجد نیازی کا کہنا تھا کہ میری ٹائم سکیورٹی کو غیر روایتی خطرات کا سامنا ہےاور ماحولیاتی تبدیلی نے سمندری پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔

کمانڈر پاکستان فلیٹ وائس ایڈمرل اویس احمد بلگرامی نے کہا کہ "مشق کا مقصد بحری سیکیورٹی کے لیے دوستی اور پارٹنر شپ کو فروغ دینا ہے اور ان مشقوں کا فائدہ تمام شریک ملکوں کو ہوگا"

کمانڈر پاکستان فلیٹ کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام یقینی بنانے کے لئے مشترکہ میری ٹائم سکیورٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہے؛ یہ بحری مشق امن معلومات کے تبادلے، باہمی اتفاق رائے اور مشترکہ بحری مفادات کو اجاگر کرنے کے لئے مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔

ہندوستان کا ردعمل

امریکہ، روس، آسٹریلیا، چین، سعودی عرب ، ترکی، برطانیہ، فرانس، اٹلی، جاپان سمیت دیگر کئی ممالک اس بحری مشق میں حصہ لے چکے ہیں تاہم پاکستان کی جانب سے دعوت کے باوجود ہندوستان اس فورم سے غائب رہتا ہے۔
انڈیا ، اس کے برعکس بحر ہند میں اپنی عملداری بڑھانے کی کوشش میں متعدد بین الاقوامی دفاعی معاہدوں اور مشقوں کا دائرہ وسیع کر رہا ہے۔ مالابار ، "ٹروہیکس" اور کواڈ کے تحت جنگی مشقوں کے علاوہ متعدد بین الاقوامی مشقیں اور اتحاد اس بات کا مظہر ہیں ، جن میں 2020 کس بعد غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

امن سیریز کی عالمی سطح پر پذیرائی

امن سیریز کی مشقوں کو پاکستان بحریہ کے اہم اقدامات میں شمار کیا جاتا ہے۔2007 میں پہلی امن مشق میں دنیا کے 27 ممالک نے شرکت کی جبکہ 2023 میں 50 ممالک شریک ہوئے۔

گویا اس بحری مشق میں حصہ لینے والی ملکوں کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی جبکہ گزشتہ 16 سالوں میں، پاکستان کثیر الاقوامی مشترکہ میری ٹائم فورس کا ایک اہم اور قابل اعتماد رکن بن گیا ہے۔

بحرہند کے تمام ممالک سمندر کے حوالے سے اپنے کردار کا احساس کر رہے ہیں، اور اب انہیں علاقائی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے ایک مربوط بحری ردعمل کی ضرورت ہے تاکہ محفوظ "بلیو اکانومی" ایجنڈا کے تحت مل کر کام کرنے کی صلاحیت اور بحری قزاقی کے خاتمے کے لیے موثر اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔

انٹر آپریبلٹی، یعنی بحران کے وقت ایک دوسرے کے ساتھ آپریشنل سازوسامان اور حکمت عملی کے ساتھ تعاون کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔امن مشق ایک ایسا فورم ہے جہاں شریک ممالک معلومات کا تبادلہ کر سکتے ہیں، باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دے سکتے ہیں، مشترکہ دلچسپی کے شعبوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں اور سمندر میں مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی وضع کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے بحری دفاعی خود انحصاری اور جدیدکاری کے سفر میں یہ مشترکہ مشقیں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب مختلف ممالک کی امن مشق میں ہر سال بڑھتی ہوئی دلچسپی پاکستان کی سفارتی تنہائی کا نعرہ لگانے والے حلقوں کے لیے واضح پیغام ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں