حافظ صاحب اور مولانا صاحب کے حلوے کا میٹھا میٹھا قصہ!

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

آج کے کالم میں دل چاہتا ہے کہ کچھ میٹھا ہو جائے۔! جی ہاں، مراد اسی مثبت مثبت کی ہے جس کا تقاضا بھی کیا جاتا ہے۔ اور اس پر انسان مجبور بھی ہو جاتا ہے۔ مگر تعریف کے اس کھاتے میں ایک حافظ صاحب اور ایک مولانا صاحب کا رہے گا۔

موضوع اگرچہ مٹھاس سے بھرا ہے مگر اس میں تھوڑا میٹھا اور ڈالنے کو دل کرنے لگا ہے۔ ایک حافظ صاحب کسی مرید نما شاگرد یا جونیئر نے پوچھا۔ حافظ جی حلوہ کھائیں گے! حافظ جی کا سیدھا اور بے ساختہ جواب تھا 'حلوہ نہیں کھانا تو اندھے کس لیے ہوئے ہیں۔'

حافظ بن جائے اور حلوے سے انکار کرے، آسان نہیں ہے۔ لیکن ایک حافظ جس کا نام نعیم الرحمان ہے، نے انکار کر کے بتا دیا ہے کہ وہ محض نام کا حافظ نہیں بلکہ ایک صاف ستھری سوچ اور کردار کا بھی مالک ہے۔ اس لیے اس نے صوبائی اسمبلی کی نشست سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔

حالانکہ بہت نیک اور تقوے کے انفرادی اور اجتماعی زعم میں مبتلا بڑے بڑے لوگ بول اٹھتے ہیں 'مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے۔ 'آج کل 'غیبی امداد ' کی اصطلاح بھی اسی لیے سامنے آئی ہے۔ مفت کے مال پر ہاتھ صاف کرنے کے لیے ' غیبی مدد ' اصطلا ح کارآمد ترین محسوس ہوتی ہے۔

بہرحال حافظ نعیم الرحمان نے ہی نہیں ان کی جماعت کے بعض دوسرے رہنماؤں نے بھی اپنے الیکشن کمیشن کی مہربانی سے جیتی ہوئی نشستیں واپس کر دی ہیں۔ کہ مفت کا مال چاہئے نہ خیرات کا اقتدار چاہئے۔ ان میں ایک ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی بھی ہیں۔ ملکی سیاست میں قائم کردہ یہ نئی مثال بہت شاندار ہے۔ ورنہ روایت تو یہی ہے کہ جیتنے والے ہمیشہ اس طرح کی باتوں سے بے نیاز ہوتا ہے کہ وہ کیسے جیتا یا کیوں جتوایا گیا۔ جیتنا تھا، جیت گیا ، خواہ غیبی مدد سے ہی جیتے۔

مرحوم ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی موجودہ جمہوریت کی بانیوں میں سے ہیں۔ مرحوم بھٹو نے 1977 کا الیکشن صرف 19 نشستوں پر بلا مقابلہ جیتنے کا بند بست کر کے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جیت پکی کی تھی اور اسمبلی میں اکثریت بنائی تھی۔ لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کی نشست پر انہیں خالد احمد کھرل مرحوم ایسے ڈپٹی کمشنر کی مدد اور فرمانبرداری سے بلا مقابلہ کامیابی مل گئی۔

پاکستان کی جمہوریت میں اس کے بانی مبانی نے ڈپٹی کمشنروں اور کمشنروں کو اس طرح کی ضرورتوں کے لیے پال پوس کر رکھا تھا۔ خالد کھرل نے بطور ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ یہ ذمہ داری 'خوب نبھائی' اور پھر ساری زندگی جئے بھٹو کے نعروں کے نام کر دی۔ بھلے وقت تھے، راولپنڈی کے کمشنر لیاقت علی چھٹہ کی طرح ضمیر جاگنے کا عارضہ لاحق نہیں ہوتا تھا۔ ورنہ ایک ہفتے دس دن بعد ہی خودکشی کا سوچنے لگتےاور استعفیٰ دے کر گھر چلے جاتے۔

ویسے بھی بھٹو مرحوم نے تو صرف 19 نشستوں کو بلا مقابلہ اپنے نام کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب کی بار تو قائد نواز شریف کی کوشش تھی کہ 'لیول پلینگ فیلڈ' کے نام پورا الیکشن شروع سے ہی ان کے نام ہو جائے۔ افسوس کے ایسا نہ ہو سکا۔ افسوس اس بات پر بھی کہ بھٹو صاحب کے 1977 میں دھاندلی زدہ الیکشن جیتنے پر مولانا مودودی مرحوم کے ایک جملے کا تبصرہ غالب رہا۔ ' بھٹوصاحب الیکشن تو جیت گئے، مگر عزت گنوا کر!'

یقینا اس دور میں عزت نام کی کوئی چیز ہوتی تھی۔ جس کے گم ہو جانے یا کھو جانت کا احساس ہو جاتا تھا۔ آج تو اس طرح کی کسی چیز کے کھونے کا خطرہ ہی نہیں رہا۔ 'نہ رہا کوئی بانس نہ بجے ہے بانسری۔'

خیر بات حافظ نعیم الرحمان کی زیادہ ہو گئی۔ اگرچہ اس میں اکیلے ان کا کردار نہیں رہا ان کی جماعت کا کردار ہی ایسا کچھ رہا ہے۔ اسی لیے تو آج تک ملک کی مقتدر ہستیوں، فیصلہ سازوں، میڈیا کے اینکر نما 'جوکروں' اور بھولے بھالے عوام کو ایک آپشن کے طور پر نظر نہیں آ سکی۔ وجہ صاف ہے کہ یہ آگے آئے گی تو نہ خود کھائے گی اور نہ کسی اور کو کھانے دے گی۔ ایسی جماعت الیکشن جیتے، آگے آئے، اللہ معافی۔

دوسری میٹھی میٹھی بات مولانا کی تعریف کی ہے۔ یہ مولانا فضل الرحمان ہیں جنہوں نے اپنے صوبے میں اہنے سمدھی کو گورنر بنوانے کے باوجود خود الیکشن جیتنے کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا کے بجائے صوبہ بلوچستان کو عزت بخشی۔ یقینا وجہ خدا خوفی اور تقوٰیٰ ہی بنا ہو گا کہ گورنر ہوتے ہوئے اپنی آبائی نشست پر جیتنا معیاری بات نہ تھی۔

کوئی سوال اٹھا دیتا کہ نشست کیسے جیتی۔ جیسے پچھلے دنوں کسی من چلے نے اتنی دولت کیسے آ گئی کا سوال کر دیا تھا تو یہ کیا جواب دیتے یہ بھی 'غیبی مدد' ہے۔ جب ہر طرف 'پی ٹی آئی' کا شور تھا تو پھر 'غیبی مدد' کے سوا تو راستہ ہی نہیں بچا تھا۔

مولانا فضل الرحمان کی الیکشن ہونے سے پہلے ہی ایسی نشانیاں نظر آنے لگی تھیں کہ ان کی تعریف کرنے کو دل چاہنے لگا تھا۔ انہوں نے بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آٹھ فروری کو سردی ہو گی۔ اس لیے الیکشن تھوڑا آگے پیچھے کرنے سے قیامت نہیں آجائے گی، ان کی موسم پر بھی نظر تھی اور آس پاس چلنے والی ہواؤں پر بھی نگاہ تھی۔ وہ اپنی سیاسی بصیرت سے دیکھ رہے تھے کہ آٹھ فروری کا دن سردی اور سرد مہری دونوں کو لے کر آئے گا۔

پھر جو ہوا، سو ہوا۔ مگر مولانا ہار گئے یا ہروا دیے گئے الیکشن کے بعد بھی ایسی پوزیشن تھی کہ جلال لکھنوی کا مصرع بے ساختہ زبان پر آ گیا۔

رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

مولانا فضل الرحمان نے ایسا موقف اختیار کیا 'پی ڈی ایم' کے سربراہ کے طور پر کس کس فوجی کمانڈر سے مل کر کیا کرتے رہے اور بعد ازاں کمانڈ کی تبدیلی کے بعد نگران سیٹ اپ میں بھی پورا حصہ لے لیا۔ مگر الیکشن کے ٹھیک اگلے ہفتے میں وہ ایک 'باغی' کے روپ میں آ دھمکے۔

وہ ان سیاستدانوں میں شاید سب سے پہلے ہیں جنہوں نے آٹھ فروری کے بعد بہت جلد سمجھ لیا کہ آج کل پاکستان میں بیانیہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف والا چل رہا ہے۔ یوں انہوں نے مخالفانہ بیانیہ رکھنے والی جماعت کے یہودی رشتوں کی پرواہ بھی نہ کرتے ہوئے فورا 'باغی 'ہونے اور 'باغیوں 'کے قریب کھڑے ہونے کی ٹھان لی۔

ماشاء اللّٰہ تازہ خبر آئی ہے کہ مولانا فضل الرحمان اب 'اینٹی اسٹیبلشمنٹ' ہیں۔ وہ 'کے پی کے' میں آٹھ فروری کو چلنے والی ٹھنڈی ٹھار اور تیز ہوا کی آنے والے دنوں میں گرمی برداشت کرنے سے پہلے ہی عمران خان کے فی الحال حامی ہو گئے ہیں۔ الیکشن بلوچستان سے جیت آئے ہیں تو کیا ہوا ،سیاست تو 'کے پی کے' میں ہی کرنی ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ کچھ دیر کے لیے تکیہ کر کے عمران خان کے حامی نوجوانوں کے لیے ہاں قبولیت پاتے۔

ان کی ذہانت کا یہ استعمال بھی خوب رہا کہ ان کے حامی نوجوان جو عمران خان کی نذر ہو گئے تھے۔ ان کی واپسی کے لیے مولانا فضل الرحمان نے انہیں برا بھلا کہنے کے بجائے عمران کی حمایت میں 'ٹرانزٹ' لے لیا ۔ 'ملا بھی رہے راضی ساقی بھی ناراض نہ ہو'۔

مولانا فضل الرحمان نے اگلا کمال یہ کیا کہ اپنی سیاسی حکمت عملی کی کسی خامی یا کمزوری کا تاثر ہی نہ پیدا ہونے دیا کہ 'پی ڈی ایم' کی سربراہی کے دوران اور وہ غلط رخ پر کھڑے ہو گئے تھے۔ انہوں نے فٹا فٹ 'یو ٹرن' لے کر پارٹی کے اندر اپنے بارے میں سوالات اٹھنے کا امکان کمزور کر دیا۔

ایک چھوٹی سی بھول کے ذریعے جنرل فیض حمید کا نام لے کر اسی عہدے پر براجمان کسی اور کے نام لینے سے بھی صاف بچ گئے۔ گویا ایک کو پہلے بدنام کر لیا، پھر غلطی مان لی اور دوسرے کو باور کرا دیا کہ 'مولانا آ رہا ہے۔' لیکن صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے نہیں والی درمیانی کیفیت میں رہتے ہوئے کام اور وقت نکالنے کی دونوں مہارتیں ثابت کر دیں۔

ماضی میں بھی انہوں نے لاہور کے مینار پاکستان کے سائے تلے 'آئین شریعت کانفرنس' میں یہی نعرہ مستانہ لگایا تھا کہ اب جے یو آئی کو انتخابی و آئینی سیاست کرنی ہے یا دوسری جہدوجہد کی طرف جانا ہے۔ اس وقت الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا دور نہیں آیا تھا۔ اس لیے ایک بڑی سی 'آئین شریعت کانفرنس' کا انعقاد کرنا پڑا تھا۔ اب وہی کام ایک انٹرویو اور ایک پریس کانفرنس کے ذریعے آسانی سے کر کے ایوان یا میدان کا دھمکی آمیز بیان داغ دیا ہے۔ پورا یقین ہے کہ 'غیبی مدد' کے عادی ہو جانے کے باعث ایوان کی چلمن سے کہسی نی کسی طرح جڑے رہیں گے۔

مولانا کی تعریف اس لیے بھی بنتی ہے کہ انہوں نے عمران خان اور ان کی جماعت کی 'کے پی کے' میں جیت کو بھی دھاندلی سے جوڑ دیا ہے۔ گویا مولانا نے ایک کامل سیاسی کھلاڑی کی طرح خوب کھیلا ہے اور کھیلتے کھیلتے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی رہی سہی ساکھ کے ساتھ بھی کھلواڑ کر گئے ہیں۔ اسے کہتے ہیں مولانا فضل الرحمان !

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں