ہاتھ باندھے عوام، 'ہتھ بندھی' پنجاب پولیس اور 'نیشنل سلیکشن پلان'

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

بات ایسی ہے کہ کہنے کا یارا نہیں والی صورتحال ہے مگر اس کا براہ راست سولہ دسمبر سے تعلق نہیں۔ پنجاب پولیس جسے ملک کے دوسرے تمام صوبوں کے پولیس کے مقابلے میں زیادہ 'ہتھ چھٹ' مانا جاتا ہے۔ اس کے اہلکاروں کے 'ہاتھ بندھے' ہوئے دیکھ کر زیادہ شرم آئی ہے۔ بلاشبہ 'ہتھ چھٹ' ہونا بھی کوئی قابل فخر بات نہیں کہ اس وجہ سے بے چارے عوام کی کبھی عزت، کبھی جان اور کبھی مال 'دست درازی پولیس' کی زد میں آتا ہے. لیکن جو تصویر 16 دسمبر کے چند دن بعد سامنے آئی ہے وہ پہلے سے بھی زیادہ شرمناک، المناک اور خوفناک مستقبل کی علامت ہے۔

یہ تصویر ریٹرننگ افسروں کے ذریعے 'الیکشن چرانے' کے مبینہ ماحول کے ایک پہلو کی عکاسی کرتی ہے اور سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کی اہلیہ کے کاغذات نامزدگی ان کے ہاتھوں سے چھیننے کی ایک سادہ وردی والے کے ہاتھوں کاروائی کے موقع کی۔ جبکہ دیگر سادہ وردی پوش ایک منظم فورس بن کر اپنے ہاتھ اپنی ہی پیٹھ پر اس طرح باندھے کھڑے رہے جیسے انہیں اس کا نہ صرف یہ کہ باقاعدہ حکم دیا گیا ہو بلکہ تربیت اور مشق کے مراحل سے بھی گزارا گیا تھا۔ کہ ہلنا نہیں اور غصہ یا غیرت نام کی کوئی چیز نہیں کھانا۔

پولیس کا ایک نہتی خاتون پر اس طرح جھپٹنے والے ایک اوباش اور بدمعاش شخص کو اس طرح بندھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ کھڑے تکتے رہنا پنجاب کے انتظامی طریق و اسلوب اور 'پولیس کاری' کی گھناؤنی تصویر پیش کرتا ہے۔ ممکن ہے یہ اوباش جیسا کہ کہا جا رہا ہے ایک مبینہ پولیس اہلکار ہی ہو۔ اسی لیے اپنے ساتھی کے لیے نرمی اور خاموشی کا یہ انداز اختیار کیا گیا ہو۔

لگتا یہی ہے کہ اس جگہ کو کسی ہوشیار افسر نے نے باقاعدہ منصوبے کے تحت ہی نہیں ایک نقشے کے مطابق ان مبینہ اہلکاروں کو تعینات کرتے ہوئے ان کی پوزیشنوں کو بھی 'مارک' کیا تھا کہ اتنے اتنے فاصلے پر رہیں۔ نیز ان اطراف میں کھڑے رہیں گے تاکہ اس دوران اس اوباش شخص مبینہ طور پر پولیس کے سفید پوش اہلکار کی مکروہ کارروائی کو روکنے والا کوئی انسان آگے نہ بڑھ سکے اور اگر کوئی انسان آگے بڑھے تو پنجاب پولیس کے اہلکار چاروں اطراف سے اسے امن دشمن سمجھتے ہوئے اور کار سرکار میں مداخلت کا مرتکب جانتے ہوئے اس پر جھپٹیں اور اسے قابو کرلیں۔

یہ مشکل ہو رہا ہے کہ اس واقعے پر ہتھ بندھی پنجاب پولیس' کا نوحہ لکھوں، خواتین کے احترام اور توقیر پر اٹھنے والے ہاتھوں کے ٹوٹنے کی بد دعا کروں، مونس الٰہی سے ہمدردی کا اظہار کروں کہ ان کی والدہ محترمہ کے ساتھ ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا یا پنجاب کے ہر اس شہری اور نوجوان کے ساتھ جن کی مائیں ابھی زندہ ہیں اور انہیں پنجاب پولیس کے اہلکاروں کے پاس سے کسی نہ کسی موقع پر گزرنا پڑتا ہے۔

رہی بات چوہدری پرویز الٰہی اور شجاعت حسین کی روایتی وضع داری اور رواداری کی تو راقم کبھی بھی اس کا زیادہ قائل نہیں رہا۔ یہ سب سلطانی و درویشی ملغوبہ اور ڈھکوسلہ ہی لگتا رہا۔ اچھی طرح یاد ہے جب چوہدری پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی میں 1990 کی دہائی میں اپوزیشن کے کمرے میں براجمان ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران اس خاکسار کو چوہدری ظہور الٰہی مرحوم کے قتل کے سلسلے میں ایک سوال کا جواب دینے سے معذرت نہیں کی تھی بلکہ "فرمایا تھا" یہ سوال نہ کریں! مگر خاکسار نے عرض کیا تھا، سوال تو موجود رہے گا آپ البتہ جواب سے معذرت کر سکتے ہیں. وہ اس پر بد مزہ ہوئے تھے کہ ایک قلم کار ایک وضع دار کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہا ہے اور خاندان کے مقتول سربراہ کے کیس کے بارے میں سوال پوچھ رہا ہے!

ہو سکتا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی اور شجاعت حسین تو اپنی رواداری اور وضع داری کا کمبل اس تازہ واقعے پر بھی ڈال دیں۔ مگر مونس الٰہی کی تو آخر ماں ہے۔ ماں تو سب کی سانجھی ہوتی ہے۔ اس لیے یہ سطور رقم ہیں۔ میرے خیال میں مائیں تو وردی اور بغیر وردی والے کے اصول یا مرتبے سے ماورا ہوتی ہیں، بالاتر ہوتی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر پنجاب میں پولیس کو ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں پر ہاتھ اٹھانے اور ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو بچانے کے لیے ہاتھ نہ ہلانے کا حکم کون دے رہا ہے؟ کون ہے اتنا بے رحم، کون ہے جسے ماؤں کی پرواہ ہے نہ مادر وطن پر بٹہ لگنے کی پرواہ.؟

لیکن پھر یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں اس ہاتھ باندھے عوام کے بے سمت ہجوم میں 'ہتھ بندھی پنجاب پولیس' کو ناراض کرنے والی کوئی جسارت کروں یا نہ کروں۔ کیا اس طرح الیکشن ہوں گے۔ اس طرح صرف 'نیشنل سلیکشن پلان' ہی آگے بڑھ سکے گا۔ ماہ دسمبر میں ایسا سوچنے سے ویسے ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ یہ تو عدم استحکام کا راستہ اور روایت ہے۔ یہ کیوں کیا جا رہا ہے۔

ایک اور واقعہ بھی اسی ملکی تاریخ کا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی آمرانہ جمہوریت کا دور تھا۔ اس وقت کے جابر حاکم نے اپنے باوردی اور بے وردی غنڈوں کی مدد سے جماعت اسلامی کے میاں طفیل محمد مرحوم کو جیل میں بے توقیر کرایا تو آبروئے صحافت آغا شورش کاشمیری اچھرہ میں 5-اے ذیلدار پارک میں دروازے سے ہی با آواز بلند پکارتے جا رہے تھے، 'کہاں ہے مخنثوں کی جماعت کا امیر … کہا‍ں ہے'…. ؟ کیا کسی کی آج مجال ہے کہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے گھر میں بھی کوئی اسی طرح آواز بلند کر کے گھس جائے اور پوچھتا رہے کہاں ہے مخنثوں کی سیاست کا اسیر۔ کیا کوئی ہے جو پولیس کے سربراہ کو پوچھ سکے۔ کوئی ہے جو محسن نقوی سے جواب مانگے؟ کوئی ہے جو مقتدروں سے سوال کر سکے۔ مشکل ہے بہت مشکل۔ تقریباً ناممکن۔ الامان الحفیظ۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں