’’غزہ ہاتھ سے گیا تو آزاد کشمیر کی بھی خیر نہیں‘‘

عارف بہار
عارف بہار
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیل غزہ پر قیامتیں ڈھا رہا ہے بچوں کا قتل عام جاری ہے اور بھارت کا سوشل میڈیا اس پر جشن منارہا ہے یوں لگتا ہے کہ ان کے دل کے ارمان پورے ہو رہے ہیں حالانکہ غزہ کے ساتھ نہ بھارت کی سرحد ملتی ہے نہ دونوں کے درمیان کوئی تنازع موجود ہے۔ دونوں کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ ہے اس کے باوجود بھارت میں سوشل میڈیا پر غزہ کے قتل عام پر جشن ایک نئی کہانی سنا رہا ہے۔

اسرائیل جس ذہنیت کا شکار ہے بھارت بھی پوری طرح اسی ذہنیت کے زیر اثر آ چکا ہے۔ اسرائیل مسجد اقصیٰ کے ساتھ جو کرنے جا رہا ہے بھارت برسوں پہلے وہی کچھ بابری مسجد کے ساتھ کر چکا ہے۔ اسرائیل بھی اسی طرح مسجد اقصیٰ کی بنیادوں میں اپنی مذہبی تہذیب کی کرچیاں تلاش کر رہا ہے جس طرح ہندو انتہا پسندوں نے بابری مسجد کی بنیادوں میں رام کی ایسی جنم بھومی ڈھونڈ نکالی تھی جسے ماہرین آثار قدیمہ سے عدالت تک کہیں ثابت نہ کیا جا سکا۔ اسرائیل اور بھارت کا خفیہ تعاون برسہا برس سے جاری ہے اور اکہتر کی پاک بھارت جنگ اور کارگل کی لڑائی میں اسرائیل بھارت کی مدد کر چکا ہے۔

1990 تک یہ تعلقات ملفوف رہے اور بابری مسجد کو گرانے کے بعد جب انتہا پسندہندو ذہن نے سیاسی عروج حاصل کرنا شروع کیا تو اسرائیل اور بھارت کے تعلقات کھلے بندوں آگے بڑھتے رہے۔ دونوں نے یہ طے کرلیا کہ بھارت کو کشمیر میں اور اسرائیل کو فلسطین میں ایک ہی ذہنیت کا سامنا ہے اور ان دونوں خطوں میں مسلمانوں کا وجود مٹا ڈالنا دونوں کے مفاد میں ہے۔ یہ طے کرنے کے بعد اسرائیل اور بھارت نے دفاعی شعبے میں تعاون بڑھا دیا۔ آج بھی اسرائیل اور بھارت باہمی تعاون سے براک 8 کے نام سے میزائل ڈیفنس سسٹم تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ 2017کے بعد سے اسرائیل ہندوستان کو ہتھیاروں کی سپلائی کا سب سے بڑا ملک ہے۔

حماس کے حملے کے بعد نریندر مودی کے دل میں اسرائیل کی محبت کا طوفان اُبل پڑا اور نروبدر مودی نے معمولی سا توازن بھی نہیں رکھا اور اسرائیل کی زبان میں سارا ملبہ حماس کے سر ڈال دیا۔ نریندر مودی نے اسرائیل کو معصوم بچوں کے قتل عام میں احتیاط برتنے کا مشورہ تک نہیں دیا۔ بھارت میں مسلمانوں کی عمارتوں کو گرانے کے لیے بلڈوزر کلچر کا تصور بھی بھارت نے اسرائیل سے لیا ہے اور یہ بلڈوزر مسلمانوں کی جائدادوں کو تو تباہ کرتے ہیں مگر تعصب کی انتہا یہ کہ ہندو ئوں کی جائدادوں کی طرف چلنے سے انکاری ہوتے ہیں۔

اسرائیلی انٹیلی جنس نے بھارتی خفیہ اداروں کے ساتھ کشمیر میں مزاحمت کو کچلنے کے تعاون بڑھا دیا اور بھارت نے اسرائیل سے وہی حفاظت اور جاسوسی کا وہی دفاعی ساز وسامان خریدنا شروع کیا جو اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں اور دوسری سرحدوں کے خصوصی طور پر تیار کیا تھا۔

کنٹرول لائن پر باڑھ کا تصور بھی اسرائیل سے مستعار لیا گیا ہے اور اس باڑھ کی تعمیر میں بھی اسرائیل سے معاونت لی گئی تھی۔ 1990 میں سری نگر جھیل ڈل میں ایک ہائوس بوٹ پر حریت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس میں اسرائیلی کمانڈوز سیاحوں کے روپ میں موجود تھے۔ ان سیاح نما کمانڈوز نے حریت پسندوں کا جس طرح مقابلہ کیا تھا اسی سے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ بہترین فوجی تربیت کے حامل تھے اس طرح کشمیر میں اسرائیل اور بھارت کا تعاون ساڑھے تین عشرے سے جاری ہے۔

اسرائیل کا خیال ہے کہ فلسطین کا نام اور فلسطینیوں کا وجود اس کا مستقل دردِ سر ہے اور وہ ان کی الگ شناخت مٹاڈالنے پر مُصر ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے کو اب فلسطینی شناخت کی آخری علامتیں ہیں اسرائیل انہیں بھارت کی طرز پر یونین ٹیریٹری بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ بھارت جموں وکشمیر اور لداخ کو یونین ٹیریٹری بنا چکا ہے اب وہ آزادکشمیر کے گرد سرخ دائرہ کھینچ چکا ہے۔

آزاد کشمیر کے الگ وجود اور نام سے بھارت الرجک ہے وہ اسے اپنا مستقل درد سر بنائے ہوئے ہے کیونکہ آزاد کشمیر کا وجود مسئلہ کشمیر کی آخری مضبوط علامت ہے۔ بھارتی حکمران مسلسل آزاد کشمیر پر حملہ کرکے قبضہ کرنے کے اعلانات کر رہے ہیں۔ فلسطینیوں کے قومی اور الگ وجود کی علامت غزہ کا چراغ بجھ گیا تو آزاد کشمیر کی بھی خیر نہیں۔ بھارت اسرائیل کے اس تجربے سے نہ صرف فائدہ اُٹھائے گا بلکہ عملی تعاون بھی حاصل کرے گا۔

امریکا اور مغربی ممالک اسرائیل کے ناتے بھارت کے قریبی رشتہ دار بن چکے ہیں اس لیے ان سے کسی احتجاج یا مزاحمت کی توقع بے سود ہے۔ ایسے میں پاکستان اور کشمیری عوام کو غزہ کے مظلوم لوگوں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے کیونکہ وہ صرف اپنی ہی ان کی لڑائی بھی لڑ رہے ہیں۔ یہ بات نوشتہ ٔ دیوار ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی شکست بھارت کی شکست ہے اور غزہ میں اسرائیل کی کامیابی بھارت کے آزاد کشمیر کے جارحانہ عزائم کو مزید خوں خوار اور پختہ بنانے کا باعث بنے گی۔ [بہ شکریہ روزنامہ جسارت ۔ کراچی]

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں