عمران کی گرفتاری اور پریشر ککر

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سابق صدر ریٹائڑد جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دست راست اور بااعتماد ساتھی بریگیڈیئر صدیق سالک ملک کی تازہ صورت حال میں یاد آنے لگے ہیں۔

یہ 1985 کے اواخر کی بات ہے یا اس کے ذرا بعد کی، جب وہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں بطور مہمان ایک خصوصی لیکچر کے لیے تشریف لائے تھے۔ ان دنوں وہ ڈی جی آئی ایس پی آر تھے۔ اپنی کتب 'پریشر ککر' اور 'ایمرجنسی' کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا میں نے یہ نام اس لیے رکھے ہیں کہ کچھ کہنا چاہتا ہوں لیکن ایک خاص حد تک ہی کہہ سکتا ہوں۔ اس لیے میں نے علامتاً اس طرح کے ناموں کا انتخاب کیا ہے۔

ان کے اس خیال کو میں نے اس طرح سمجھا ہے کہ پریشر ککر کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس میں پیدا ہونے والی بھاپ کو باہر نکلنے کا راستہ 'والو' کے ذریعے دیا گیا ہوتا ہے۔ اگر یہ 'والو' نہ ہو یا بند ہوجائے تو پریشر ککر بھاپ کے پریشر اور اپنی طاقت سے خود ہی پھٹ جاتا ہے۔ یوں دھماکہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے پریشر ککر اور اس کی طاقت کی سلامتی اسی میں ہوتی ہے کہ 'والو' ٹھیک کام کرتا رہے اور اضافی بھاپ باہر نکلتی رہی اور کوکنگ کا نظام چلتا رہے۔

آج کے جمہوری نظام کو دیکھتے ہوئے اسی پریشر ککر کی مثال یاد آتی ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر جہاں اکثریت کو ہر طرح کے سیاہ وسفید کی اجازت اور اختیار ہوتا ہے۔ اسے برقرار رکھنے کے لیے اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن بنچ ایک 'والو' کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر اپوزیشن ہی موجود نہ رہے تو نہ صرف یہ کہ جمہوریت بےمعنی سی ہو کر رہ جاتی ہے بلکہ اس کا وجود بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

جمہوری نظام میں عدلیہ کی حیثیت بھی اسی طرح کی ہے کہ اگر عدلیہ بطور 'والو' کام کرنے سے عاری ہو جائے یا اس کے لیے کام کرنا مشکل بنا دیا جائے تو نظام کے اپنی طاقت سے گرنے کا بھی خدشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ عوام میں موجود اختلافی آوازوں کے سننے کا ایک اہم پلیٹ فارم عدلیہ ہوتا ہے۔

یہی مثال ذرائع ابلاغ کی ہے کہ یہ بھی جمہوری نظام کی مضبوطی میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر یہ قدغنوں اور پابندیوں کے نشانے پر رکھ لیے جائیں تو جمہوری نظام کے خلاف 'سینہ گزٹ' کے ذریعے چلنے والی افواہیں، اس نظام کے سینے کے پھٹنے کی صورت گری کر دیتے ہیں۔

جمہوریت کے تخلیق کار برطانیہ کی طرف نظر اٹھائی جائے تو بھی یہی نظر آتا ہے کہ بادشاہت کی کوکھ سے جب جمہوریت نے جنم لیا تو بادشاہت اور پرانے چلے آنے والے نظام کے بنیادی اور اصلی سٹیک ہولڈر، جاگیرداروں، اعلیٰ فوجی حکام اور بزنس ایلیٹ نے نئے تخلیق کردہ جمہوری نظام کے لیے اپوزیشن سے بھی پارلیمنٹ، آزاد عدلیہ، ذرائع ابلاغ اور ہائیڈ پارک ایسے عناصر کو اپنی مستقل ضرورت تسلیم کر لیا۔

اسی سبب ونسٹن چرچل جو بنیادی طور پر ایک فوجی تھے۔ انہوں نے جنگ عظیم کے دنوں میں برطانیہ کی سلامتی کو محض فوجی طاقت کے مرہون منت قرار نہیں دیا تھا بلکہ کہا تھا ’’کہ اگر عدالتیں کام کر رہی ہیں تو ملک کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ‘‘

آج وطن عزیز انتہائی سنگین صورت حال سے دوچار ہے۔ اس میں عدلیہ، اپوزیشن اور ذرائع ابلاغ جو حقیقتاً جمہوری سسٹم میں 'والوز' کا کام کرتے ہیں، غیر معمولی دباؤ میں ہیں۔ عدلیہ کے سربراہ کے بارے میں حکمران جماعتوں کے قائدین جو کچھ کر چکے اور کرنے کے عزائم رکھتے ہیں، وہ بڑے واضح ہیں۔

اپوزیشن کے مقبول ترین رہنما اور خود وزیراعظم میاں شہباز شریف سے کہیں زیادہ مقبول عام لیڈر عمران خان نیب کے ایک نئے بنائے گئے کیس میں پچھلے تین دنوں سے قید میں ہیں۔ ذرائع ابلاغ اس ایسی کیفیت سے گزر رہے ہیں جسے آزادی اظہار کے حق کے تناظر میں ناپسندیدہ ترین صورت حال کہا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا تیسرے دن سے عملاً بند کر دیا گیا ہے۔ شہر شہر ہنگامے ہیں۔ پتھراؤ، آنسو گیس، لاٹھی چارج، زخمی، ہلاکتیں اور گرفتاریاں ہیں۔ کور کمانڈر لاہور کے گھر میں مظاہرین کا گھس جانا اور جی ایچ کیو کے باہر جمع ہونا تصور سے زیادہ خرابی کے مظاہر ہیں۔ کیا ان حالات میں یکطرفہ سوچ، ویژن اور فیصلے مفید ہو سکتے ہیں۔

صورت حال صرف جمہوری نظام ہی نہیں ملک کے مجموعی نظام کے لیے خطرناک بنتی چلی جا رہی ہے۔ پریشر کی اس فضا میں پریشر ککر کی طرف سے خود ہی 'والو' کو بند کر دینا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ انتہائی کمزور معاشی صورت حال میں پسے ہوئے غریب طبقے کے لوگ احتجاج کے ایندھن بن سکتے ہیں۔ جبکہ پاکستان کے دشمن بھی حالات کی سنگینی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہو سکتے ہیں۔ اس لیے وقتی طور پر جس کی بھی جیت ہوگی۔ یہ ملک و قوم کی جیت اور کامیابی نہیں قرار پائے گی بلکہ اس کے اثرات و نقصانات آنے والے کل میں سنگین تر ہوں گے۔

پریشر ککر کے 'والو' بند ہو گئے تو کم از کم خطرہ صدیق سالک کی دوسری کتاب کے نام 'ایمرجنسی' کے عملی طور پر سامنے آنے کا ہے۔ یہ عام آدمی کے حقوق اور ملکی معیشت دونوں کے لیے سنگین تر ہو گی۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ خراب تر حالات کو درست رخ پر ڈالنے اور لوگوں کے غصے یا ردعمل کو ٹھنڈا کرنے لیے انہیں ایک بار پھر سیاسی و انتخابی عمل کی طرف جانے کا پورا موقع دے دیا جائے۔

بصورت دیگر معاملات still position میں چلے جائیں گے۔ جو باہر ہیں، وہ باہر ہی رہ جائیں گے اور جو اندر ہیں وہ باہر نہ جا سکیں گے۔ چیزیں آگے ہر گز نہیں بڑھ سکیں گی۔ یہ بھی مقام شکر ہو گا کہ صورت حال still تک رکی رہے۔ خطرات اس سے زیادہ نقصان اور تباہی کی چغلی کھا رہے ہیں۔ بہت ساری چیزیں reverse بھی ہو سکتی ہیں اور distrub بھی۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں