جدہ سربراہ اجلاس: کیا مصالحت ممکن ہے؟

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سعودی عرب نے صرف دس ماہ کے عرصے میں تین بڑے سربراہ اجلاسوں کی میزبانی کی ہے۔ پہلے،جدہ میں سلامتی اور ترقی سربراہ اجلاس منعقد ہواتھا۔اس میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھے رکن ممالک کے علاوہ مصر، اردن اور عراق اور امریکی صدر جو بائیڈن نے شرکت کی تھی۔ دوسرا،سعودی دارالحکومت الریاض میں چینی صدر شی جِن پنگ کے عرب لیڈروں کے ساتھ سربراہ اجلاسوں کے دو دور ہوئے تھے۔ پہلے ان کا خلیجی ممالک کے ساتھ ایک دور ہواتھا اور پھر عرب ممالک کے ساتھ سربراہ اجلاس کا دوسرا دور ہوا تھا۔ اوراب تیسرا،جدہ میں عرب لیگ کا حالیہ سربراہ اجلاس ہے۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ واقعات کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔جدہ سکیورٹی اور ڈویلپمنٹ سربراہ کانفرنس میں ایک علاقائی اور بین الاقوامی متحرک ماحول کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی تھی جو پُرامن بقائے باہمی اور باہمی مفادات کو فروغ دے۔ اس میں بحیرۂ احمر اور خلیج میں بحری راستوں سمیت خطے میں سلامتی کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ الریاض سربراہ اجلاس، جس میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ عرب لیڈروں نے شرکت کی تھی۔اس میں اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام پر توجہ مرکوز کی گئی تھی اور اس کے حاصلات چین کی ثالثی میں سعودی،ایران معاہدے پر منتج ہوئے تھے۔

جدہ سربراہ اجلاس میں عرب لیگ کیا حاصل کر سکتی ہے؟ یہ بلاک ٹھوس قراردادوں پر زور دینے کے لیے مجتمع ہو رہا ہے جس سے خطے میں گذشتہ بارہ سال سے جاری کشیدگی کو ختم کیا جا سکے۔

تاہم، عرب سربراہ اجلاسوں کی تاریخ اور نتائج کی بنیاد پر، کوئی بھی جائز طور پر یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ کیا یہ خواہش حقیقت پسندانہ ہے؟

ہم سعودی میزبانوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا علاقائی کشیدگی اور جھڑپوں کو ختم کرنا حقیقت پسندانہ کوشش ہے؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ الریاض کی صنعاء میں حوثیوں اور ایران کے ساتھ گہری اور بعض اوقات پرتشدد مخاصمت ہے اور ماضی میں اس کی قطر اور ترکی کے ساتھ بھی کشیدگی رہی ہے۔

تاہم، گذشتہ تین سال میں، ان ممالک کے درمیان کچھ تعلقات بحال ہوئے ہیں اور ایک خاص مفاہمت حاصل کی گئی ہے۔جہاں تک ایران کا تعلق ہے جس کے ساتھ سعودی عرب کا سب سے طویل، پیچیدہ اور مشکل ترین تنازع ہے، اب بیجنگ معاہدے کو عملی جامہ پہناکران کے درمیان تنازعات کے حل کا سلسلہ جاری ہے۔

جدہ سمٹ کا بنیادی محرک اورہدف واضح طور پر خوش حالی ہے۔ سعودی عرب اپنے آپ کو ایک ماڈل کے طور پر پیش کررہا ہے، جس نے یمن میں نو سالہ طویل جنگ اور خونریزی کے باوجود اپنے حریفوں جیسے ایران اور حوثیوں سے نمٹنے کے لیے ایک حقیقت پسندانہ نقطہ نظر اپنایا ہے۔سعودی مملکت نے اپنے مخالفین کے ساتھ مذاکرات کو قبول کیا ، اور اس نے کامیابی سے ایسے معاہدے طے کیے ہیں جن کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔

مصالحت ایک مخلصانہ خواہش ہے جو مصالحت سے انکار کرنے والوں کے درد اور مصائب کوردّ نہیں کرتی اور نہ ہی یہ کوشش ان کی قیمت پر ہونی چاہئے۔ لیبیائی، شامی، صومالی، سوڈانی باشندوں اور دیگر کے ساتھ ساتھ ان کی حکومتیں اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں یہ فیصلہ کر سکتی ہیں کہ آیا سعودی عرب کے نقش قدم پر چلنا ہے یا نہیں۔ انھیں اپنی توقعات میں سے کچھ یا سب کو ترک کرنا ہوگا۔انھیں یہ انتخاب کرنا ہے کہ انھیں مفاہمت کی طرف قدم بڑھانا ہے یا کانٹے دار مخاصمت اور اس کا خونیں اور تکلیف دہ کھیل جاری رکھنا ہے۔

اگر وہ جنگ اور خونریزی کے راستے پر چلنے کا انتخاب کرتے ہیں تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ وہ کبھی اپنے مقصد کو حاصل کر سکیں گے - آج کی تاریخ اور حقیقت اس کا بیّن ثبوت ہے۔

حالیہ جدہ سربراہ اجلاس سمیت عرب سربراہ اجلاسوں میں شرکت کرنے والے خودمختار ممالک پر اپنی قراردادیں مسلط نہیں کی جاتی ہیں۔ یہ اجتماعات سفارتی اقدامات ہیں جن کا مقصد اجتماعی اتفاق رائے تک پہنچنا ہے جو عرب لیگ کے تمام بائیس رکن ممالک کے لیے فائدہ مند ہے۔

آج عرب خطے میں جو افراتفری اور اتھل پتھل دیکھی جا رہی ہے،وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اپنی نوعیت کی سب سے توانا افراتفری اوراکھاڑ پچھاڑ ہے اوریہ مختلف علاقائی اور غیر ملکی طاقتوں کے درمیان جاری رہی تھی اور ہے۔

مگر مسلسل تناؤ اور تشدد ہمارے ممالک کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا رہا ہے، نسلاً بعد نسلٍ لوگ تعلیم اور مواقع سے محروم ہو رہے ہیں، انھیں حال کی خوشی سے محروم کیا جا رہا ہے، اور انھیں مستقبل سے بھی محروم کیا جارہا ہے۔ لڑائیوں کا دائرہ ہر سال وسیع ہوتا جا رہا ہے، جس کے مزید پھیلنے کا خطرہ ہے اور اب یہ سوڈان تک پہنچ چکا ہے۔

مجھے پوری امید ہے کہ عرب سربراہ اجلاس امریکی اور چینی سربراہوں کے ساتھ اجلاسوں کا مختتم ہوگا، جس میں خود ارادیت پر مبنی علاقائی تحریک کی جانب عملی اقدامات کا وعدہ کیا جائے گا، اور یہ بالآخر تمام تنازعات کے خاتمے اور سلامتی اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں