پشاور کے بعد کراچی پولیس پر بھی حملہ

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

پھر پولیس چھاؤنی سے متصل کراچی پولیس کے سب سے بڑے مرکز پر دہشت گردوں نے حملہ کیا گیا۔ پھر تڑتراہٹ کی خوفناک آوازوں نے عروس البلاد کے باسیوں کو خوف میں مبتلا کر دیا۔ پھر دستی بم پھٹے، پھر خودکش جیکٹوں کی اطلاع آئی اور پھر خون بہا۔ پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کے علاوہ ایک بغیر وردی شہری بھی شہید ہوگیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ البتہ اچھی خبر یہ ہے کہ پولیس ہیڈکوارٹرز کو کئی گھنٹوں کے مقابلے کے بعد دہشت گردوں سے خالی کرا لیا گیا ہے اور تمام دہشت گرد حکومتی بیان کے مطابق ہلاک ہو چکے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس دہشت گردانہ کارروائی کے لیے ایک بار پھر سیکورٹی کے سارے حصار توڑ کر کراچی پولیس کے اہم ترین مرکز پر حملہ آور ہونے میں کامیاب ہونے والے دہشت گردوں کی سہولتکاری کون کون کر رہا ہے۔ یقیناً اس پر پولیس اور وہ تمام حساس ادارے اپنی اپنی خبر لائیں گے، بیانات کے گھوڑے دوڑائیں گے، دعوے کریں گے اور ملزمان کو کٹہرے میں لائیں گے۔ بیانات، دعوؤں، گرفتاریوں کے انکشافات کی اس ہما ہمی میں شاید اس بڑے سہولتکار کی طرف توجہ ہی نہیں جا سکے۔ جو پشاور پولیس چھاؤنی کے حالیہ المناک واقعے کے بعد بھی دہشت گردی کی اس کارروائی کو نہ روک سکا۔

یہ سہولتکار سیاست و اقتدار کی وہ اندھی ہوس میں بے سدھ حکمران، حکمران طبقہ اور سیاستکار ہیں جنہوں نے ماہ جنوری کے اواخر میں پشاور پولیس چھاؤنی کی مسجد میں ہونے والے دھماکے کے بعد ایک سو سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی کے بعد بھی اقتدار کی ہوس اور نشے سے دوری اور دینی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے سنجیدگی اختیار نہ کی تھی۔اس بارے سوال ہی نہ کیا کہ خفیہ آڈیو ویڈیو تیار کرنے کی اعلیٰ ترین مہارت کی شہرت پیدا کرنے والے ادارے کیوں اس بارے میں انٹیلی جنس گیدرنگ نہ کر سکے۔ کیسے ناکام رہے۔ دہشت گردوں کو اس پولیس چھاؤنی تک پہنچنے سے پہلے کہیں بھی کیوں روکا نہ جا سکا۔

وزیر اعظم میاں شہباز شریف لہو لہو پشاور میں وارد ہوئے تو وہ 416 ارب کے لیے بالکل اسی طرح پریشان تھے جس طرح ان کے پیش رو سابق وزیر اعظم عمران خان مقصود چپڑاسی کے حوالے سے ذکر کر کے سولہ ارب روپے کی مبینہ لوٹ مارکی بات کیا کرتے تھے۔ گویا ایک سو سے زیادہ قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد بھی حکومتی سنجیدگی پر سیاست اور سیاست کاری غالب رہی۔ سیاسی ترجیحات کےہاتھوں اسی مغلوبیت کے ماحول میں وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے اہم ارکان نے 'اے پی سی' کے دعوؤں اور نعروں پرکافی بیان بازی کی۔ مگر تین گزرنے کے بعد بھی کسی نے اے پی سی کے لیے عملی سنجیدگی ظاہر نہ کی۔

اسی دوران وزیر اعظم شہباز شریف ترکیہ کے 'ناں ناں' کرنے کے ماحول میں بھی وہاں کا ایک دورہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جبکہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر برطانیہ کے دورے سے ہو کر واپس آگئے۔ حکومت کے ایک اور اہم ستون سابق صدر آصف علی زرداری بھی دبئی چلے گئے۔

بلاشبہ 'اے پی سی' پارلیمنٹ کی متبادل نہیں ہو سکتی تھی۔ مگر ایک رسمی اور ضابطے کی سیاسی کارروائی کے طور پر اس کی ماضی میں بھی ایک اہمیت رہی ہے۔ دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردی کی بدترین واردات کے بعد قوم متحد ہو کر آگے بڑھی تھی اور جنرل راحیل کے زیر قیادت آپریشن ضرب عضب کامیابی سے آگے بڑھا تھا۔ بعد ازاں جنرل باجوہ نے اپنے نئے ایجاد کردہ آپریشن رد فساد کا آغاز کیا ،لیکن ریٹائرمنٹ کے فوری بعد وہ تودبئی کی 'لگژری لائف' میں چلے گئے اورملک فساد اور دہشت گردی کی آگ میں پھر سے جلنے لگا ہے۔ ان کا آپریشن رد فساد کتنا کامیاب ہوا اس کا اندازہ تو ہوتا رہے گا تاہم جنرل باجوہ نے سیاسی میدان میں زیادہ کام ' جہد فساد ' کے حوالے سے ہی کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ملک بدترین سیاسی و معاشی عدم استحکام میں مبتلا ہو چکا ہے۔ دہشت گردی کی یلغار اس پر مستزاد ہے۔

جن کا کام ملک کو امن دینا تھا وہ آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کر کے اپنے اختیار اور اقتدار کی وسعتوں کو پا لینے میں لگے رہے۔ جیسا کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں اپنے غیر رسمی انٹر ویو نما بات چیت میں بھی کیا ہے۔ لیکن دوسری جانب کیا حالات ہیں ان کا اندازپشاور میں پولیس چھاؤنی پر خوفناک حملے کے بعد دہشت گردوں نے کراچی پولیس مرکز پر حملہ سے کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے اس بار بھی انٹیلی جنس ایجیسیز، کاؤنٹر ٹیرارزم کے ادارے، وفاقی وزارت داخلہ اور صوبائی محکمہ داخلہ سمیت سب ناکام رہے ۔ جبکہ حکومت، حکمران سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادتیں خالصتاً سیاسی کھیل اور مال اڑاؤ، کھال بچاؤ اور اولاد کو آگے بڑھاؤ کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں۔

کم از کم دو بڑے صوبوں میں حالیہ دنوں میں بیوروکریسی اور پولیس افسران کے سیاسی تبادلے اسی کھیل کا حصہ ہیں۔ سپریم کورٹ ایک جزوی فیصلہ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے حوالے سے بھی دے چکا ہے ۔ ایک طرف سیاسی تبادلوں کی یہ خدمت نگران حکومتوں سے لی جا رہی ہے تو دوسری طرف پولیس کے سیاسی استعمال کی مہم پورے عروج پر ہے۔

پشاور کے بعد کراچی پولیس نشانہ بن چکی ہے۔ لاہور اور کوئٹہ میں بھی پولیس دہشت گردی کا نشانہ بنتی رہی ہے لیکن اس کے باوجود لاہور پولیس سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے نگران حکومت کے احکامات بجا لانے میں مصروف ہے۔ خدشہ ہے کہ پشاور اور کراچی کے بعد دہشت گرد کسی اور بڑے شہر کو پولیس یا دیگر سول اداروں کے حوالے سے ٹارگٹ نہ کرے۔

جیسا کہ کراچی پولیس مرکز پر حملہ کے بعد ٹی ٹی پی کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'پولیس والوں کو چاہیے کہ فوج کے ساتھ ہماری اس جنگ سے الگ ہو جائیں ورنہ اسی طرح پولیس کے اعلیٰ افسران کے محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔'

ٹی ٹی پی کی ان بڑی کارروائیوں اور دھمکیوں کے ماحول میں سیکیورٹی اداروں کا سیاسی استعمال کچھ عرصے کے لیے ملتوی کر دینا بہت ضروری ہے۔ ورنہ یہ ادارے ایک طرف دہشت گردوں کے نشانے پر ہوں گے تو دوسری طرف عوامی اور سیاسی غیض و غضب کا ہدف بنے رہیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد و یگانگت کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔

پنجاب اور اسلام آباد میں پولیس کا سیاسی استعمال بڑھ جانا اس معاملے میں مزید خطرناک ہے۔ بلوچستان میں بھی سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے پولیس بروئے کار ہے۔ حق دو تحریک کے مولانا ہدایت الرحمان اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری اسی امر کی غمازی ہے۔ اس کے مقابلے میں دہشت گردوں نے اپنی قوت میں اضافہ کر لیا ہے اور حالیہ چند مہینوں میں وہ پھر سے منظم کارروائیاں کرنے کی پوزیشن میں آچکے ہیں۔ ملک کی پارلیمنٹ اس سلسلے میں صرف بیان بازی اور تقریر بازی کا پلیٹ فارم بن کر رہ گئی ہے۔ ایسے میں چند دن تک چین سے نہ بیٹھنے کے دعوے، زبانی بیان بازیاں، محکمہ جاتی قلابازیاں اور حکومتی شعبدہ بازیاں یا شوبازیاں کی جائیں گی اور پھر کچھ عرصے بعد دہشت گردی کے خلاف اپنی قربانیوں کی تعداد کو بڑھا کر کبھی المیے کے طور پر بیان کیا جا ئے گا اور کبھی رمزیہ اور کبھی فخریہ انداز میں عالمی سطح پر پیش کیا جائے گا۔ تقریروں کا حصہ بنایا جائے گا۔

یہ کم ہی سوچا جائے گا کہ 'اپنے اپنے مقام پر کبھی ہم نہیں کبھی تم نہیں۔ ' جس کا جو کام ہے وہ صرف اسی میں کوتاہی کرتا ہے، غیر نصابی سرگرمیوں اور دوسروں کے چھابے میں ہاتھ مارنے میں کوئی شیر ہے تو کوئی دیدہ دلیر ہے۔ حتیٰ کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان عملاً صرف احتساب کمیشن آف پاکستان کے طور پر کام کرنے کو ترجیح بنا چکا ہے۔ ان حالات میں بدامنی اور معاشی بدحالی کا سیاسی عدم استحکام کا لازمی نتیجے کے طور پر سامنے آنا فطری امر ہے۔ پولیس چھاؤنی پشاور کو ملکی سلامتی پر سنگین حملے کی صورت نہ لیا گیا اور کراچی پولیس پر حملہ کیا گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں