غزہ کی چھ سالہ ہند رجب کی موت ہم سب کے لیے شرمناک

ہم امید کرتے ہیں کہ کسی اور بچے کو زندہ رہنے کے لیے اپنے چچا، خالہ اور تین کزنوں کی لاشوں کے نیچے کبھی نہیں چھپنا پڑے گا۔

وکٹوریا رچرڈز
وکٹوریا رچرڈز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اگر کسی جنگ کی ہولناکی کی کوئی علامت ہوتی ہے تو غزہ پر جنگ میں اسے ننھی ہند رجب کی موت کو ہونا چاہیے۔

چھ سالہ بچی اس وقت غزہ شہر میں اسرائیل کی گولہ باری کا شکار بنی، جب وہ اپنے قریبی رشتے داروں کی لاشوں کے درمیان ایک کار میں پھنسی ہوئی تھی۔

ہند رجب کو اس ناقابل تصور صورت حال سے بچانے کی اجازت حاصل کرنے والی ایک ایمبولینس پر بھی فائرنگ کی گئی جس سے دو پیرامیڈیکس اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (پی آر سی ایس) نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسرائیل نے ہند، ان کے خاندان یا پیرامیڈیکس کی موت کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ اس کے انکاری (اسرائیلی) یہ دلیل دیں گے کہ ہمیں ممکنہ طور پر قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیوں کہ ہم نہیں جانتے کہ اصل میں کیا ہوا ہے۔

لیکن سب سے آسان وضاحت ہی صحیح ہے اور وہ یہ ہے کہ حقائق خود بولتے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ اسے کس طرح دیکھتے ہیں یعنی ایک چھوٹی بچی، اکیلی اور خوفزدہ، ناقابل تصور حالات میں مر گئی۔ اس کی موت ہم سب کے لیے شرمناک ہے۔

یہ ان مجرموں کے لیے بھی شرمناک ہے جنہوں نے 29 جنوری کو ٹرگر دبایا تھا، جس سے ہند رجب کے خاندان کی گاڑی گولیوں سے چھلنی ہو گئی۔ یہ اقتدار میں رہنے والے عالمی رہنماؤں کے لیے بھی شرمناک ہے۔ وہ رہنما جنہوں نے دور بیٹھے اپنے محفوظ اور لکڑی کے پینل والے دفاتر میں عالیشان کرسیوں پر بیٹھ کر ایسے خوفناک فیصلے کیے (اور اب بھی کر رہے ہیں)۔

یہ ان لوگوں کے لیے بھی شرمناک ہے جنہوں نے اس جنگ کو شروع کیا اور جنہوں نے اسے طول دینے کی کوشش کی۔

یہ ہم سب کے لیے بھی شرمناک ہے جو یہ سب محض دور سے دیکھ رہے ہیں۔ ہماری انسانی جبلت اور معصوم بچوں کی مدد کرنے کی خواہش عالمگیر ہونی چاہیے۔ ہماری انسانیت کو سرحدوں کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔

یہ ان لوگوں کے لیے بھی شرمناک ہے جو الزام کو متوازن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ وہ ترازو کے پلڑوں پر ریت منتقل کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’ہاں یہ ٹھیک ہے۔ وہ (ہند) 100 دنوں سے جاری جارحیت میں ان 10 ہزار دیگر فلسطینی بچوں کے ساتھ مر گئی لیکن یہ جنگ ہے۔ آپ جنگ میں اور کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟‘

میں آپ کو بتاتی ہوں کہ ہم کیا توقع کرتے ہیں۔ یہ کہ کسی بچے کو کبھی قتل نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ کہ کسی بھی بچے کے آخری لمحات کبھی بھی کسی ڈراؤنی فلم کی طرح نہیں چلنے چاہییں، جسے ہم دیکھنے کی ہمت بھی نہ کر پائیں۔ یہ کہ ہر جگہ بچوں کی زندگیوں کی یکساں قدر، مدد اور تحفظ کا ایک ہی معیار ہونا چاہیے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ کسی اور بچے کو زندہ رہنے کے لیے اپنے چچا، خالہ اور تین کزنوں کی لاشوں کے نیچے کبھی نہیں چھپنا پڑے گا۔

ہم توقع کرتے ہیں کہ کسی بچے کو ریسکیو کے لیے اس طرح کی بہادری کا مظاہرہ نہیں کرنا پڑے گا۔ ہند کے پاس مدد کے لیے کال کرنے کی سوچ اور ہمت تھی۔ وہ فلسطینی ریڈ کریسنٹ آپریٹرز سے تین گھنٹے تک التجا کرتی رہی کہ کوئی اسے بچا لے، اس سے پہلے کہ بھاری فائرنگ کی آوازوں کے درمیان کال منقطع ہو جائے۔

ہم توقع کرتے ہیں کہ کبھی بھی آڈیو فوٹیج کو سننے کی ضرورت نہیں پڑے گی جس میں ایک چھوٹی لڑکی کے خوفناک آخری الفاظ یہ ہوں، جس میں وہ کسی سے بھیک مانگ رہی ہو کہ ’آئیں اور مجھے لے جائیں، کیا آپ آکر مجھے لے جائیں گے؟ میں بہت ڈر گئی ہوں۔ پلیز آ جائیں، کسی کو کہیں کہ وہ آئے اور مجھے لے جائے۔‘

ہم توقع کرتے ہیں کہ جنگ میں بھی مدد کی پیشکش کرنے والوں، ایمبولینس، طبی عملے، ہسپتال کے عملے کو ایسا کرنے کے لیے محفوظ راستہ دیا جائے گا۔

ہم توقع کرتے ہیں کہ کسی بھی ماں کو وہ سب نہ جھیلنا پڑے، جو ہند رجب کی ماں کو کرنا پڑا ہے یعنی انتظار کہ کس کو ان کی بیٹی کے وحشیانہ قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور کتنی ماؤں کو اس درد سے گزرنا پڑے گا؟ جیسا کہ فوٹو گرافر وصام نصر نے بی بی سی کو بتایا: ’آپ مزید کتنے بچوں کو مارنا چاہتے ہیں؟‘

ہم توقع کرتے ہیں کہ کسی بھی بچے کو گولی مارنے کا جواز فراہم نہیں کیا جائے گا اور ہم اقتدار میں موجود رہنماؤں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اس قدر زیادہ اور اشتعال انگیز تعداد میں مسلسل جانی نقصان پر انسانی اور ہمدردی سے اس کا جواب دیں گے۔

ہند پہلی بچی نہیں ہے، جو ماری گئی ہے اور وہ آخری بھی نہیں۔ ہم نے 2015 میں اسی طرح کا ایک افسوسناک سانحہ دیکھا تھا جب شام سے تعلق رکھنے والے دو سالہ ایلان کردی کی لاش بہہ کر ترکی کے ایک ساحل پر آ گئی تھی۔

ان کا خاندان خانہ جنگی سے بچنے کے لیے یہ خوفناک سفر کر رہا تھا۔ اس کا اوندھے منہ ننھا اور بے جان جسم پناہ گزینوں کے بحران کی علامت بن گیا۔ اس کی موت نے ہمیں شرمندہ کیا، پھر، پناہ گزینوں کو اپنانے میں ہماری حکومت کی ہچکچاہٹ اور بے گھر ہونے والے بہت سے بچوں کی تکالیف کو کم نہ کرنے پر ایسا دوبارہ ہوا۔

ہم ہند کو واپس نہیں لا سکتے۔ ہم اس کی ماں کے درد کو یا ان دسیوں ہزار والدین کے درد کو کم نہیں کر سکتے جن کے بچے سات اکتوبر کے گھناؤنے حملوں کے بعد مارے گئے ہیں۔

لیکن ہم ہند کو اس نقصان کی علامت بنا سکتے ہیں۔ ہم اس کی موت کو اس خوفناک جنگ کی علامت بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم مطالبہ کر سکتے ہیں کہ اب یہ رفح میں دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا۔

ہم صرف یہ بتا سکتے ہیں کہ اس کی موت نے حکومت کو غزہ میں مکمل جنگ بندی کے مطالبے سے انکار کرنے پر کس طرح شرمندہ کیا ہے۔

ہم کیسے اس موڑ تک پہنچ گئے جہاں معصوم بچوں کے قتل کا مشکل سے ہی نوٹس لیا جاتا ہے اور جلد ہی فراموش کر دیا جاتا ہے؟

یہ ہم سب پر منحصر ہے کہ ہم ہند کی سفاکانہ اور بے مقصد موت کو ایک اور المیہ نہ بننے دیں، جو ہماری خاموشی سے غائب ہو سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لکھاری وکٹوریا رچرڈز انڈپینڈنٹ کے وائسز سیکشن کی ایڈیٹر ہیں۔ ان کا 👆 کالم ہم انڈیپنڈنٹ اردو کے شکریہ کے ساتھ شائع کر رہے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size