مستقبل کا بھارت : 'گاؤ ماتا' کو یہودی 'ہولوکاسٹ ' کے درجے پر لانے کی تیاری!

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

بھارتیہ جنتا پارٹی نے نریندر مودی کے زیر قیادت بھارت کو تبدیل کرنے کا سفر تیز تر انداز میں جاری ہے۔ مودی کے زیر قیادت بیرونی دنیا میں بھارتی معیشت کے کچھ نئے پہلو وا کیے گئے ہیں۔ یہ بھی ہندوتوا کے علمبردار مودی ہی کے بدولت ہوا ہے کہ دنیا میں بھارتی' را ' کی اس شناخت سے پہلے صرف پاکستان شناسا تھا مگر اب پاکستان سے ہٹ کر کینیڈا، قطر اور امریکہ کو بھی براہ راست اندازہ ہو گیا ہے اور 'فائیو آئیز' میں شامل ملکوں کے علاوہ دوسرے مغربی ملکوں کو بھی سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ جنوبی ایشیا میں صدیوں سے ' بغل میں چھری ۔۔۔۔ والا محاورہ کیوں زبان زد عام رہا ہے۔

لیکن اصل تبدیلی کی مودی مہم میں تیزی بھارت کے اندرونی محاذ پر ہے۔ سافٹ وئیر کی دنیا میں نام پیدا کرنے والے بھارت کے گاندھی اور نہرو کے دور کے بھارت کا سافٹ ویئر بھی نشانے پر ہے۔ بھارتی سافٹ ویئر تبدیلی کی 'پراسیسنگ' کے کئی پہلو ہیں۔ بھارت کا ذات پات اور چھوت چھات کا نظام تو شروع سے ہی بہ حیثیت مجموعی بروئے کار رہا ہے۔

اب اس سے بھی اگلے مرحلے کا غیر علانیہ کام شروع ہو چکا ہے۔ اس کے تحت ہر بھارتی کو بالعموم اور بھارتی اقلیتوں بشمول دلتوں کو بالخصوص 'گاؤ ماتا' سے بھی نیچے کے درجے کی مخلوق اب ریاستی طور پر منوانا ہو گا۔ ظاہر ہے جس گائے کا پیشاب ہندو صرف پاکیزہ اور پوترہی نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک پوتر اور صحت افزاء مشروب سمجھتے ہوں، اس کو ان غیر ہندوؤں پر اولیت ہی ملے گی جنہیں چھونے یا جن کے چھو لینے سے ہندو خود کو 'بھرشٹ' یعنی ناپاک ہو جانا تصور کرتے ہوں۔ 'ہندوتوا' میں دلت اچھوت ہیں جبکہ گائے متبرک اور مقدس ہے۔ حتیٰ کہ گائے کا پیشاب اور گوبر بھی۔

بھارت میں سماجی سطح یہ چیز پہلے سے بھی رائج ہے۔ نصف بھارتی ریاستوں میں قانون سازی بھی ہو چکی ہے۔ البتہ بعض ریاستوں میں اس بارے میں ابھی قانون سازی ہونا باقی ہے۔ اسی طرح بھارت میں مرکزی سطح پر بھی گائے کے لیے خصوصی 'سٹیٹس' کی ضرورت اجاگر کی جا رہی ہے۔

نریندر مودی کی اگلے اپریل اور مئی میں متوقع انتخابات میں اگر ایک بار پھر کامیاب ہو گئے تو گائے اور اس کے مقام و مرتبے کے تحفظ کو اسی طرح تقدس اور حرمت ملنے کا امکان ہے جس طرح یہودیوں کے حوالے سے 'ہولو کاسٹ' کا ہے۔ اب اس ہندو کاسٹ سسٹم سے بھی زیادہ معتبری 'گاؤ ماتا' کے درجے پر پہلے سے فائز گائے پہلے اسرائیل کا 'ہولو کاسٹ' سسٹم تھا اور بھارت میں 'ہندو کاسٹ' سسٹم تھا۔ اب وشنو دباد ایسے 'گاؤ رکھشک' مودی سرکار کے تعاون اور سرپرستی میں 'گاؤ ماتا' کو اس سے بھی اونچا مقام دلوانے کی تحریک چلا رہے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں جس طرح یہودیوں کے احترام میں کوئی 'ہولو کاسٹ' پر بات نہیں کر سکتا اور اسے چیلنج نہیں کر سکتا اسی طرح 'گاؤ کاسٹ' پر بھی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے اور اسی طرح گائے کو ذبح کرنا تو درکنار اس کے لیے مقام ومرتبے پر سوال بھی نہ اٹھائے۔ اس 'گاؤ ماتا' کے تحفظ کے لیے قصبات اور شہری سطح پر گروہ منظم کرچکے ہیں ۔ ایسے ہی ایک گروہ کے سرغنہ کا نام 'وشنو دباد' ہے۔

وشنو دباد اپنے گروہ کے ارکان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ میرے کارکنوں کے پاس لاٹھیوں، چاقوؤں، درانتیوں، اور پتھروں جیسے ہتھیار ہوتے ہیں۔ یہ کارکن اس کے علاوہ سڑکوں پر کیل بچھا کران گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے خیال میں گائے سے لدی ہوتی ہے اور گائے کی سمگلنگ میں بروئے کار ہوتی ہے۔

وشنو دباد ایک غریب کا بیٹا تھا اور خود بھی غربت زدہ تھا مگر 2014 میں اس کو' گاؤ رکھشک' بننے کا اچھوتا خیال آیا اور اب وہ امیر کبیر لوگوں میں سے ایک ہے۔ سیاسی اور سماجی حیثیت بھی بلند ہوچکی ہے ۔ کئی دوسرے کاروباروں کے علاوہ شراب خانہ بھی چلتا ہے ۔ اس کے خلاف ایک قتل کا مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے مگر امکان ہے کہ اس میں بھی چھوٹ جائے گا۔

اگرچہ اس کے 'گاؤ رکھشک' کے دھندے کو تحفظ اور تقویت مودی سرکار اور 'بی جے پی' کی وجہ سی ملی ہے ۔ اور اس نے جو ترقی کی ہے اسی مودی دور میں کی ہے مگر وہ 'بی جے پی' سے مزید توقعات رکھتا ہے۔ اس کی سیاسی و سماجی حیثیت اوپر ہوجانے کے باعث اب اس کے خلاف مقدمات کا درج رہنا یا چلتے رہنا بھی آسان نہیں رہا ہے ۔ اسی وجہ سے اس کے 'گاؤ رکھشک' کے علاوہ دوسرے ایسے گروہوں کے ارکان خود جارحانہ انداز کے حامل ہیں ۔ پولیس کے ایک اہلکار نے'گاؤ ماتا' کے ٹھکیدار بنے ان مذہبی ہندو کارکنوں کے بارے میں تحقیقات میں دیکھا ہے کہ یہ ایسے گائے کا گوشت کھانے والوں کو قتل کرتے ہیں جیسے ان کے پاس قتل کا کوئی لائسنس ہو ۔

'گاؤ ماتا' کے محافظوں کا دھندا نریندر مودی کے دورمیں خوب آگے بڑھا ہے۔ اب تک اس میں کم ازکم تین لاکھ 'بی جے پی' کے کارکن 'گاؤ ماتا' کے محافظ بن چکے ہیں اور اس کے بعد 'گاؤ ماتا' کے ان کے مالی حالات بدل چکے ہیں۔ سیاسی اور سماجی حوالے سے ان کے اثرات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ وہ بلدیاتی سطح سے اوپر تک انتخابات میں جیت کر اوپر آنے لگے ہیں۔

توقع کی جار رہی ہے کہ اگلے عام انتخابات میں یہ مزید مؤثر بھی ہوں گے اور منتخب ہوکر ایوانوں میں بھی پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ ان کی سیاسی طاقت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک فرد 'گاؤ رکھشک' بنا اور پھر اپنے علاقے میں معززین اور سیاسی معتبرین میں شامل ہونے لگا۔ کونسلر، گاؤں اور محلے کا سربراہ بننا تو عام سی بات ہونے لگی ہے ۔ کئی جگہوں پر سیاسی شخصیات کو اب ان 'گاؤ رکھشکوں' سے مقامی سطح پر خوف آنے لگا ہے کہ اگر سیاسی اعتبار سے یہ ان کے مخالفین کے ساتھ چل پڑے تو انتخابی کامیابی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ایسے ہی ایک گروہ سے جڑے ایک کارکن کا کہنا ہے ہے کہ اگر پولیس 'گاؤ ماتا' کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری اچھی طرح ادا کرنے لگے تو ہمیں یہ سب کچھ نہ کرنا پڑے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بھارت کی 36 ریاستوں میں سے نصف ریاستوں میں جزوی یا کلی طور پر گائے کے ذبح کرنے پر پابندی ہے ۔ جبکہ آنے والے دنوں میں یہ پابندی مزید ریاستوں میں بھی لگ سکتی ہے۔ بشرطیکہ مودی سرکار ایک بار پھر بننے کا امکان پیدا ہوجائے تو کئی ریاستوں میں ان گائے کے محافظین کو پولیس کے ساتھ مل کر کاروائیوں کا حصہ لینے کی اجازت دے۔

گویا جس طرح اسرائیل کے 'ہولو کاسٹ' کے درجے پر بھارتی گایوں کو لانے کی یہ کوشش اسی طرح ان 'گاؤ رکھشکوں' مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے یہودی آباد کاروں کی طرح یہ بھی مسلمانوں کے خلاف با ضابطہ پر تشدد کاروائیوں کے لیے پولیس کی کھلی اور تنگی حمایت پا چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اگر 'بی جے پی' اور نریندر مودی نے جیتنا ہے تو اسے ان 'گاؤ رکھشکوں' کو پہلے سے بھی زیادہ اہمیت دینا پڑے گی کہ ان کے اثرات اب گلی محلے میں بھی سیاسی طور پر جڑ پکڑ چکے ہیں۔

یہ بھی امکان موجود ہے کہ مودی جو بھارت کے رنگ میں رنگی ریاست کے طور پر آگے بڑھنے کی کوشش میں ہیں۔ عوامی سطح پر مسلمان اقلیتوں کو گائے کو ذبیحہ سے روکنے کے لیے ایک جانب ان 'گاؤ رکھشکوں' کو مزید کھلی چھٹی دیدیں اور دوسری جانب ان کے کہنے میں کہ آکر مزید ایسی قانون سازیاں کریں کہ 'گاؤ ماتا' کا بھارت میں درجہ 'ہولو کاسٹ' کا بن جائے اور اس کے محافظین کو اسرائیلی یہودی آبادکاروں کی طرح عسکری کردار سے تسلیم کرا لیں ۔

'ہیومن رائٹس واچ' کے مطابق 2015ء سے 2018ء تک 44 افراد کے گائے کے ان محافظوں نے قتل کیا ہے۔ ان میں سے 36 مسلمان ہلاک کئے گئے تھے۔ ان مقتولوں پر الزام یہ تھا کہ وہ گائے ذبح کرنے کا حصہ بنے یا انہوں نے گائے کا گوشت کھانے کی کوشش کی یا گائے کے بارے میں کوئی بات ہندوؤں کی اس 'ہولو کاسٹ' کی توہین کے حوالے سے کی تھی۔ 2014ء سے 2022ء کے دوران 'گاؤ ماتا' کے محافظین نے انسانوں پر 206 پرتشدد حملے کیے ہیں۔

مبصرین کو اندازہ ہے کہ بھارت کے اگلے عام انتخابات میں 'گاؤ ماتا' کا تحفظ ایک اہم ایشو ہو سکتا ہے۔ اور اس کے حامیوں کی جیت کی صورت بھارت میں گائے کا درجہ با ضابطہ طور پر بھارت کے دلتوں، مسلمانوں اور مسیحیوں کی مجموعی آبدی 70 کروڑ پر با ضابطہ اور قانونی فوقیت کے مطالبات ابھر سکتے ہیں۔ یہ ہوگا مودی کا اصل بھارت اور جس میں گائے کا پیشاب مقدس اور اقلیتوں کا خون آسان تر بنا دیا جائے گا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size