کیا واگنر کا شام اور سوڈان سے انخلا یقینی ہے؟

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

روس میں واگنر کی بغاوت غیر یقینی کی فضا کے ساتھ سامنے آئی۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ واگنر کے رہنما کھلے عام جنگ کی مذمت کریں گے اور اسے غیر ضروری سمجھیں گے۔ ان کی بغاوت کی جرآت ہر کسی کی توقعات سے ماورا تھی۔اپنے ملک میں تمام حدود پار کرنا، ایک شہر پر قبضہ کرنا اور ماسکو کی طرف پیش قدمی کرنا ناقابل فہم تھا ، پھر بھی انھوں نے ایسا کرنے کی ہمت کی مگر اس سے زیادہ پریشان کن بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکا، جو ولادی میر پوتین کے قریبی اتحادی تھے، کے سامنے ایوگینی پریگوزن کا ہتھیار ڈالنا تھا۔

واگنر، جو کبھی عالمی سطح پر روس کا فاتح اثاثہ تھا، اب ایک ناقابل تسخیر اور خطرناک قوت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بغاوت کو تیزی سے دبانے کے باوجود، اس گروپ کا مستقبل اور شام اور سوڈان جیسے ممالک میں اس کی سرگرمیاں خطرے میں ہیں۔ پریگوزن نے اپنے غصے کی وجہ ماسکو کی جانب سے واگنر کو ختم کرنے کاعزم کو قرار دیا، جو شاید حالیہ مہینوں میں ان کی مسلسل تنقید اور دھمکیوں کی وجہ سے تھا۔ خطرناک بغاوت برپا کرنے سے پہلے ، پریگوزن کو روسی عوام میں قومی ہیرو سمجھا جاتا تھا ، ملک کی سرکاری پروپیگنڈا مشین اس تصویر کو فروغ دیتی تھی۔

تاہم ، یوکرین میں جنگ کے بارے میں پریگوزن کے اعتراضات اور تنقید ان کی ناکام بغاوت کے باوجود اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک جنگ جاری رہتی ہے۔ روس نیٹو ممالک کے خلاف عملی طور پر اکیلا کھڑا ہے اور 18 ماہ کی لڑائی کے بعد اس کا زمینی فائدہ یوکرین کے صرف 18 فی صد رقبے پر قبضہ ہے۔ پریگوزن کے بیانات اس وقت تک اہم رہیں گے جب تک ماسکو اہم فتوحات حاصل نہیں کرلیتا یا بحران کے پرامن حل پر غورشروع نہیں کرتا۔ اگرچہ پریگوزن کا اثر و رسوخ کم ہو گیا ہے ، لیکن ان کے مطالبات روس میں بڑے پیمانے پر گونج رہے ہیں اور کامیابی کے ساتھ انھیں عوام کی نظروں میں لا رہے ہیں۔

واگنر کی بغاوت سے ہونے والا نقصان بحران کے آغاز کے بعد نیٹو افواج کے تمام اثرات سے کہیں زیادہ بدتر ہے۔ کریملن نے یوکرین پر اپنے حملے کی حمایت حاصل کرنے کے لیے روسی حُب الوطنی اور قوم پرستی پر انحصار کیا ہے۔ تاہم، ایک انتہائی قابل احترام قومی ہیرو نے جنگ کے مقاصد پر شک کا اظہار کیا، اپنے ساتھی کمانڈروں پر صدر پوتین کو پھنسانے اورغداری کا الزام لگایا، اور اپنی افواج کی بنیادیں ہلا کررکھیں اور دھوکا دیا۔روسی عوام میں حب الوطنی کا زبردست جذبہ اور عالمی سیاسی پروپیگنڈا مہم – دو ایسے اہم ستون ہیں جن پر کریملن یوکرین میں جنگ اور اس کے تسلسل کی حمایت کے لیے انحصار کر رہا ہے – لیکن دونوں کو پریگوزن نے بری طرح کمزور کر دیا ہے۔

اس عجیب و غریب واقعہ کے بعد مغرب کے ساتھ روس کا مذاکرات میں مشغول ہونا بلاشبہ مشکل ثابت ہوگا۔ روسی امور کے بہت سے ماہرین نے توقع ظاہر کی تھی کہ ماسکو کو ایک فتح کی ضرورت ہوگی جو مذاکرات اور جنگ کے پرامن اختتام کی راہ ہموار کرے گی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مستقبل قریب میں ایسی کوئی فتح نظر نہیں آتی جو آنے والے مہینوں میں روسی فوج کے انخلا کا جواز پیش کرسکے۔

یوکرین میں جاری جنگ، واگنر سے دست برداری اور اس کے اہم رہ نماؤں کی برطرفی کے نتیجے میں مستقبل میں ان کے خلاف ممکنہ مقدمات کا باعث بننے والے روس کے فیصلوں اور فوجی کارروائیوں کو اس کی جغرافیائی سرحدوں سے باہر متاثرکرے گی۔ یہ بات خاص طور پر اس لحاظ سے اہم ہے کہ قیادت میں تبدیلیوں کے بارے میں حالیہ بات چیت میں کچھ اہم شخصیات کو ہٹانا شامل ہے ، کیونکہ صدر لوکاشینکو نے انھیں پریگوزن کی بغاوت اوران کی فوجی قیادت پر تنقید کا ذمہ دار قراردیا ہے۔

یہ پیش رفت شام اور سوڈان جیسے دیگر ممالک میں روس کی خصوصی فورسز کی کارروائی کو نمایاں طور پر متاثر کرے گی۔ شام سے روس کے انخلا سے ایران کے کردار کو اہمیت حاصل ہوگی جبکہ علاقائی توقعات تو یہ ہیں کہ شام میں ایرانی ملیشیاؤں اور ان کا اثر و رسوخ کم ہونا چاہیے لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوسکتا ہے۔

افراتفری کم ہونے کے بعد ماسکو بالآخر جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے ، اگرچہ اس کا امکان نظر نہیں آتا ہے۔ اس صورت حال میں صدرپوتین یوکرین میں جنگ کی ناکامی کے لیے اپنے فوجی رہنماؤں کو مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں اور انھیں بنیادی طور پر فتح کے وعدوں کے لیے جواب دہ ٹھہرا سکتے ہیں جو کبھی پورے نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ، نئے علاقائی اتحادوں اور عالمی تعلقات کو دیکھتے ہوئے، اس کا ایشیا اور افریقا میں ماسکو کی فوجی موجودگی پر اثر پڑے گا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں