یمن جنگ سے پیچھاچھڑارہا ہے،سوڈان اس میں کود رہا ہے

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ایسا لگتا ہے کہ ہمارا خطہ کسی ابدی جادو یا شیطانی چال کے تحت ہے۔ لیکن حقیقت میں، یہاں کوئی جادویابدنظری نہیں ہے بلکہ صرف بدانتظامی ہے۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران یمن میں حوثی باغی اور قانونی حکومت کے تحت افواج آٹھ سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی امید میں اکٹھے ہوئے ہیں۔جیسے ہی سعودی سفیروں اور ان کے ایرانی "بھائیوں" نے رمضان کی دعوتوں کا تبادلہ کیا اور عرب لیگ نے شام کے بحران کے خاتمے پر تبادلہ خیال شروع کیا تو سوڈان (السودان)کی صورت حال دھماکے سے پھٹ پڑی۔

سوڈانی فوج اورسریع الحرکت فورسز (آر ایس ایف) گروپ کے درمیان منگل کو لڑائی مسلسل چوتھے روز بھی جاری ہے(اوران سطور کی اشاعت کے وقت جمعرات کوبھی جنگ بندی کے باوجود جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں)۔

اگراس تنازع کا حل تلاش کرنا یا فوج کی طرف سے جنگ کا حل ناممکن ثابت ہوتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ ایک اورخونریزعرب محاذ پرجھڑپوں کا ایک اور موسم گرما انتظارکر رہا ہے۔

سوڈان پہلے ہی 80 کی دہائی کے اوائل سے تنازعات کے مختلف ادوارسے گزر چکا ہے۔جنوب میں، کوردوفان اور دارفور میں جنگوں کے ساتھ ساتھ عمرالبشیرحکومت کے خلاف بغاوت سے پیدا ہونے والے سماجی بحران اور تباہی کے بعد، سوڈان شاید ہی اپنی سرزمین پر ایک اور جنگ کا متحمل ہو سکے۔

سابق مطلق العنان صدر عمرالبشیر کی معزولی کے بعد سے اندرون ملک اقتدارکے لیے لڑائی ایک طرح سے جاری ہے۔موجودہ کش مکش کوعمرالبشیرکے اقتدار کے خاتمے کے بعد کے تاخیری اثرات سمجھیں۔جب اقتدارکا مرکزٹوٹ جاتا ہے توایسا ہی ہوتا ہے،جس سے ایک خلاپیدا ہوتا ہے جسے پُرکرنا مشکل ہوتا ہے۔جیسا کہ صدام حسین کے اقتدارکے خاتمے کے بعد عراق میں اور معمرقذافی کے بعد لیبیامیں دیکھا گیا تھا۔

سوڈان کے فوجی رہ نماؤں کے درمیان اختلافات کے اشارے شروع سے ہی واضح رہے ہیں۔دوحریف "سربراہان"عمرالبشیر کے متبادل کے طورپرابھرے تھےاور تقسیم نے فوج اورسڑکوں دونوں میں بحران سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو مزید کمزورکردیا۔سوڈان کی صورت حال کیسے خراب ہوئی؟ اور ملک کے لیے کیا امکانات ہیں؟

آر ایس ایف کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات سے پتاچلتا ہے کہ محمد حمدان دقلو المعروف حمیدتی کے زیرقیادت فورسز نے پہلے آگ بھڑکائی۔انھوں نے مسلح افواج کی کمان کے ہیڈکوارٹراوراس کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کے گھرکونشانہ بنایا۔انھوں نے کہا کہ ہفتے کی صبح حمیدتی کی افواج نے ان کے گھر پر حملے کرکے حیران کردیا ہے۔وہ البرہان کو قتل نہیں کر سکے، لیکن انھوں نے اس کے ترجمان سرکاری ٹی وی کو خاموش کر دیا، جس پرانھوں نے براہ راست نیوزبلیٹن کے دوران میں بمباری کی۔ عبدالفتاح البرہان اوران کے ساتھی فوجی رہ نماؤں کی دو دن کی حیران کن غیر موجودگی نے حمیدتی کے بیانیے کو پوراکیا کہ ان کی افواج نے البرہان کو قتل کردیا ہے۔

اس کے بعدآرایس ایف نے فوجی رہ نماؤں کے مضبوط ٹھکانوں اورخرطوم ہوائی اڈے پرچھاپہ مارکارروائی کی اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک کے طیاروں کوآگ لگا دی اور عمارتوں کوبمباری سے نقصان پہنچایا۔

خرطوم کے ہوائی اڈے کونقصان پہنچانے کے فوری بعد،آرایس ایف نےمیروی کے ہوائی اڈے پرقبضہ کر لیا، جو مصر کے قریب ملک کے شمال میں واقع ہے اور فراعنہ دور کےاہرام اور چینی ساختہ ڈیم کے لیے جانا جاتا ہے۔آر ایس ایف نے مصری فوج کے ان ارکان کو بھی گرفتارکرلیا جو سوڈانی فوج کے ساتھ مشترکہ مشقوں میں حصہ لے رہے تھے۔

سوڈان ایک وسیع اور متنوع ملک ہے اوربرسرزمین آزاد صحافیوں کی کمی کی وجہ سے زیادہ ترمعلومات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے۔مرکزی دھارے کے میڈیا کے چند ادارے بیانات اور ویڈیوزکو دستاویزی شکل دے رہے ہیں اوران کا جائزہ لےرہے ہیں اور زمینی صورت حال کی کوریج کے لیے ٹیمیں بھیج رہے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ واقعات اتنی تیزی سے اور بڑے پیمانے پر رونما ہورہے ہیں کہ ان کا مکمل احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔

اقتدارپرقابض ہونے کے لیے جنرل حمیدتی کی جارحیت حیرت انگیز نہیں تھی۔ فوج کے ساتھ ان کے جھگڑے کا دھماکاممکنہ طورپران کے حملے سے پہلے باہمی اختلافات اورعوامی دھمکیوں کا پیش خیمہ تھا۔

حملے سے چندروزقبل حمیدتی کے تحت سریع الحرکت فورسز نے دارالحکومت اور دیگر شہروں میں متحرک ہونے کی کوششیں تیزکردی تھیں جبکہ فوج نےآرایس ایف کوخبردارکیا تھاکہ وہ سرحد پر اپنی پوزیشنوں پرواپس آجائے،لیکن حمیدتی کے فوجیوں نے اس بہانے جھکنے سے انکارکردیا کہ وہ "انسانی اسمگلنگ اورمنظم جرائم کا مقابلہ کرنے" کے لیے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

اب یہ واضح ہے کہ وہ عبدالفتاح البرہان پر حملہ کرنے کی تیاری کررہے تھے جن کی افواج حمیدتی کے ساتھ تنازع کے باوجود جنگ کے لیے تیار نہیں تھیں۔

صفرگھنٹاکیوں کام کرتا ہے؟ کیا یہ واقعی بغاوت تھی؟ ملک بھرکے واقعات کو دیکھتے ہوئے، یہ واضح ہے کہ یہ صرف طاقت اور سمجھوتے کا مظاہرہ نہیں ہے۔کیایہ تبدیلی کی کوشش ہے؟ کیا باغیوں کو فوج کے اندر تبدیلیوں یا شاید عوامی حمایت کی توقع تھی؟ یہ ابھی تک واضح نہیں،لیکن آنے والے واقعات کو سمجھنے کے لیے ان کے ارادوں کو سمجھنا ضروری ہے۔

مصالحت اب بھی ممکن ہے اگریہ محض ایک غلط فہمی ہے جو قابو سے باہرہو گئی ہے۔ لیکن اگر اس حملے کا مقصد دانستہ طور پر بغاوت تھا، تو یہ ممکنہ طورپرایک طویل لڑائی کا آغاز ہے۔

کیا اس حملے کی کوئی اندرونی یا بیرونی توسیع ہے؟ کیا مقامی افواج غیرجانبداری میں متحد ہوں گی یا وہ کسی کا ساتھ دیں گی؟

سوڈان آج سڑک پرایک خطرناک دوراہےپرکھڑا ہے:یا تودونوں متحارب فریقوں کے درمیان مصالحت، یا ایک بڑھتا ہوابحران،جو ملک کی باقیات کو کھا جائے گا،اس طرح سوڈانی عوام کے مصائب میں اضافہ ہوگا اورایک ایسے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا جومقناطیس کی طرح تناؤ کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں