فروغ حقوق نسواں اور عرب دنیا کے امکانات

آبادی کے عالمی دن پر اقوام متحدہ کا پاپولیشن فنڈ صنفی مساوات میں بہتری کے لیے فوری اقدامات پر زور دیتا ہے

لیلیٰ باقر
لیلیٰ باقر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

عرب دنیا صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ ہم اگر آگے بڑھ کر خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنائیں تاکہ وہ صلاحتیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے خواب پورے کر سکیں۔ ایسے میں لامحدود امکانات کا حامل مستقبل ہمیں خوش آمدید کہنے کے لیے آمادہ وتیار ملے گا۔

صنفی مساوات، عزت و وقار اور امکانات کے لیے جنسی اور تولیدی صحت کی بہتری بنیادی ضرورت ہے۔ اگرچہ، دنیا کی 40 فیصد سے زائد خواتین کو تو یہ انتہائی بنیادی حق بھی حاصل نہیں کہ وہ بچہ پیدا کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کر سکیں۔

جنگوں سے لے کر موسمیاتی تبدیلی اور جغرافیائی چیلنجر تک - بڑے مسائل کے حل کے لیے ہمیں اپنی نصف آبادی کی توانائی اور کوئی نیا کام کرنے کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا ہو گا۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کی جنسی و تولیدی صحت اور اس سے متعلق حقوق کو یقینی بنایا جائے۔ زندگی، خاندان اور کریئر کے بارے میں ان کی خواہشات کی آبیاری کی جائے۔

لیکن اس کے لیے عمر خضر درکار ہو گی۔

سب سے زیادہ متأثرہ علاقوں میں عرب دنیا ہے جہاں عورتوں کی تقریباً دو تہائی آبادی مبینہ طور پر زندگی میں کسی نہ کسی وقت تشدد کی کسی صورت کا شکار بنتی ہے۔ جنگیں مسائل کو اور زیادہ سخت اور پیچیدہ بنا دیتی ہیں جس سے عورتیں اور بچیاں سب سے زیادہ متأثر ہوتی ہیں جبکہ ان کی کہانیاں پریس اور میڈیا کی سرخیوں میں اکثر نظر انداز ہو جاتی یا دب جاتی ہیں۔

سوڈان اور دنیا کے دیگر ممالک میں عورتوں اور لڑکیوں کے خلاف سفاکانہ جنسی تشدد، بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور بنیادی انسانی تہذیب وشائستگی کے اصولوں کی کراہت انگیز خلاف ورزی کا مظہر ہے۔ جنگ سے سوڈان میں سکیورٹی کے معاملات وخدمات کا گویا شیرازہ بکھر گیا ہے اور اشد ضروری ادویہ کی کمی واقع ہو گئی ہے۔

اس خطے میں زنانہ ختنے کا مایوس کن، خطرناک اور ہتک آمیز طریقہ اب بھی بہت زیادہ رائج ہے۔ صومالیہ میں پانچ سے گیارہ سال کی 99 فیصد بچیوں کے جنسی اعضاء کو کاٹ دینے کی خبریں ملتی ہیں۔ سوڈان میں - جہاں یہ شرح بڑھ رہی ہے - بچیوں کی تقریباً تین چوتھائی تعداد متأثر ہوتی ہے۔

لڑکیوں کی زبردستی شادی ان کا بچپن اور مستقبل چھین لیتی ہے، عرب خطے میں ترقی کے باوجود بھی 20 فیصد سے زیادہ لڑکیوں کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے۔

معیشت میں خواتین کی شمولیت کے حوالے سے عرب خطہ دنیا بھر میں سب سے پیچھے ہے جہاں یہ شرح صرف 26 فیصد ہے جبکہ عالمی اوسط نصف سے خاصی زیادہ ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق، ملازمت میں صنفی امتیاز کو ختم کر کے فی کس جی ڈی پی کو اوسطاً 20 فیصد بڑھایا جا سکتا ہے۔

ان تمام مسائل کی جڑ صنفی امتیاز ہے۔ وسیع پیمانے پر ہونے والی ناانصافی عورتوں اور لڑکیوں کو سکولوں، افرادی قوت اور قائدانہ کردار سے دور رکھتی ہے۔ اس سے ان کی فیصلہ سازی کی اہلیت محدود ہو جاتی ہے اور ان کے خلاف تشدد، جبری شادی، اور دیگر ضرر رساں طریقوں سے متأثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

لیکن پھر بھی امید قائم ہے کہ خطے میں روشنی کے کئی نشانات موجود ہیں۔

تونس عورتوں اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو گذشتہ دس سالوں میں نصف سے کم پر لے آیا ہے اور خطے میں سب سے کم، صرف 2 فیصد کی شرح کا حامل ہے۔

متحدہ عرب امارات دنیا کے صرف ان چھے ممالک میں سے ایک ہے جہاں پارلیمان میں نصف سے زائد تعداد خواتین کی ہے۔ بیشتر عرب ممالک نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ دس میں سے نو بچوں کی پیدائش شعبہ صحت کے پیشہ ور افراد کے ہاتھوں ہو جس سے بے شمار زندگیاں بچ سکیں گی۔

جنسی اور تولیدی صحت اور اس کے حقوق، بہتر تعلیم، مناسب مزدور پالیسیوں اور کام کی جگہ اور گھر میں مساویانہ اطوار کے ذریعے صنفی مساوات کو فروغ دیا جائے تو نتیجے میں صحت مند خاندان، مضبوط معیشت اور حالات کا مقابلہ کرنے والے معاشرے پیدا ہوں گے۔

حکومتوں کو خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ایسے قوانین، پالیسیوں اور پروگراموں پر کام کرنا چاہیے جو انسانی حقوق، عزت و وقار اور مساوات کا تحفظ کریں۔ انہیں خواتین کے خلاف تشدد کے حوالے سے قانونی سقم پر قابو پانا چاہیے اور ایسے مسائل کے پسماندہ افراد کے لیے خدمات کو تقویت دینی چاہیے۔

تمام عرب ریاستوں کو ان قوانین کو درست کرنا چاہیے جو شادی کی عمر 18 سال مقرر کرتے ہیں۔ انہیں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد سمیت صنفی مساوات کے اعداد وشمار کو بہتر کرنا چاہیے اور ہمیں کمیونٹیز کے ساتھ مل کر ان اطوار اور رکاوٹوں کو بتدریج ختم کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے جو خواتین اور لڑکیوں کو آگے نہیں آنے دیتیں۔

30 سال قبل، قاہرہ میں آبادی اور ترقی کی بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا نے ایک مشترکہ تصور پر اتحاد کیا جس میں عورتوں اور لڑکیوں کے حقوق کو مرکزی حیثیت میں تسلیم کیا گیا۔

صنفی مساوات کا یہ پیغام آج بھی اتنا ہی طاقتور ہے جتنا اس وقت تھا اور عالمی یومِ آبادی پر - اور ہر روز - یہ ہمارا بھی عزم ہونا چاہیے۔ ایک ایسی دنیا کی تعمیر کے لیے ہمیں اپنی کوششیں دگنا کرنی ہیں- جہاں 8 ارب میں سے ہر ایک - محفوظ اور پائیدار مستقبل سے لطف اندوز ہو۔
---------
لیلیٰ باقر عرب ریاستوں کے لیے یو این ایف پی اے کی علاقائی ڈائریکٹر ہیں۔ لیلیٰ کا زیر نظر کالم العربیہ انگلش میں شائع ہوا، جسے رضوانہ شیخ نے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size