پسند اپنی اپنی، نصیب اپنا اپنا

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

یہ بات کچھ ایسی پرانی بھی نہیں بس چالیس پچاس برس پیچھے کی ہے۔ ہمارے اور ہمارے ہم عمروں کے بچپن میں یہ دو باتیں 'پسند اپنی اپنی' اور 'نصیب اپنا اپنا' جگہ جگہ لکھا ملتا تھا۔ بسوں اور ٹرکوں پر ہی نہیں چائے کی پیالیوں حتیٰ کہ جوتوں کے تلوؤں تک پر لکھا گیا ہوتا تھا۔

لکھنے والے کے ذہن میں کیا ہوتا کہ وہ اس حد تک یعنی چائے کی پیالی سے جوتوں تک میں ان دو مقبول عوامی حقیقتوں کو لکھ ڈالتے۔ تاہم یہ اچھی طرح یاد ہے کہ اس کو زیادہ زیر غور لانے کے بجائے عمومی حقیقتوں کے خوبصورت اظہار کے انداز میں لیا جاتا اور بالعموم پسند کیا جاتا تھا۔ یوں یہ اس دور کے ایک طرح سے فیشنی جملے بھی تھے اور مقبول عوامی نعرے بھی۔ حقیقت بھی اور حسب حال بھی۔

آج کی دنیا میں یہ جملے تو اب بسوں، ٹرکوں، رکشوں وغیرہ کے ساتھ ساتھ چائے کی پیالیوں اور جوتوں کے تلوؤں پر لکھے نہیں ملتے لیکن ایک ازلی حقیقت کے طور پر ہر شعبے میں اور ہر میدان میں عملاً جا بجا نظر آتے ہیں۔ گویا جو انداز اس زمانے میں محض چند فیشنی یا مقبول عام جملوں کی صورت تھا، آج عملی حقیقت کے طور پر سامنے ہے۔

نصیب کے فیصلے تو میرے اور آپ کے ہی نہیں میرے اور آپ کے بچوں کے مستقبل اور نصیبوں کے فیصلے بھی بڑے لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ یہاں قسمت نوع بشر تبدیل نہیں ہوتی بلکہ نوع بشر کی تذلیل ہوتی نظر آتی ہے۔

بڑے لوگوں، زعماء اور معززین و اشرافیہ سے وابستہ لوگوں کے ذکر سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ کہیں حد ادب کی خلاف ورزی نہ ہوجائے۔ 'پسند اپنی اپنی' کی حد تک بات کر لیتے ہیں۔ یہ بھی ایک وسیع میدان ہے۔ چند الفاظ کے کوزے میں 'پسند اپنی اپنی' کے وسیع سمندر کو بند کر لینا آسان نہیں ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جب زندگی کا ایک ایک شعبہ اسی کی چغلی کھا رہا ہو، اسی کی خبر لا رہا ہو۔

تو بات خبر سے ہی شروع کرتے ہیں۔ پہلے وقتوں میں خبر وہ ہوتی تھی جس میں پانچ یا چھ ڈبلیوز ہوتے تھے۔ آپ انہیں اردو میں پانچ یا چھ کاف بھی کہہ سکتے ہیں۔ 'کیا، کہاں، کب، کیوں، کیسے وغیرہ۔ پھر اس کے ساتھ معروضیت کی شرط عائد ہوتی تھی کہ جو دیکھا اسے بلا کم وکاست بیان کر دیا جائے۔ نہ کمی نہ اضافہ۔ نہ مرچ نہ مصالحہ۔

لیکن آج جب وطن عزیز تاریخ کے بدترین اور نازک ترین حالات سے گذر رہا ہے اور جہانگیر ترین دور سے دوچار کیے جانے کی تیاری بہ انداز دگر شروع ہو چکی ہے، خبر کے معاملے میں رجحان و میلان یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ اب خبر بھی اپنی اپنی ہوتی ہے۔ جس طرح ماضی میں پسند اپنی اپنی ہوتی تھی۔

خبر کے ساتھ یہ معاملہ صرف طبقہ حکمراناں اور ان کے ساتھ اندھا دھند بنیادوں پر جڑے ان کے حامیوں کی حد تک محدود نہیں رہا کہ انہوں نے جہاں خبر کو اپنی طبع اور پسند کے خلاف جانا، ریموٹ سے کنٹرول کرتے ہوئے چینل تبدیل کر دیا۔ بلکہ یہ معاملہ خبر دینے والوں کی دنیا میں بھی ایک وبا کے انداز میں عام ہو چکا ہے۔

اب خبر ہی وہ ہے جو ان کے 'حلقہ یاراں' اور حلقہ قدر داناں میں پسند کی جائے، پذیرائی پائے، ریٹنگ حاصل کرے یا لائیکس اور شیئرنگ کا باعث بنے۔ خبر کے چناؤ سے لے کر اس کی ساخت اور ترتیب تک اپنی مرضی کے 'ڈیبلیوز' اور کاف کم یا زیادہ کر لیے جاتے ہیں اور بالکل 'آرڈر پر مال تیار کرنے' کے انداز میں خبریں تیار کر کے عام کر دی جاتی ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ خبری دنیا سے وابستہ لوگ جو ماضی میں 'اوپینین لیڈر' کہلاتے تھے اب محض 'اوپینین ڈیلر' بن کر رہ گئے ہیں۔ خبر میں معروضیت سے زیادہ فنکاریت اور اداکاریت کا دخل ہو گیا ہے۔ نتیجتاً خبر دینے والے جہاں ضروری ہوتا ہے فن اداکاری کا بھی تڑکا لگاتے ہیں۔

خبر کی دنیا یعنی صحافت کا پیشہ تو ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ وہ بھی غریبی دعوے کا۔ ریاست کے دیگر اہم ستون بھی اسی 'جدیدیت' کا شکار ہیں۔ ماضی کی روایات و اقدار قصہ پارینہ قرار پا چکی ہیں۔ ریاستی ستونوں میں اہم اور معزز ترین ایک ستون جسے عدلیہ کہا جاتا تھا، اب پسند اپنی اپنی کے اصول کا اطلاق فاضل جج حضرات پر بھی بعینہٖ ہوتا ہے۔ جج اپنا اپنا، فیصلہ اپنا اپنا، ریمارکس اپنے اپنے، بنچ اپنے اپنے، کیس اپنے اپنے، آئین اپنا اپنا، قانون اپنا اپنا، تشریح اپنی اپنی، وکیل اپنا اپنا، بار اپنی اپنی۔

اس لیے ہر بنچ پر تنازعہ کھڑا کیا جاتا ہے۔ ہر فیصلہ ایک نئے 'پنڈورا باکس' کا باعث بنتا ہے۔ ہر فیصلے کا پہلے سے پتا ہوتا ہے اور فیصلے کے بارے میں پہلے سے طے کر لیا جاتا ہے کہ اسے ماننا ہے تو کیسے اور نہیں ماننا تو کیوں۔ گویا عدالتی فیصلوں کے بارے میں فیصلے بہت پہلے کر لیے جاتے ہیں۔

یہی حال حب الوطنی اور غداری کے کھاتوں کا ہے۔ محب وطن اپنے اپنے، غدار اپنے اپنے، حب الوطنی اپنی اپنی، غداری اپنی اپنی کا رواج سکہ رائج الوقت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

ہاں یاد آیا بجٹ کا مہینہ ہے۔ بجٹ بھی اپنا اپنا، حصہ اپنا اپنا، معیشت اپنی اپنی، خوشحالی اپنی اپنی، کرنسی اپنی اپنی، مہنگائی اپنی اپنی، ٹیکس اپنا اپنا، کرپشن اپنی اپنی، دوڑ اپنی اپنی، بچاؤ اپنا اپنا، دفاع اپنا اپنا، کھال اپنی اپنی، مال اپنا اپنا، اولاد اپنی اپنی، آل اپنی اپنی.

سیاست و جمہوریت کے معاملے میں بھی پسند اپنی اپنی ایک نئی اور اجلی حقیقت کے طور پر ہے۔ انتخاب اپنا اپنا، انتخابی اصلاحات اپنی اپنی، انتخابی قوانین و قواعد اپنے اپنے، الیکشن کمیشن اپنا اپنا، سیاست اپنی اپنی، سیاسی جماعت اپنی اپنی، سیاسی مفاد اپنا اپنا، جمہوریت اپنی اپنی، جمہوری انداز اپنا اپنا، جمہوری اقدار اپنی اپنی، جمہوری اصول اپنے اپنے، ووٹ اپنے اپنے، ووٹ کی عزت اپنی اپنی، ووٹ کی عزت کے نعروں کا دور اپنا اپنا، استعمال اپنا اپنا۔

حد یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی اپنی، اسٹیبلشمنٹ مخالفت کا طریقہ اپنا اپنا، آزادی اپنی اپنی، آزادی پسندی اپنی اپنی، مزاحمت اپنی اپنی، مفاہمت اپنی اپنی، نظریات اپنے اپنے، مفادات اپنے اپنے، جرنیل اپنے اپنے، اعتماد اپنا اپنا، استبداد اپنا اپنا۔

حکومت اپنی اپنی، اتحاد اپنا اپنا، حلقہ اپنا اپنا، علاقہ اپنا اپنا، قوم اپنی اپنی، صوبہ اپنا اپنا، زبان اپنی اپنی، ڈومیسائل اپنا اپنا، اقامہ اپنا اپنا، جلاوطنی اپنی اپنی، شہریت اپنی اپنی۔ قصہ مختصر پسند اپنی اپنی، نصیب اپنا اپنا۔

عام آدمی کے لیے بھی ہر گلی کوچے کی دیوار پر موٹے حروف میں لکھا ہے۔ 'چپ رہو! صبر کرو! اور ہمیشہ یاد رکھو نصیب اپنا اپنا، نصیب اپنا اپنا.'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size