جب سوشل میڈیا ہر آنکھ کو رفح پر لے آیا!

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

میڈیا کی دنیا کی ایک پرانی کہاوت ہے 'ایک تصویر بیس ہزار لفظوں پر حاوی ہوتی ہے۔ یعنی ایک تصویر کا 'امپیکٹ' بیس ہزار لفظوں سے بھی زیادہ ہوتا۔ یہ بات پہلے درست تھی اور سوشل میڈیا کی گرم بازاری میں اسی صداقت پہلے سے بھی بڑھ کر سامنے آئی ہے۔

اسی تصویر کی اس طاقت کے حوالے سے ایک جانب دنیا اس ایشو کی طرف لپک لپک جاتی ہے تو دوسری جانب بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو لرز لرز جاتے ہیں۔ جو لپک لپک جاتے ہیں وہ اس کی اثر پذیری سے متاثر ہوتے ہیں یا اس کی اثر پزیری میں اضافہ کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔ مگر جو لرز لرز جاتے ہیں انہیں اس ایک دو یا بعض تصویروں سے اتنا خوف آتا ہے کہ وہ لرز لرز جاتے ہیں۔

'الگروتھم' اسی لیے ڈیزائن کیا گیا کہ کس چیز کو چاہیں گے خوب پھیلا سکیں گے اور جسے نہیں چاہیں گے اسے 'الگروتھم' کے گھن چکر میں پیس د یں گے۔ یہ تصویر کبھی اوزار ہوتی ہے اور کبھی کسی کے ہاتھ میں جا کر ہتھیار کے طور پر آ جاتی یے۔ ویڈیو کی شکل میں آ جائے تو اس کی اثر پذیری اور بڑھ جاتی ہے۔

اسی کی تازہ مثال عالمی سیاست کی سطح پر حالیہ دنوں میں امریکی عدالت میں ٹک ٹاک کے مقدمے کی ہے۔ امریکہ نے اسے ٹک ٹاک کو انتباہ کیا ہے کہ وہ اپنی ملکیت (کسی کی نجی ملکیت کو چیلنج وہ بھی امریکہ میں) کو بیچ دے بصورت دیگر پابندی کے لیے تیار ہو جائے ۔

اس کے خلاف چینی کمپنی 'بائٹ ڈانسنگ' جو 'ٹک ٹاک' کے ملکیت رکھتی وہ اس کے خلاف امریکی عدالت میں ہی اپیل لے کر چلی گئی ہے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ٹک ٹاک کو جوائن کر کے اس پر اکاؤنٹ کھول لیا ہے۔ گویا خوف اور مجبوری دونوں موجود۔ ایک فیصلہ لرزنے والے کا دوسرا لپکنے والے کا۔ ایک زمانہ تھا یہ صاحب جب امریکہ کے صدر تھے تو 'ٹک ٹاک' پر پابندی لگانے کو تلے ہوئے تھے۔

سوشل میڈیا پر بہت سارے موضوعات اور تصاویر اسی خوف اور محبت کے درمیان ہدف بنائی جاتی ہے۔ اسی سبب اکاونٹ معطل کیے جانے کا نظام بنایا گیا ہے اور اسی سبب بعض پوسٹوں اور تصاویر کو خوامخواہ پذیری دی جاتی ہے۔

غزہ میں آٹھ ماہ سے جو جنگ جاری ہے اگر دیکھا جائے تو سوشل میڈیا پر اس کا ذکر کم تر ہے۔ وجہ صاف ہے کہ سوشل میڈیا بھی کچھ لوگوں کی ملکیت ہے۔ غزہ میں جنگ کے شروع میں ہی اسرائیلی حکام نے بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ملاقاتیں کر کے اپنے اہداف اور تحفظات اور ترجیحات کی پوری فہرست تھما دی تھی۔ یعنی کہہ دیا تھا بس وہ کریں جو کہا جائے۔ لیکن اس کے باوجود کچھ تصاویر اور پوسٹیں ایسی ہوتی ہیں کہ 'ہزار دام سے ایک جنبش سے' لہک لہک کر گاتی ہوئی چھیڑتی چھاڑ کرتی دور نکل جاتی ہیں اور سوشل میڈیا میں ٹرینڈ بنتی رہیں۔ انہیں میں ایک 'آل آئیز آن رفح' رہی۔

اسے پوسٹ نے کہہ لیں، ون لائنر کہہ لیں نے یا مصنوعی ذہانت [اے آئی] پر بنائی گئی تصویر جس نے لاکھوں کروڑوں صارفین کو اپنی طرف لپک لپک کر آنے پر مجبور کر دیا۔ وگرنہ رفح پر حملے کو تو ایک ماہ چھ جون کو ہوا ہے۔ آٹھ ماہ تو غزہ کے باقی حصوں نے جنگ کی آگ میں جھلس اور جل کر گذارے ہی۔

یہ تصویر ملائیشیا میں مقیم ایک انسٹا گرام صارف نے بنائی اور سب سے پہلے شئیر کی۔ یقینا رفح میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں میں امریکی بموں سے جل جل کر اور جھلس جھلس کر مرنے والوں کے خون کا رنگ بھی 'انسٹا گرام' کو سرخ کر گیا ہو گا اور ہر آنکھ رفح پر جم گئی۔

اس آنکھ پر اب پریشان دنیا کی آنکھیں ہیں کہ یہ کیوں ہو گیا، یہ کیسے ہوا۔؟ اس پر سوچ سوچ کر اپنے سر پھوڑ نے کو آ رہا ہے۔ کہ رفح کو دیکھنے والی اس آنکھ کو تو پھوڑنے سے قاصر ہو گئے تھے۔ یہ اس ملائشین صارف کی لفظ تھے جو کئی تصویروں پر بھی حاوی ہوگئے۔ گویا رفح میں بہنے والے خون سے میڈیا کی پرانی کہاوت بھی اپنی جگہ سے ہل سی گئی۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size