'نیشنل سلیکشن پلان' چند تجاویز!

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

پچھلے پچہتر برسوں کے دوران یہ بات بار بار ثابت ہو چکی ہے کہ الیکشن کرانے کا تجربہ کبھی بھی اچھا نہیں رہا ہے۔ جو جیت گیا یا جتوا دیا گیا، اس سے سب ناراض ہو گئے اور جو ہار گیا یا ہروا دیا گیا وہ سب سے ناراض ہو گیا۔

بار بار کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے پتھر کے صنم بھگوان بننے کی ضد پر آ جاتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد بھی اور اقتدار سے نکالے جانے کے بعد بھی اکثر بے قابو ہو جاتے ہیں اور ایک ایسی دھما چوکڑی شروع کرتے ہیں کہ ٹھیک ٹھاک خوشحال اور ترقی کرتے چلے جانے والے ملک کا پہیہ رک جاتا ہے، امن بھی بالکل برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ اور تو اور ملک کی سلامتی تک داؤ پر لگا دی جاتی ہے۔ معتبر اداروں کی عزت خاک میں ملانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ایک بار تو یہ بھی ہو چکا کہ انہی انتخابات کے ذریعے ملک دو لخت ہو چکا۔ سیدھی سی بات ہے نہ انتخابات ہوتے نہ ہی اقتدار کے لیے اکثریت والوں کا مطالبہ اس قدر زورداری سے سامنے آتا اور نہ ہی ملک ٹوٹتا۔ یہ سب اسی نامراد الیکشن کے کھیل کا ہی کیا دھرا ہے۔ اس کے باوجود ملک میں اب تک اچھے خاصے الیکشن کرائے اور رسک لیے جا چکے ہے۔ اس کوئے ملامت کو جانے والے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر کئی بار تو پانچ سال کی مدت سے بھی پہلے انتخابات کرا کے مزہ چکھا اور چکھایا جا چکا ہے۔

یاد آیا ملک کے نامور اور صاحب طرز کالم نگار عرفان صدیقی نے 25 اگست 2010 کے روزنامہ جنگ میں لکھے گئے اپنے کالم 'نقش خیال' میں 'کوئے ملامت' کو بار بار جانے کے لیے بے تاب رہنے والوں کا ذکر زیادہ کھلے پیرائے میں کیا تھا اور خوب کیا تھا۔ اتفاق سے 23 اکتوبر سے اس کوئے ملامت کے لیے باضابطہ قطار میں بڑے بڑے شیر بھی لگے ہوئے ہیں۔ گویا 12 اکتوبر اور 23 اکتوبر کے درمیان بس نو دو گیارہ دنوں کا ہی فاصلہ رہا۔ اپنے اسی کالم میں جناب صدیقی نے منشور 'ونشور' کو ہی نہیں نام نہاد جموری سیاست اور جمہوری جماعتوں کو بھی اڑا کے رکھ دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ۔۔۔۔ 'ہماری سیاست بھی بڑی حد تک عشق کے اجزائے ترکیبی سے عبارت ہے۔ منشور، دستور، پروگرام، اصول، نظریات، کسی چیز کی کچھ اہمیت نہیں۔ چند شخصیات ہیں اور اُن کے عشق میں مبتلا افراد کے ہجوم ۔۔۔'

خیر یہ تو محض جملہ معترضہ تھا۔ چلتے چلتے ذکر ہو گیا۔ اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔

اس کا ایک اور اکسیر علاج تو یہی ہے کہ اس'پکھنڈ' سے مستقل نجات کا راستہ لیا جائے اور ملک میں بہت بے داغ طریقے سے چلنے والے 'سیلکشن بورڈز' اور 'پرموشن بورڈز' کے سے انداز میں کیے جائیں یا سب فیصلے انہی 'بورڈز' کے تجربے کے حوالے کر دیے جائیں۔ جو سال میں ایک آدھ بار اپنے اپنے دائرہ کار کے اندر بہترین انداز میں 'ٹرانسفر پوسٹنگ' اور 'ہائرنگ فائرنگ' سمیت ترقیوں کے فیصلے کرتے ہیں اور کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا ہے اور گاہے گاہے 'ریکروٹمنٹس' کے لیے بلدیاتی انتخابات کا اہتمام کر لینا چاہیے جیسا کہ ماضی میں بھی ہوا ہے۔

کام کا بوجھ بڑھ جانے کا خدشہ ہو تو ایک متبادل تجویز بھی پیش خدمت ہے۔ وہ یہ کہ جو لوگ مذکورہ بالا 'بورڈز' سے ترقی یا 'پرموشن' پا کر اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہوں۔ انہیں ہی حکومت کے ان اعلیٰ ترین عہدوں کا باضابطہ طور پر اضافی چارج دیدیا جائے۔ بلاشبہ یہ حضرات پہلے بھی اپنی بساط اور استطاعت کے مطابق یہ کام کرتے ہیں، مگر خود کو پوری طرح دخیل کر نہیں کر پاتے۔ دوسرا یہ تھوڑا قانون اور حلف کے کھاتے کی پیچیدگیوں کا بھی باعث بن سکتا ہے۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ جب جب کوئی اعلیٰ ترقی اور پروموشن کے نتیجے میں چھڑی سنبھالے 'ایک جدید اور 'آٹو میٹڈ' طریقے سے چیزیں اس کی طرف منتقل کر دی جائیں۔

نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری ۔۔۔ نہ شور نہ شرابا، نہ جلوس نہ ہنگامہ۔ پھر 'راوی' کیا جہلم، چناب اور سندھ سب چین ہی چین لکھنے پر مجبور ہوں گے۔

اگر یہ تجویز بھی فی الحال قابل قبول نہ لگے تو اسے کچھ مہینوں کے لیے یا عرصے کے لیے مؤخر کر لیا جائے۔ ایک متبادل اور فوری ضرورت کے تحت تجویز حاضر ہے۔۔

ٓآٹھ فروری 2024 سے پہلے اور آٹھ جنوری 2024 کے بعد کسی بھی وقت تمام ملکی وحکومتی اداروں کے سربراہان کو وسیع تر قومی مفاد کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے یا الگ الگ بلا کر بتا دیا جائے کہ آٹھ فروری کو ہی نہیں اس سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ملک میں مفاہمت و ترقی کا ماحول چاہیے۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان، پنجاب پولیس، بیوروکریسی کے انتظامی ذمہ داران، نیب اور پیمرا کی کارکردگی کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے اور ان کی تعریف و حوصلہ افزائی بھی کی جا سکتی ہے۔

عدالتی شعبے کا نام لینے سے گریز اس لیے ہے کہ اس پر مزید بوجھ ڈالنے سے معاملہ خراب بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے عدالتوں کو اپنے انداز سے ہی اپنا کام کرنے دیں۔ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ عدالتوں نے ہمیشہ اور ہر دور میں اپنے کردار کو خوب پہچانا اور نبھایا ہے۔ بعض اوقات تو اپنی حد سے بڑھ کر بھی کام کرتی ہی ہیں۔ دن اور رات کا فرق مٹا کر کام کرتی ہیں۔ راتوں کو بھی کھل جاتی ہیں اور دن دیہاڑے بھی کیس بند ہو جاتے ہیں۔ کاش آج ایک بار پھر جسٹس منیر اپنے کامل وجود کے ساتھ موجود ہوتے تو من تو شدم تو من شدی والی فضا ہوتی۔ اگر وہ نظریہ ضرورت کے تحت ہندو مائیتھالوجی کو قبول کر لیتے تو بہت ممکن ہے کسی نہ کسی طرح نظریہ ضرورت کے لیے سازگاری پا کر آ موجود ہونے کی خواہش کو مرنے نہ دیتے۔ پھر جدھر دیکھتے ادھر 'میں ہی میں' اور ادھر 'تو ہی تو' کا منظر ہوتا۔

ہاں تو بات سارے سرکاری اداروں کو بلانے یا الگ الگ طلب کرنے کی ہو رہی تھی۔ ہر ایک کو بلا کر اپنے اپنے محاذ پر 'ٹاسک' سونپ دیے جائیں۔ ان سب کی صلاحیتیں غیر معمولی ہیں۔ ماضی میں ان کا کام اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر تک بہترین رہا ہے۔ پٹواری، آر اوز، پولیس کے کانسٹیبل سے آئی جی تک، اے سی اور ڈی سی ، سیکرٹری اور نگران سب بہترین مال ہے۔ ان کی نگرانی کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ یہ بعض سیاستدانوں کی طرح دھوکہ منڈی کا مال نہیں۔ ان بدبختوں نے تو پاک وطن کو ہی دھوکہ منڈی بنا دیا۔ کبھی ایک کو دھوکہ کبھی دوسرے کو دھوکہ، کبھی عوام کو دھوکہ کبھی خواص کو دھوکہ۔ یعنی دھوکہ ہی دھوکہ۔

رہی میڈیا کی بات تو پہلے ہی 'تک سیدھا' ہوچکا ہے۔ اس کے لیے ہمیشہ گاجر اور چھڑی دونوں کار آمد رہی ہیں۔ البتہ یہ دیکھنا ضروری ہو گا کہ حالات گاجر کھلانے کے متقاضی ہیں یا چھڑی چلانے کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان شاء اللہ رہی سہی کسر پیمرا پوری کر دے گا۔

بس ایک مسئلہ جو پیمرا سے بھی سنبھالا نہیں جا سکا وہ رائے عامہ کے جاری 'انتخابی جائزوں' کا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پیمرا نے اس سلسلے میں بھی اپنی سی پوری کوشش کی ہے۔ مگر ابھی نتائج اطمینان بخش نہیں ہیں۔ اس کے لیے دو تجاویز مفید ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ سروے کرنے والی جتنی ملکی اور بیرونی کمپنیاں اور ادارے ہیں ان کو قومی مفاد میں کالعدم قرار دیدیا جائے۔ کہ ان کی وجہ سے نقصان کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ دوسری اور متبادل تجویز یہ ہے کہ سروے کے لیے اصلاحات نافذ کر دی جائیں۔ قواعد و ضوابط بنا دیے جائیں اور 'سرویز' کو متعلقہ علاقے میں اتھارٹیز کی اجازت سے مشروط کر دیا جائے۔ اس فتنے کی روک تھام کے لیے 'سرویز' کو دفعہ 144 کی لپیٹ میں بھی لیا جا سکتا ہے۔

ضمنی تجاویز، ٹرانسپورٹرز، ٹینٹ سروس کے کاروباریوں، کیٹرنگ کرنے والوں، کے الیکٹرک سمیت دیگر الیکٹریسٹی کی تقسیم کار کمپنیوں، انتخابی پوسٹر چھاپنے والے پرنٹرز وغیرہ کو بھی کم از کم آٹھ فروری تک کسی ضابطے قاعدے میں لانے کا اقدام ضروری ہے۔ تاکہ کسی بھی نقصان یا 'رسک' کا اندیشہ نہ رہے۔ اگر یہ بھی مشکل ہو یا پھیلاؤ کا کام لگے تو قبلہ مولانا فضل الرحمان کی خدمات اس کھاتے میں بھی بہترین رہیں گی۔ وہ ماہ فروری کی سردی، امن وامان کی صورتحال اور 'لیول پلیینگ فیلڈ' میں سے کسی بھی'پچ' پر خوب کھیل سکتے ہیں۔ وہ 73 کے آئین کے تناظر میں الیکشن کمیشن کو سلیکشن کمیشن اور قومی سلیکشن پلان میں تبدیل کرنے کے لیے بھی انتہائی کار آمد ہیں۔ ماشاءاللہ ۔۔۔ چشم بد دور!

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size