کیا چین 40 سال سے جاری تنازع کا خاتمہ کرسکتا ہے؟

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ذراتصورکریں کہ صدرجوبائیڈن کے اوول آفس میں بیٹھے ہیں اور بیجنگ معاہدے سے متعلق غلطاں وپیچاں ہیں۔وہاں موجود ہرشخص اس بات پر متفق ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب چین نے مشرقِ اوسط میں مداخلت کرنے اور خلیج کے دونوں جانب دو سب سے بڑے ممالک سعودی عرب اورایران کے درمیان جاری تنازع کوحل کرنے کی کوشش کاجرآت مندانہ اقدام کیا ہے۔

اس معاملے کا خلاصہ یہ ہے کہ کیاوائٹ ہاؤس اسے تناؤ کو کم کرنے اور خطے میں ایک نیا لائحہ عمل طے کرنے کا سنہری موقع تصور کرے گا،یااسے ایک ایسے علاقے میں چین کے اثرورسوخ میں اضافے کے طور پردیکھاجانا چاہیے جسے طویل عرصے سے امریکی اثر ورسوخ کے دائرے میں سمجھا جاتا رہا ہے۔ بہرحال ، 1950 کی دہائی میں نہرسوئز(سویس) کے بحران نے انگریزوں کو خطے سے بے دخل کیا تھااوراس کے بعد 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں ان کے ’’تحفظ‘‘ کاخاتمہ ہوا تھا۔

چین اس وقت سعودی عرب سے روزانہ 20 لاکھ بیرل تیل درآمد کرتا ہے اورمستقبل میں اس مقدارمیں اضافے کا منصوبہ ہے۔اس کے برعکس امریکا سعودی عرب سے روزانہ صرف تین لاکھ بیرل تیل خریدتا ہے جو اس کی خام تیل کی ضروریات کا قریباً سات فی صد ہے اور اس مقدارمیں کمی متوقع ہے۔ جب اس کا موازنہ 50 فی صد سے زیادہ تیل سے کیا جائے جو امریکا ہمسایہ ملک کینیڈا سے درآمد کرتا ہے تو یہ مقدارنسبتاً کم ہے۔ لہٰذا واشنگٹن سعودی عرب اورخلیجی تیل پرانحصار کم کرنے کا متحمل ہو سکتا ہے لیکن چین ایسا نہیں کر سکتا۔الریاض اور تہران کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی چین کی کوشش کواصولی طور پربحران کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

ان دونوں سپرپاورزکے درمیان مخاصمت معاملات کو پیچیدہ بنادیتی ہے۔اس بات کا امکان ہے کہ کچھ امریکی چین کی سعودی عرب کو اپنے معاملات میں شریک کرنے کی کوشش کو خطۂ خلیج میں امریکی اثرورسوخ کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے اختلافی خیالات کااظہارکریں گے۔ وہ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ چین اپنےاتحادی ایران پردباؤکم کرنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ ایران سعودی عرب کوبے اثرکرنا اور خطے میں اپنی رسائی کو بڑھانا چاہتا ہے۔

اس سے یہ سوال پیداہوتا ہے کہ سعودی عرب نے چین کی ثالثی کوکیوں قبول کیا؟علاقائی معاملات میں چین کی فعال شمولیت کوئی نئی بات نہیں ہے، ویانا میں ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے (جے سی پی او اے) کی بحالی کے لیے مذاکرات میں بیجنگ کی شمولیت کی واشنگٹن نے منظوری دے دی ہے۔مزید برآں، چین نے فلسطینی امن مذاکرات کے کئی ادوارومیں حصہ لیا ہے۔چین سعودی عرب اور خطے کے دیگرممالک کاایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ یہ امرچین کےعلاقائی تنازعات پرگہرے اثرات کی نشان دہی کرتا ہے۔تیل کی خریداری کے معاملے میں امریکا چین کی جگہ نہیں لے سکتااور وہ ایران کے ساتھ خطے کے دوسرے ممالک کے تنازعات میں ثالث کا کردار بھی ادا نہیں کر سکتا ہے۔

موجودہ رکاوٹوں کے باوجود امریکاکم سےکم آیندہ ایک دہائی تک خلیجی ریاستوں کے فوجی شراکت دار اور خطے میں بااثرقوت کی حیثیت سے اہم کردارادا کرتارہے گا۔کیایہ ممکن ہے کہ چین کی ثالثی ایران کے لیے لائف لائن کا کام کرے اور اسے پابندیوں اور مظاہروں کے بوجھ تلے ڈوبنے سے روک سکے؟ صرف ایران کے نقطہ نظرسے صورت حال کا تجزیہ کرنے کے بجائے، آئیے ایک مختلف نقطہ نظراپنائیں۔ بیجنگ معاہدہ واشنگٹن کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے ،کیونکہ یہ ایرانی دھمکیوں کے خلاف امریکی امداد یا سلامتی کی ضمانت کے لیے خلیجی ممالک کی باربارکی اپیلوں کوحل کرتا ہے۔معاہدے کی کامیابی اس بوجھ کوکم کرے گی۔اس معاہدے کے تحت کسی فوجی شراکت داری میں شامل ہونے کی توقع نہیں جو چین کوتجارتی راستوں کی حفاظت کے لیے اڈے قائم کرنے یاجنگی جہازتعینات کرنے کی اجازت دے گا اور ایران کو اپنے ہمسایوں پر حملہ کرنے سے روکے گا۔ سعودی عرب،ایران اور چین کی حکومتوں کے مشترکہ مفادات اس معاہدے کی بنیاد ہیں۔ یمن یا عراق میں ایران یا اس سے وابستہ ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی بحری جہازوں یا تنصیبات پر براہ راست یا بالواسطہ حملوں کوچین پرحملے کے طور پر دیکھا جائے گا جو اس معاہدے کا بنیادی اسپانسرہے۔

سعودی عرب کو بے اثر کرنے کے ایران کے مقصد کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ایران نے بہت سے ایسے دشمن بنائے ہیں جن کا اس کے الریاض کے ساتھ اختلافات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ معاہدہ ممکنہ طورپرایران کو ہتھیاروں اور ملیشیاؤں کے بجائے مصالحت کے ذریعے عرب دنیا کے ساتھ بات چیت کرنے کا ایک نیا موقع فراہم کرسکتا ہے، جو سعودی عرب کو علاقائی مسائل سے الگ تھلگ کرنے کی پالیسی کے برعکس ہے۔

چندماہ قبل ترکیہ اپنے قریباً آدھے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تنازعات میں الجھا ہوا تھا۔ لیکن آج، وہ ان سب کے ساتھ معاہدوں تک پہنچنے میں کامیاب رہاہے، یہاں تک کہ اسرائیل کے ساتھ بھی، جس کی وجہ سے اقتصادی، سیاسی اور خارجہ تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔اب اس مصالحتی رجحان کومزید وسعت دینا ایران کے پالے میں ہے اورشاید سعودی عرب کو بے اثر کرنا ایران کے لیے عرب دنیا کے ساتھ چار دہائیوں سے جاری تناؤ کو ختم کرنے کا محرک ثابت ہو سکتا ہے۔

بہت سے لوگ سعودی عرب کے ساتھ ایران کے رویے اورمعاہدے کی کامیابی کو یقینی بنانے کی بیجنگ کی صلاحیت کے بارے میں شکوک وشبہات کا شکارہیں۔ تاہم، ہم حقیقت پسند ہیں اورپُرامیدبھی۔اگرچہ اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے، لیکن ہمیں امن کو ایک موقع دیناہوگا۔ہمیں امید ہے کہ چین عراق اور لبنان میں ایران کے ساتھ تنازعات کے حل کے علاوہ اسرائیل کے ساتھ امن کو فروغ دینے میں بھی قائدانہ کردار ادا کرے گا۔ یہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں بھی کردار ادا کرسکتا ہے، جو بین الاقوامی برادری کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

اگرچین سعودی عرب اور ایران کے تنازع کوحل کرنے میں مدد کرسکتا ہے توامریکااوریورپ یقیناً چین کے مشرقِ اوسط میں اس کردارکا خیرمقدم کریں گے۔
-------------------------
(انگریزی سے ترجمہ شدہ یہ کالم پہلے پان عرب روزنامہ الشرق الاوسط میں شائع ہوا تھا)

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں