پاکستان اور جی سی سی شراکت داری کا نیا دور

ڈاکٹر علی عواض العسیری
ڈاکٹر علی عواض العسیری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا مشکلات سے بھرپور مگر نتیجہ خیز دور حکومت اختتام کے قریب ہے۔ اس دوران پالیسی سازی میں اہم فیصلے سامنے آئے۔ ان کا ایک سٹریٹجک اقدام سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات کو گہرا کرنا تھا۔ خلیج تعاون کونسل کی ان سرکردہ معیشتوں نے بھی پاکستان کے معاشی استحکام اور بحالی میں اپنا کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی تعلقات کو ترجیح دی ہے۔ تاریخی طور پر مربوط ان تعلقات کی بنیاد مذہب اور ثقافت کے مشترکہ بندھنوں، باہمی مفید اقتصادی ضروریات کے ساتھ ساتھ علاقائی استحکام اور عالمی امن کے لیے مشترکہ مفادات پر ہے۔

توانائی کی درآمدات اور غیر ملکی ترسیلات کے بنیادی ذریعہ کے طور پہ جی سی سی خطہ پاکستان کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ پاکستانی تارکین وطن کی سب سے زیادہ تعداد کا مسکن بھی ہے۔ خلیج میں جاری اقتصادی تنوع اور علاقائی مفاہمت بالخصوص سعودی وژن 2030 کے تحت، پاکستان کے ترقیاتی شعبے میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنے کے ساتھ ساتھ ہنر مند افرادی قوت اور قابل تجارت اشیاء خلیجی ممالک کو برآمد کرنے کے کافی مواقع فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سمجھتی ہے کہ بحران زدہ معیشت کو پائیدار ترقی کی جانب گامزن کرنے میں جی سی سی کی سرمایہ کاری اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں اٹھائے گئے اہم اقدامات میں سے ایک خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا قیام ہے، جس کو جی سی سی ممالک سے زراعت، معدنیات اور کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں براہ راست سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔
اس اہم قدم کی تکمیل پاکستان خودمختار دولت فنڈ کے اجراء اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے کی تکمیل سے کی جا رہی ہے۔

جی سی سی کے اہم اقتصادی کردار پر موجودہ سیاسی وعسکری اتفاق رائے موجودہ حکومت کی طرف سے اقتصادی، سیاسی، سلامتی اور خارجہ پالیسی کے محاذوں پر ہونے والی ٹھوس پیش رفت کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

شہباز شریف کو گذشتہ سال اپریل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اہم چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا، مالیاتی لحاظ سے دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ملک ان کو وراثت میں ملا۔ اس کے بعد کے سیاسی بحران، دہشت گردی کی ایک نئی لہر اور بڑی طاقتوں اور قابل اعتماد اتحادیوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں سنگین بگاڑ سے نمٹنا بھی ایک مشکل کام تھا۔ لیکن وہ اتحادی رہنماؤں، سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور کلیدی غیر ملکی شراکت داروں کو شامل کرکے اس پیچیدہ منظر نامے سے کامیابی کے ساتھ نکلنے میں کامیاب رہے۔

نتیجتاً، پاکستان اب اتنا مستحکم ہے کہ نگراں سیٹ اپ کی طرف آسانی سے منتقل ہو سکے، جو اگلے عام انتخابات کا انعقاد کرے گا۔ نومبر میں جنرل عاصم منیر کی آرمی چیف کے عہدے پر تقرری کے بعد سے سیاسی انتشار کم ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ نو ماہ کی مدت کے لیے $3 بلین مالیت کا عملے کی سطح کا ایک نیا معاہدہ جون میں طے پا چکا ہے۔

اگرچہ دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، لیکن اب اس خطرے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے بہتر ڈھانچہ موجود ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ بحال ہو گیا ہے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی دوبارہ پٹری پر آ گئے ہیں۔ سب سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ سول ملٹری تعاون سے اقتصادی میدان میں توسیع ممکن ہوئی ہے، جس سے پاکستان کی سرکردہ جی سی سی معیشتوں کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو نئی رفتار ملی ہے۔

2019 سے سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے غیر ملکی ذخائر کو بڑھانے کے لیے کئی ارب ڈالر کے رعایتی قرضوں کی پیشکش کی ہے۔ ان قرضوں کو بعد میں آئی ایم ایف کی طلب کو پورا کرنے کے لیے رول اوور کر دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کا تازہ ترین معاہدہ سعودی عرب کی جانب سے بینک دولت پاکستان میں 2 ارب ڈالر کا اضافی قرضہ جمع کرانے کے بعد ممکن ہوا۔

سعودی عرب ہمیشہ ہر طرح کے حالات میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، مگر پاکستان کو اپنے دونوں پاؤں پر کھڑا ہونا چاہیے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل اس سلسلے میں ایک قابل عمل راستہ پیش کرتی ہے۔ اس کا قیام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کے سیاسی اور عسکری قیادت غیر ملکی قرضوں پر انحصار کے خطرے کو سمجھتے ہیں۔ اور وہ دوست ممالک سے سرمایہ کاری کو راغب کرکے ایک مضبوط اقتصادی بنیاد ڈالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے اب تک، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ایک تیز رفتار، ون ونڈو آپریشن فراہم کرنے میں ناکامی بیرونی سرمایہ کاری میں کمی کی اہم وجہ ہے۔

غیر ضروری سفارتی رکاوٹیں اور ریگولیٹری تقاضے ہیں، جو سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور نئے منصوبوں کے آغاز اور موجودہ منصوبوں کی تکمیل میں خلل ڈالتے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں حکومتوں کی بار بار تبدیلیاں ، اور اس کے نتیجے میں معاشی پالیسیوں میں تسلسل کی کمی ہوتی ہے۔

ان مسائل نے ماضی قریب میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری کے امکان کو متاثر کیا ہے۔ 2019 میں اسلام آباد کا دورہ کرتے ہوئے، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے توانائی، معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں 20 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات اور قطر نے 9 بلین ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن بوجھل طریقہ کار اور ساختی رکاوٹوں کی وجہ سے یہ وعدے ابھی تک پورے نہیں ہوئے ہیں۔

غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنی سرمایہ کاری پر یقینی واپسی کی یقین دہانی ضرورت ہوتی ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری کی سہولت کونسل کا تصور یہ ہے کہ وہ تکنیکی مشاورت اور ادارہ جاتی سہولت کے ذریعے ون ونڈو خدمات پیش کرے۔ اس کی ایپکس کمیٹی میں آرمی چیف اور ایگزیکٹو اور عملدرآمد کمیٹیوں میں اعلیٰ فوجی حکام کی شمولیت تسلسل، شفافیت اور احتساب کی ضمانت کے لیے اہم ہے۔

پاکستان خودمختار دولت فنڈ کا تصور بھی بیوروکریٹک اور ریگولیٹری پریشانیوں سے نجات کے لیے ہے۔ اس وقت، اس فنڈ میں 2.3 ٹریلین روپے ($8 بلین) مالیت کے کم از کم سات ریاستی اثاثے منتقل کیے جا رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ حصص کی فروخت اور ان کی آمدنی کے استعمال کے ذریعے سرمایہ کاری میں توسیع کی جائے گی۔ حکومت خسارے میں چلنے والے پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی نجکاری اور لیز پر دیتے ہوئے جی سی سی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

سرمایہ کاری کی اس مہم میں واضح پیش رفت سے پاکستان کو جی سی سی، چین اور دیگر ممالک سے سرمایہ کاری کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔ لیکن 2035 تک 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کی خواہش کی تکمیل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ ٹھوس اقدامات اٹھائے جس سے باہمی تجارت کی مایوس کن سطح میں بہتری آئے، جس کی مالیت اس وقت خلیجی ریاستوں کے ساتھ $3 بلین سالانہ ہے۔

پاکستان کو جی سی سی خطے میں ملازمتوں کے تنوع اور افرادی قوت کو بھی بڑھانا چاہیے جہاں اس وقت ان کی تعداد تقریباً 4 ملین ہے۔

اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے کی طرح سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کی ضرورت ہے۔

آئی ٹی اور خدمات کے شعبوں میں پاکستان کی ہنر مند افرادی قوت خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب میں ہونے والی معاشی تبدیلیوں کا بہترین جوڑ ہے۔

اپنی بات سمیٹنے سے پہلے میں کہنا چاہتا ہوں کہ شہباز شریف حکومت نے پاکستان میں معاشی بحالی کے امکانات کو بڑھانے کے لیے اچھا کام کیا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل کی سیاسی قیادت اقتصادی پالیسیوں میں، خاص طور پر جی سی سی معیشتوں کے ساتھ تیزی سے ترقی پذیر شراکت داری کے حوالے سے ، موجودہ رفتار کو برقرار رکھے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر علی عواض العسیری سعودی عرب کے سینیئر سابق سفارتکار ہیں۔ آپ 2001-2009 کی مدت کے دوران پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر تعینات رہے۔ ڈاکٹر العسیری نے بیروت عرب یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ آپ ’’دہشت گردی کا مقابلہ: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا کردار‘‘ کے عنوان سے لکھی جانے والی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان کا یہ مضمون عرب نیوز کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں