ملکی مسائل اور عمران خان کی مقبولیت سے نمٹنے کی تدبیر

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
13 منٹ read

پچھلے چند دنوں سے ' ٹیکنوکریٹس' کی حکومت کی بحث دھیرے دھیرے تیزی پکڑ رہی ہے۔ بحث کا بنیادی نکتہ یہ ہے 'مانا کہ عمران خان آج مقبولیت کے عروج پر ہیں ۔ اس لیے اگلے امکانی انتخابات میں انہیں دو تہائی اکثریت بھی مل جائے گی۔' مگر کیا عمران خان کی مخالف سیاسی جماعتیں اور اس سے نالاں قوتیں اس کی غیر معمولی انتخابی جیت کے بعد بھی عمران خان کی حکومت کو چلنے دیں گی؟

ملکی تاریخ میں گذرے پہلے مقبول عام رہنماوں کے انجام کو سامنے رکھا جائے تو اس نئی شروع کی گئی بحث میں بڑی جان ہے۔ اس سوال میں اتنا دم ہے کہ عمران خان کے لیے بہت محبت اور پسندیدگی رکھنے والے بھی اس پر کان دھرنے لگے ہیں۔ اگر واقعی عمران خان کو کام نہ کرنے دیا گیا تو پھر کیا بنے گا۔ کیا ملک مزید مسائل اور اندرونی کشاکش کا متحمل ہو سکے گا ؟ اس شروع ہوتی بحث کے دوران عروج پر پہنچے معاشی وسیاسی بگاڑ اور اداراتی سطح پر جاری تنازعات کا حل 'ٹیکنو کریٹس' کی حکومت کو بتایا جا رہا ہے۔ اس حل کے ساتھ عمران خان کے بعض پکے حامی بھی سہمت ہوتے نظر آتے ہیں۔

ملکی مسائل کا یہ حل ماضی میں بھی کئی بار ایک امرت دھارے کے طور پر سامنے لایا جاتا رہا ہے۔ اس حل کے قبول کیے جانے کے لیے مدد 'پولرائزڈ ' اور' کمپرومائزڈ ' قسم کی سیاست کی طرف سے بھی مل جاتی ہے ۔ وجہ سوائے اس کے کچھ اور نہیں ہوتی کہ 'ہم نہیں تو تم بھی نہیں' اس لیے موجودہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کی جانب سے ایک بار پھر ٹیکنوکریٹس کی مجوزہ حکومت کی کوئی بڑی مزاحمت ہونے کا امکان کم ہے۔ ممکن ہے حکمران اتحاد میں شامل بڑی جماعتیں اسے اپنی خاموش حکمت عملی کے تحت نعمت غیر مترقبہ کے طور پر لیں کہ ان کی تباہ حال ساکھ اور عوام میں مقبولیت کا گراف اس صورت میں مزید گراوٹ سے محفوظ رہ جائے۔ ملک کے مقتدر حلقوں میں اس طرح کے حل کے لیے آمادگی خوب موجود ہوتی ہے۔ بلکہ ماضی میں دیکھا جائے تو اداروں کا اس سلسلے میں کردار ہمیشہ زیادہ موثر رہا ہے۔ یہ بھی شاید غلط نہ ہو کہ اس طرح کی تجاویزات عام طور پر ادھر سے ہو کر ہی آتی ہیں۔

موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو مقتدر حلقوں کو بھی جنرل باجوہ کے انداز قیادت سے جو دھچکہ لگا ہے اس کے اثرات گہرے ہیں۔ اس لیے سمجھا جا سکتا ہے کہ اس طرح کے کسی بندوبست کے نتیجے میں عزت سادات بچنے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔ لیکن قابل غور سوال یہ ہے کہ اگر 'ٹیکنو کریٹس' کی حکومت کا یہ نسخہ اتنا ہی اکسیر ہے تو ماضی کی حکومتوں میں فعال کر دار ادا کرنے والے' ٹیکنو کریٹس' آج عوامی سطح پر ای ک مثالی قیادت کے طور پر کیوں موجود نہیں ہیں۔ کم از کم عوام کی یادوں میں سمائے ہوئے ہی ہوتے ۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کا کردار اگر واقعی ملک و قوم کے لیے مفید رہا ہوتا تو کم ازکم معاشی حالت اس سطح کو نہ پہنچتی۔ اگر ماضی کے 'ٹیکنوکریٹس' کی لمبی فہرست کو اس تناظر میں جانچنے میں وقت ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ایک ایک کا نام لے کر تاریخ کے کوڑے دانوں سے نکال کر بات کر لی جاتی۔

ماضی کے 'ٹیکنو کریٹس' کی ایک بروئے کار نشانی آج بھی اگر دیکھنا مقصود ہوتو یہ اسحاق ڈار ہیں۔ یہ اس کی بہترین یا بد ترین مثال ہیں اس بارے بھی بحث کا موقع نہیں، حالات خود بول رہے ہیں۔ ڈار صاحب کی حکومتوں میں شمولیت ان کی رشتہ داری سے پہلے ' کاریگری' کی وجہ سے ہی ممکن ہوتی رہی ہے۔ اب کی بار بھی انہیں جس انداز سے لندن میں قائم پاکستان کے سیاسی عجائب گھر سے لایا گیا ہے اور وزارت خزانہ کا قلم دان ان کے پیش رو مفتاح اسماعیل سے چھین کر حوالے کیا گیا وہ سب کے اسی طرح سامنے ہے جس طرح اسحاق ڈار کے ہاتھوں میں قریب المرگ ملکی معیشت کے تڑپ تڑپ کر جان دینے کے مناظر سامنے ہیں۔ہاں اسحاق ڈار نے وطن واپسی کے بعد جس کاریگری سے اپنا ذاتی مال اور جائیداد واپس لی ہے اس سے ان کی' کاریگری اورٹیکنو کریسی ' کی تعریف کی جانی چاہیے۔

تو پھر 'ٹیکنو کریٹس کی حکومت ' کا امرت دھارا چہ معنی دارد ؟

اس سوال کے جواب میں تین چار باتیں اہم ہیں۔ اولاً یہ کہ اسے معاشی حل سے زیادہ ' فیس سیونگ' کے لیے استعمال کیا جانا مقصود ہے۔

ثانیا عمران خان کی مقبولیت کے جن کو بوتل میں بند کرنے کی فی الوقت کوئی اور سبیل نہیں، البتہ دو چار سال کی ' ٹیکنو کریسی ' کے بعد عمرانی مقبولیت اتنا بڑا مسئلہ نہیں رہے گی۔

ثالثاً جو آئی ایم ایف پلو نہیں پکڑا رہا اس مجوزہ ٹیکنو کریٹ حکومت کے بعد اسے قدرے اطیمنان ہو جائے گا کہ اس کے تربیت یافتہ لوگ کم از کم اس کی ہر بات عوامی خوف سے بے نیاز ہو کر پوری کرتے جائیں گے۔ اس پس منظر میں ٹیکنو کریٹس کی مجوزہ حکومت کے تحت ملکی معیشت ایک طرح سے ٹھیکے پر آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کے حوالے ہو جائے گی۔ اس میں ملک کے اہم فیصلے اور خدا نخواستہ جوہری امور سے متعلق امور بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

رابعاً سیاسی سطح پر جاری اچھل کود کو قدرے روک لگ جائے گی اور نئی نسل کو چڑھا ہوا 'سیاسی بخار ' اور عمران خان کا مقبولیت کا خمار بھی اتر جائے گا ۔ جس سے خطرہ پیدا ہو رہا ہے کہ سیاست اور سیاسی فیصلہ سازی روایتی خاندانوں اور مسلمہ ' سسٹم ' کی گرفت سے نکلنے لگا ہے۔ لہذا 'ٹیکنو کریٹس' کی حکومت بننے کے بعد بہت ممکن ہے کہ پی ٹی آئی میں موجود روایتی سیاست دان اور فوج کے ان سابقین کی پر جوش حمایت سے عمران خان محروم ہونے لگیں اور 'وسیع تر قومی مفاد میں مذکورہ بالا دونوں طبقات ' راستہ بدل لیں۔ یوں مقبولیت کا معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہو جائے۔ عمران خان کے ساتھیوں میں سے بعض سنجیدگی سے یہ سمجھتے ہیں کہ ملک و قوم کو درپیش مسائل کوئی ایک جماعت حل نہیں کر سکتی۔ وہ متبادل تجاویز کو بھی نظر انداز نہ کرنے کی اپروچ رکھتے ہیں۔

خامساً 'ٹیکنوکریٹس' کی حکومت لا کر پی ٹی آئی کے بعد اس سے کے مقابلے میں کسی زیادہ نیک نام اور شفاف کردار کی حامل قیادت کے ابھرنے کو ابھی سے روکا جا سکے گا۔ کیونکہ اصل خطرہ عمران خان کے بعد ان جماعتوں سے ہی ہو گا جن کی تنظیم ، تاریخ پرانی ہے اور کارکنوں کی کمٹمنٹ بھی کافی زیادہ ہے۔ نیز سیاست میں نئے آنے والے باشعور نوجوان بھی 'پوسٹ عمران سیناریو ' میں ان جماعتوں میں سے کسی ایک کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ عمران خان کے ساتھ ریاست مدینہ اور قانون کی بالا دستی کے نعروں کے باعث جڑنے والے نوجوانوں کو ان جماعتوں میں جدو جہد کے بہتر مواقع مل سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ موروثیت کی سیاسی آلائش سے پاک ہوں۔

ان حالات میں عمران خان اور ان کی جماعت کے نوجوانوں کے لیے سوچنے اور کرنے کا کیا کام ہو سکتا ہے۔ مقبولیت کوئی مستقل اور دائمی چیز نہیں ہوتی۔ یہ ایک لہر ہوتی ہے جو وقت اور حالات کے دھارے اور جاری مسائل کے سبب کبھی ایک ایک کے ساتھ اور کبھی دوسرے کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ مسلم لیگ نواز اور اس کے قائد میاں نواز شریف کی جگہ اب پی ٹی آئی اور عمران خان کا توتی بولنے لگا ہے۔ بھٹو بھی اب اندرون سندھ تک ہی 'زندہ' ہے۔ اس لیے مقبولیت کے گھوڑے کو اس طرح دیکھا جائے کہ اس کی لگام کلی طور پر کسی لیڈر کے ہاتھ میں ہوسکتی ہے نہ ہمیشہ کے لیے۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے مزید اہم یہ ہے کہ عمران خان کی مقبولیت ان کی حکومتی کارکردگی کی وجہ سے ہوتی تو موجودہ مقبولیت سے بہت کم ہوتی۔ کم از کم ایسی ہر گز نہ ہوتی کہ نئے عام انتخابات کی صورت دو تہائی اکثریت لینے والی بات یوں آسان تر نظر آتی۔ اس لیے موقع اس بات کاہے کہ عمران خان اور ان کی جوشیلے حامی نوجوان اس جانب مائل ہوں کہ عوامی مقبولیت کو عوامی اور ملکی مفاد کے لیے بروئے کار لانا اہم ہے یا محض اس کے عارضی اور وقتی نشے میں مسرور اور مسحور ہوتے رہنا کافی ہے۔

اس سے پہلے کہ پی ٹی آئی کی قیادت بدلتے حالات میں مزید کئی پرویز الٰہیوں کو اپنے ساتھ ملانے پر مجبور ہوتی رہی اور پی ٹی آئی کا نواز لیگ یا پی پی سے فرق مکمل طور پر ہی ختم ہو جائے۔ پی ٹی آئی کے کمٹڈ لوگوں کو فیصلہ سازی کو حالات کی مجبوری کے مقابلے میں نظریات اور دانشمندی کی بنیاد پر اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ اس پس منظر میں ان جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا ملک و قوم اور کود پی ٹی آئی کے لیے زیادہ کارآمد ہو گا جن کی شناخت قومی خدمت اور کردار کی بنیاد پر ہے، ان کی تنظیم اور سیاسی تاریخ کی بنیاد پر ہے۔ ان کا ووٹ بنک کم ہونے کے باوجود عزت اور ساکھ مسلمہ ہے۔ اگر ایسی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اجتماعی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ نہ کیا جا سکا تو عوامی مقبولیت سے بھی سرپٹ دوڑنے والاوقت پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کو بھی پیچھے چھوڑ جائے گا۔

عام آدمی کے حالات کسی بڑی عوامی تحریک کے متحمل نہیں ہیں۔ یہ بات بار بار ثابت ہو چکی ہے۔ حالیہ جیل بھرو تحریک اس کی تازہ مثال ہے۔ ملک کے ادراے آئین کے ساتھ ہیں مگر نظریہ ضرورت کبھی بھی پس پشت نہیں ڈالا جا سکا۔ اس لیے بد ترین معاشی حالات کو بنیاد بنا کر' ٹیکنو کریٹس' کی حکومت بنا دی گئی تو پی ٹی آئی کا مستقبل مہنگائی اور ریلیف کی بھول بھلیوں والے کھیل میں کھو جائے گا۔

پھر ملک عالمی طاقتوں کے دارالحکومتوں سے آنے والے 'ٹیکنوکریٹس' اہم ہو جائیں گے۔ یہ خطرہ بھی ہے کہ بات جنرل الیکشن تک بھی نہ جا سکے گی ۔ اگر چلی بھی گئی اور 'ٹیکنو کریسی' کی بلا ٹل بھی گئی تو عمران خان کو کام کرنے دینا بھی کسی کو کم ہی برداشت ہو گا، اگر برداشت کر لیا گیا تو معاشی اور عالمی دباو کی ایسی یلغار ہو گی کہ پی ٹی آئی حکومت کے لیے اکیلے کچھ کرنا ممکن نہ ہوگا ۔ اس لیے لازم ہے کہ پی ٹی آئی بھی اتھادی سیاست کو مکمل خیر باد کہنے کے بجائے اس کے لیے گنجائش پیدا کرے۔ مشترکہ ایجنڈے کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اشتراک کو ممکن بنا کر اپنے لیے موجود چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی قوت بڑھانے کی تدبییر کرے۔

کیونکہ پی ٹی آئی کے ساتھ اہلیت کے مسائل پہلے بھی ثابت شدہ ہیں ۔ان مسائل کا تدارک محض تقریروں اور جلسوں سے بہر حال نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت اور نظریاتی نوجوانوں کی اکثریت کو درپیش چیلنج کی سنگینیوں کا اندازہ کرنا ہو گا۔ تاکہ عام انتخابات بھی ہو سکیں اور پی ٹی آئی اور اس کے اس کے اتحادیوں کی حکومت بھی بن سکے۔ نیز پی ٹی آئی قیادت اپنے اتحادیوں کی نیک نامی، ساکھ، اہلیت اور تعلقات کو عوامی بہتری کے لیے بروئے کارلاتے ہوئے ملک کو آگے بڑھا سکے اور اپنے نعرے لگانےوالے غریب عوام اور نوجوانوں کے لیے کچھ عملی طور پر بھی کر سکے۔ تاکہ روایتی 'سیاست کاری' سے قوم کی جان چھوٹنے کا امکان پیدا ہو سکے۔ وگرنہ 'ٹیکنوکریسی ' قوم وملک کو دے تو شاید کچھ نہ سکے مگر لے جا بہت کچھ سکتی ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں