اسپورٹس کلبوں کا حصول؛سعودی عرب میں شعبہ کھیل کی ترقی کا ثبوت

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب میں شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا گزرتا ہے جب دلچسپ پیش رفتوں کی خبریں نہ آئیں۔ اس ہفتے، کھیل کی خبروں نے سعودی عرب میں کھیلوں کی مارکیٹ کی ترقی کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی کے اعلان کے ساتھ توجہ حاصل کی۔

اس حکمتِ عملی کے تحت اسپورٹس کلب کمپنیاں بنیں گے۔سعودی عرب کے سرکاری پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) نے اب تک کھیلوں کے چاراہم کلب حاصل کیے ہیں جبکہ سعودی آرامکو نے اپنا کلب قائم کیا ہے۔ اسی طرح شاہی کمیشن برائے العُلاء، الدرعیہ گیٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور جدید شہر نیوم نے بھی اپنے اپنے نام سے کلب اور کمپنی قائم کی ہے۔

ان خریداریوں کے ساتھ، کھیلوں کے کلب اپنے سابقہ طریق کار سے دستبردار ہوجائیں گے، جس میں کھیلوں کے تمام مقابلے خاص طور پر اسپانسرز کی سخاوت پر منحصر ہوتے تھے اور جنرل اتھارٹی برائے کھیل کی نگرانی میں منعقد کیے جاتے تھے۔

عام خیال کے برعکس ، کھیلوں کے مقابلوں کی مقبولیت مملکت میں کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ درحقیقت، کھیل 1950ء کی دہائی سے سعودی معاشرے کا ایک اہم حصہ رہے ہیں اور بہت سے دوسرے ممالک میں بھی۔ تاہم، صرف چند ایک ریاستوں نے ادارہ سازی اور مارکیٹنگ کے لحاظ سے اپنے ہاں کھیلوں کے شعبے کو ترقی دی ہے۔دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں، آج کھیل محض ایک شوق سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ شعبہ ایک مکمل، منافع بخش معاشی سرگرمی بن چکا ہے۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ دنیا کے زیادہ تر ٹاپ ایتھلیٹس ان ہی ممالک سے آتے ہیں۔

کھیلوں کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ کی کامیابی کے لیے، آمدن کے مستحکم اور بڑھتے ہوئے ذرائع کو محفوظ کرنا ضروری ہے۔یہ مقصد کھیلوں کی مصنوعات کی چوری کا مقابلہ کرکے، کھیلوں کے حقوق کے تحفظ، کھیلوں کی صحافت اور میڈیا کے شعبے کو ترقی دے کراور کھیلوں کے مقامات کو جدید ٹیکنالوجی اور تفریحی صلاحیتوں کے ساتھ اپ گریڈ کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

مشترکہ طور پر، یہ کوششیں آنے والے عشروں میں کھیلوں کی مارکیٹ کی خوش حالی کو یقینی بنائیں گی۔مزید برآں، کھیلوں کی حکمتِ عملی نوجوانوں کی فلاح و بہبود، تفریح، مقامی معیشت، سیاحت اور قومی جذبات کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔

کرسٹیانو رونالڈو، بینزیما اور دیگر ٹاپ ایتھلیٹس کے ساتھ مہنگے معاہدوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو بھاری رقم کے عوض سعودی عرب میں منتقل ہوسکتے ہیں؟ ویسے تو آج کھیل مہنگے ہو سکتے ہیں لیکن کل مزید مہنگے ہوں گے۔

سپر باؤل سیزن کے دوران میں امریکا میں ٹیلی ویژن کے صرف 30 سیکنڈ کے اشتہار کی قیمت 70لاکھ ڈالر تک ہوسکتی ہے اور وہاں اشتہارات پر سالانہ 250 ارب ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں لیکن ان کا ہماری موجودہ مارکیٹوں کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔

قطر نے فیفا ورلڈ کپ کے انعقاد کے منصوبے پر قریباً 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور یہ ممکنہ طور پر کی جانے والی بہترین سرمایہ کاری تھی۔ اس نے مقابلے کی نسبتاً مختصر مدت (40 دن) کے باوجود اپنی امنگوں کو حاصل کیا۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اس نئے منصوبے کے ذریعے سعودی فٹ بال لیگ کو دنیا کی ٹاپ 10 مقبول لیگوں میں شمار کرنے کے خواہش مند ہیں۔ اگر سعودی عرب جیسے ابھرتے ہوئے ملک میں کھیلوں کی معیشت کو ترقی دینے کی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو مملکت آہستہ آہستہ سرمایہ کاری پر نمایاں منافع حاصل کرنے کے قابل ہو جائے گی۔

یہ بات خاص طور پر اس وقت سچ لگتی ہے جب مملکت میں نوجوانوں کی آبادی کی بلند شرح پرغور کیا جاتا ہے۔ان میں سے زیادہ تر کھیلوں اور تفریح میں انتہائی دلچسپی رکھتے ہیں۔کھیلوں کے ایک کامیاب شعبے کے ساتھ ، سعودی عرب خاص طور پر نوجوان آبادی کے لیے اور بھی زیادہ پرکشش ملک بن جائے گا۔

یہ سب ویژن 2030 کے مطابق ہوگا ، جس میں سعودی مملکت کو متنوع ، پھلتی پھولتی معیشت اور ایک متحرک معاشرے کے ساتھ ایک قائدانہ اور کامیاب ملک کے طور پر تصور کیا گیا ہے جو اپنے لوگوں کے لیے مکمل زندگی کو یقینی بناتا ہے۔ درحقیقت 2030ء تک اس ویژن کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ فعال سعودیوں کا تناسب موجودہ 13 فی صد سے بڑھا کر 40 فی صد کیا جائے۔

گذشتہ چند سال کے دوران میں کھیل کے مختلف میدانوں اورجگہوں میں توسیع کی گئی ہے۔لڑکیوں اور خواتین کے کھیل کے کلبوں کی ترقی اور ان کے درمیان مقابلوں کے آغاز کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور اس طرح خواتین اور لڑکیوں کو کھیلوں کی سرگرمیوں کی مشق کرنے کے لیے بااختیار بنایا گیا ہے۔ یہ کوششیں آج بھی جاری ہیں ، کیونکہ کھیلوں کی سرگرمیوں کے برانڈز اور معاشی مواقع مسلسل اور مستقل طور پر مہیّا کیے جارہے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size