جدہ اجلاس:یوکرین جنگ کے پُرامن حل کے لیے نیا آغاز

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اختتامِ ہفتہ پر یوکرین کے بحران کے پُرامن حل کی تلاش کے لیے جدہ میں ایک بین الاقوامی اجلاس منعقد ہوا۔ قریباً دو ماہ قبل کوپن ہیگن میں اسی طرح کے امن مذاکرات منعقد ہوئے تھے۔

ان میں فرق یہ ہے کہ ڈنمارک مغرب، یوکرین نواز کیمپ کا حصہ ہے، جبکہ سعودی عرب متحارب فریقین سے مساوی فاصلے پرکھڑا ہے۔روس کے دوست چین اور بھارت نے جدہ مذاکرات میں شرکت کی۔روس نے کہا کہ وہ یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی کی شرکت کی مخالفت کے باوجود اجلاس پر نظر رکھے گا۔

برسرزمین موجود جنگجوؤں کے درمیان تعطل کی سی کیفیت پیدا ہوچکی ہے، لیکن بحران اب بھی بڑھ رہا ہے۔نئے فوجی اور سیاسی اتحاد اور بین الاقوامی توازن اُبھر رہے ہیں۔جنگ کے خطرات دوسری ریاستوں تک پھیل رہے ہیں،جیسا کہ بحیرۂ اسود میں جوہری جنگ ،یا آبدوز جنگ کے خطرات ہیں۔چیچن اور روسی ملیشیائیں متحرک ہو رہی ہیں اورایرانی ڈرونز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ دونوں فریق گندم کو بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں اور بندرگاہوں اور پلوں پر بمباری کر رہے ہیں۔اس جنگ میں تیل اور گیس کی پیداواراور فروخت بھی شامل ہوچکی ہے۔

جدہ امن مذاکرات نہ تو سیاسی مؤقف ہیں اور نہ ہی میڈیا کی نفسیاتی جنگ کا مظاہرہ۔ روس اور مغرب دونوں کے لیے فوجی حل پہلے سے کہیں زیادہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔انھیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایک ایسا راستہ ہے جو ان دونوں کو جاری بحران کے سنگین نتائج اور مضمرات سے بچائے لیکن وہ وہاں کیسے پہنچ سکتے ہیں جبکہ وہ دونوں ہی جنگ کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں؟

کیا ماسکو بغیر کسی فائدے کے یوکرین سے لوٹنے پر رضامند ہو جائے گا اور کیف کو کریمیا سمیت اپنی علاقائی خودمختار کو دوبارہ حاصل کرنے کی اجازت دے گا۔ریاست کریمیا کا2014ء میں روس نے الحاق کر لیا تھا؟

کیا مغرب ان چیزوں کو ترک کرنے کو تیار ہو گا جنھیں کریملن ’نئی علاقائی حقیقتوں‘ کے طور پر دیکھتا ہے؟یا کوئی اور انتخاب ہے جو دونوں فریقوں میں سے ہرایک کو فتح کا جشن منانے کے لیے کچھ فوائد فراہم کرسکتا ہے۔شاید ایک طرف کیف کی حفاظت اور خودمختاری کی ضمانت اور یوکرین کی علاقائی خودمختاری جو نیم روسی آبادی کے لحاظ سے ہیں؟

روس اور یوکرین دونوں کو بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں جو مزید الگ نہیں ہوسکتی ہیں، لہٰذا جدہ مذاکراتی اجلاس دونوں دشمنوں کے مابین فاصلے کو کم کرنے کے لیے ناگزیر ثابت ہوتا ہے۔

ہر روز نئی پیچیدگیاں سامنے آنے کے ساتھ ، جنگ کسی بھی وقت قابو سے باہر ہوسکتی ہے۔ ویگنر گروپ کی بیلاروس میں آمد اور ہمسایہ ممالک میں جنگ کے پھیلنے کا بڑھتا ہوا خطرہ سودے بازی کا حربہ ہو سکتا ہے جو ماسکو واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔دریں اثناء، یوکرین نے نہ صرف کریمیا پر حملہ کیا ہے، بلکہ اس کے ڈرونز نے ماسکو میں اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی بھی ہمت کی ہے حالانکہ ہٹلر اور اس کی طاقتور فوج بھی ہتھیار ڈالنے سے خوف زدہ نہیں کرسکی تھی۔

دراصل جنگ کا پھیلاؤ ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ بڑی طاقتوں کی جنگوں کے دوران میں لڑائیاں عام طور پر تنازعات والے علاقوں تک محدود رہیں۔ ویت نام، عراق اور افغانستان کی جنگیں کبھی یورپ یا امریکا تک نہیں پہنچ سکیں۔ بالآخر جوہری خطرات بڑھنے لگے۔

یوکرین جنگ کو ختم کرنے والا کوئی تصفیہ ابھی تک نظر نہیں آتا ہے، لیکن امن مذاکرات ایک اچھا نقطہ آغاز ہیں جو ہر فریق کو اپنے فوائد کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتے ہیں جبکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دونوں فریقوں کو ہونے والے نقصانات کو ختم کرنے کے حتمی مقصد کو بھی پورا کرتا ہے۔

یوکرین کی جنگ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے خطرناک اور اہم جنگ ہے۔دوسری عالمی جنگ نے یورپ میں جنگوں کا خاتمہ کیا اور پرانے براعظم کو تنازعات سے دور کردیا تھا۔ چار دہائیوں تک ، اور دیوار برلن اور سوویت یونین کے انہدام تک ، مشرقی اور مغربی کیمپ سرد جنگ میں ضرور مصروف رہے تھے لیکن کسی کا ٹینک مخالف کیمپ کے علاقوں میں داخل ہوا۔ اب یوکرین کی جنگ نے پرانے زخموں کو دوبارہ کھول دیا ہے اور دنیا کو سرد جنگ کی خندقوں میں واپس دھکیل دیا ہے۔

لیکن اس سب کے درمیان سعودی عرب کہاں ہے؟

آج سعودی مملکت سردجنگ کے دور کی طرح کچھ بھی نظر نہیں آتی ہے۔ اس وقت الریاض کے بیجنگ اور ماسکو جیسی مشرقی طاقتوں کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی نہیں تھے۔آج، یہ درمیان میں کھڑا ہے۔اس کا زیادہ تر تیل چین کو فروخت کیا جاتا ہے لیکن یہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ اس کے روسی صدر ولادی میر پوتین کے ساتھ ساتھ یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں۔

جدہ اجلاس میں بھارت اور چین کی شرکت خاص طور پر سعودی عرب کے کھلے پن اور بحران کے خاتمے کے لیے کوششوں میں اہمیت کی حامل ہے۔اس کے علاوہ مذاکراتی عمل میں تمام فریقوں کو شامل کرنے کی سعودی عرب کی کوششوں اور بین الاقوامی تعلقات کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے عزم کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

اگرچہ چین روس پر مغرب کی فوجی اور اقتصادی ناکا بندی کی مخالفت کرتا ہے جبکہ واشنگٹن چین کو ماسکو کی حمایت اور اس طرح کی صف بندی کے ممکنہ نتائج کے خلاف متنبہ کرتا ہے۔

ان تمام تر کشیدہ حالات میں 42 ریاستوں کا جدہ میں یوکرین کے بحران کے خاتمے پر بات چیت کے لیے اکٹھے ہونا کسی کامیابی سے کم نہیں ہے۔ایسے مذاکرات کو امن کوششوں کو آگے بڑھانے میں طویل سفر طے کرنا ہوگا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں