غزہ اور یوکرین بائیڈن کے صدارتی انتخاب کا ڈراؤنا خواب؟

امریکی انتخابات کا تعین عام طور پر معیشت پر ہوا کرتا ہے، مگر اس بار غزہ میں جاری صورتِ حال نے امریکی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے

جون سوپل
جون سوپل
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

انتخاب کے حوالے سے آپ کا پسندیدہ بیانیہ کیا ہے؟ کیا یہ ہے کہ ’حزب اختلاف کی جماعتیں انتخابات نہیں جیتا کرتیں، حکومتیں ہار جایا کرتی ہیں؟‘

یا شاید ’صرف رائے کے اس اظہار کی اہمیت ہوتی ہے جو الیکشن کے دن کیا جاتا ہے؟ اگر آپ امریکہ کو دیکھ رہے ہیں تو پسندیدہ بیانیہ یقینی طور پر ’یہ معیشت ہے احمق‘ (This is economy, stupid) ہے۔ یہ جملہ جیمز کاروِل نے گھڑا جن کی بذات خود عرفیت ’ریجن کیجن‘ تھی جس کی وجہ کا ان کا تعلق ریاست لوزیانا سے ہونا ہے۔

1992 کے صدارتی انتخاب میں جیمز کاروِل کی جانب سے بل کلنٹن کے لیے یہ بیانیہ تخلیق کرنے بعد سے یکے بعد دیگر ہونے والے صدارتی انتخابات یہ بیانیہ چلا آ رہا ہے۔ یہ بنیادی اور واضح مشورہ ہے کہ تمام انتخابات لوگوں کی معاشی خوشحالی کے احساس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس سوال کا جواب کہ کیا میں چار سال پہلے کے مقابلے میں اب بہتر ہوں؟

لیکن اگر یہ بیانیہ 2024 کے صدارتی الیکشن میں برقرار نہیں رہتا ہے تو کیا ہو گا؟ بائیڈن کے لیے رائے شماری کے اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو انہیں امریکہ میں ہونے والی معاشی ترقی کا کوئی کریڈٹ نہیں مل رہا۔ روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے، اور مہنگائی کم ہو رہی ہے۔ بات اب مالی بحران کی نہیں بلکہ امریکی معیشت کی ترقی میں سست رفتاری کی ہے۔

اس وقت مشرق وسطیٰ اور یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے اس نے امریکی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ جزوی طور پر الگ تھلگ رہنے پر صدیوں پرانی امریکی بحث کے بارے میں ہے یعنی ’امریکہ پہلے‘ بمقابلہ عالمی سطح پر قیادت۔ جمہوریت اور قاعدے قانون پر مبنی بین الاقوامی نظام کا محافظ بننے کی بجائے الگ تھلگ رہنا۔ لیکن بات یہ بھی ہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں غزہ کی پٹی کے ساحلوں سے آنے والی لہریں اب امریکہ کے ساحل کے ساتھ کس طرح ٹکراتی ہیں۔

امریکہ کے سیاسی نقشے پر نظر ڈالیں۔ مشی گن انتخابی نتائج سے کے حوالے سے فیصلہ کن ریاستوں میں سے ایک مشی گن ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 میں یہاں سے کامیابی حاصل کی۔ بائیڈن نے 2020 میں ایک لاکھ 60 ہزار ووٹوں کی اکثریت کے ساتھ انتخاب جیتا۔ لیکن مشی گن امریکہ میں سب سے زیادہ مسلمان کی آبادی والی ریاستوں میں سے ایک ہے۔

مشی گن میں تقریباً ڈھائی لاکھ مسلمان رہتے ہیں۔ انہوں نے ان دونوں انتخابات میں بائیڈن کے حق میں بھاری اکثریت سے ووٹ دیا۔ خاص طور پر 2016 میں ٹرمپ کی جانب سے تمام مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز کے بعد۔ لیکن بائیڈن نے جس طرح اسرائیلی رہنما بنیامین نتن یاہو کو اپنے قریب کر رکھا ہے اس پر غصہ پایا جاتا ہے۔

گذشتہ ہفتے میں نے ڈیٹروئٹ کے میئر مائیک ڈگن کے ساتھ تھوڑا سا وقت گزارا۔ وہ جو بائیڈن کے اچھے دوست ہیں اور 2024 میں ان کے دوبارہ انتخاب لڑنے کی کوشش کے پیچھے کھڑے ہیں لیکن وہ ایک پریشانی کا شکار ہیں۔ مشی گن کے اس شہر کا مزاج بدل رہا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ اگر وائٹ ہاؤس کو اگلے سال ہونے والے انتخاب میں ریاست میں قدم جمانا ہے تو اسے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی حالت زار پر تشویش کا زیادہ اظہار کرنے کی ضرورت ہے۔

روایتی طور پر ڈیموکریٹس وہ جماعت ہے جو اسرائیل کی سب سے زیادہ حامی ہے لیکن یہ کیفیت ڈرامائی طور پر تبدیل ہو رہی ہے. حماس کی جانب سے سات اکتوبر کی کارروائی سے چھ ماہ قبل گیلپ کے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ پہلی بار ڈیموکریٹس نے اسرائیلیوں کے مقابلے میں فلسطینیوں کے لیے زیادہ ہمدردی کا اظہار کیا۔

اس کے بعد امریکہ میں کالج کیمپس میں ہونے والے مظاہروں کی لہر کو دیکھیں۔ نہ صرف زیادہ تر فلسطینیوں کی حمایت میں کیے گئے بلکہ یہود مخالف واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ نوجوان اگلے سال کس طرح ووٹ ڈالیں گے جب بائیڈن ان کے سامنے اس صہیونیت کی نمائندگی کرتے نظر آتے جس کا رواج پرانا ہو چکا ہے۔ ڈیموکریٹس کے پاس ناراضی کا جواز موجود ہے۔

اور اس کے بعد یوکرین ہے۔ روس کے حملے سے بہت پہلے امریکی ’نہ ختم ہونے والی جنگوں‘ سے تھک چکے تھے۔ اگرچہ اس تنازعے میں کوئی امریکی مرد یا خاتون فوجی ملوث نہیں ہیں لیکن ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالرز کو اس جوابی حملے کی حمایت کرکے نگلا جا رہا ہے جو بظاہر تعطل کا شکار ہے۔ ایوان نمائندگان میں نئی رپبلکن قیادت کا کہنا ہے کہ ’کافی ہو گیا۔‘

وہ یوکرین کو مزید ایک سینٹ نہیں دینا چاہتے اور بائیڈن صرف وائٹ ہاؤس میں موجود چھوٹی سی رقم کے ذریعے کیئف کی جنگی کوششوں کے لیے فنڈ فراہم نہیں کر سکتے۔ یوکرین کو رقم دینے کے لیے ایوان نمائندگان سے منظوری ضروری ہے۔

اس تمام صورت حال سے ڈونلڈ ٹرمپ خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں جس طرح کوئی استاد وائلن بجاتا ہے۔ یہ خلاف حقیقت بیانیوں کی مہم بنتی جا رہی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ ہونے کے ناطے خلاف حقیقت بیانیے متنازع اور مخصوص مقاصد پر مبنی ہیں۔

جو سننے کے لیے تیار ہے، ٹرمپ اور ان کی ٹیم ہر اس شخص کو یہ بتانے میں مصروف ہے کہ وہ ابراہام معاہدے کے تحت اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کے درمیان امن معاہدوں پر دستخط کرنے والے صدر تھے۔ لیکن بائیڈن کے انچارج ہونے کی وجہ سے جنگ شروع رہی ہے۔ جب وہ (ٹرمپ) صدر تھے تو ان کے دوست ولادی میر پوتن کبھی یوکرین پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرتے۔ وہ بہت خوفزدہ ہو جاتے لیکن وائٹ ہاؤس میں ’سلیپی جو‘ کی موجودگی میں کیا ہونا تھا؟

اس کے لیے کسی معقول جواز کی ضرورت نہیں لیکن ٹرمپ کے نزدیک یہ صورت حال ان کے لیے اچھی طرح سے کام کر رہی ہے یعنی جب میں صدر تھا تو میں پوتن کے ساتھ تعلقات استوار کر رہا تھا، کم جونگ ان کے ساتھ پینگیں بڑھا رہا تھا۔ صدر شی کے ساتھ آمنے سامنے بات کر رہا تھا جب میں صدر تھا تو دنیا زیادہ پرامن جگہ تھی۔

تو شاید یہ معیشت نہیں ہے احمق۔ 1992 میں کارول کا تجزیہ درست تھا جب بل کلنٹن نے صنعتی سرگرمیوں میں پیچھے رہ جانے والی ریاستوں سے باہر نکل کر اپنی حمایت میں اضافے کی کوشش کی لیکن اس سے 12 سال قبل جب جارجیا کے مونگ پھلی کے سابق کاشت کار جمی کارٹر سابق ہالی وڈ اداکار اور کیلیفورنیا کے گورنر رونالڈ ریگن کے خلاف دوبارہ انتخاب لڑ رہے تھے تو صورت حال مختلف تھی اور یہ پرانی کہاوت کہ ’تاریخ اپنے آپ کو دہراتی نہیں بلکہ اس میں مماثلت ہوتی ہے‘ درست دکھائی دیتی ہے۔

اس کے بعد سوویت یونین نے ایک خودمختار ملک افغانستان پر حملہ کیا جسے اس کی نئی قیادت کے ساتھ خطرہ سمجھا جانے لگا۔ پھر 1979 میں انقلاب کے حامی طلبہ کی قید میں موجود امریکی یرغمالیوں کو رہا کروانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ اس انقلاب کے نتیجے میں آیت اللہ خمینی اقتدار میں آئے۔

ایک خودمختار ملک پر روسی حملہ اور مشرق وسطیٰ میں یرغمالیوں کا بحران۔ کیا ان میں سے کوئی جانا پہچانا لگ رہا ہے؟

کارٹر کو ریگن نے زبردست شکست سے دوچار کیا۔ اگر جو بائیڈن مسائل سے فعال طریقے سے نہیں نمٹ رہے تو شاید انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جون سوپل [@jonsopel] بی بی سی شمالی امریکہ کے سابق ایڈیٹر ہیں اور اب ’دی نیوز ایجنٹس‘ کے عنوان سے گلوبل کا پوڈ کاسٹ پیش کرتے ہیں، ان کا مندرجہ بالا کالم انڈیپنڈنٹ اردو کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں