.

حرم مکی کے مینار زائرین کی خصوصی توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکومت کی تیسری توسیع کے بعد مکہ مکرمہ میں مسجد حرام کے میناروں کی مجموعی تعداد 13 ہوگئی ہے۔ میناروں کی تعمیر کا یہ سفر 1300 برس قبل شروع ہوا جب عباسی خلیفہ ابوجعفر المنصور نے پہلا مینار تعمیر کرایا تھا۔

اس سلسلے میں ایک معتمر نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "مسجد حرام کے مینار امتیازی شان رکھتے ہیں۔ محض مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے ہی یہ بلند مینار طویل فاصلے سے نظر آجاتے ہیں۔ ان پر نظر کے پڑتے ہی دل پر ایک عجیب سی کیفیت چھا جاتی ہے."

سعودی عہد سے قبل مسجد حرام کے میناروں کی تعداد 5 تھی۔ سعودی حکومت نے ان میں مزید 8 کا اضافہ کیا جو حرم مکی کی پوری تاریخ میں تمام اسلامی ریاستوں کی جانب سے تعمیر کیے گئے میناروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مملکت سعودی عرب مسجد حرام کی خدمت کے لیے کتنی سرگرم ہے۔

ایک دوسرے معتمر کا کہنا ہے کہ "مسجد حرام کے مینار اور توسیع کا منصوبہ بلا شبہ دیگر تمام مساجد سے مختلف ہیں کیوں کہ مسجد حرام کی اپنی عظیم شان ہے۔"

مسجد حرام کے میناروں کے طرز تعمیر میں، تعمیری علوم کے مختلف ماہرین کا ذوق شامل رہا ہے یہاں تک کہ ان کی موجودہ شکل سامنے آئی ہے۔ تقریبا 90 میٹر بلند ان میناروں سے گونجتی نماز کی پکار اور آئمہ حرم کی تلاوت، مکہ مکرمہ کے پہاڑوں اور وادیوں میں پھیل جانے کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کے دلوں پر بھی چھا جاتی ہیں۔

تاریخ کی کتابوں کی سیاہی مٹ گئی اور اس کے ساتھ ہی لوگوں کی یادداشت کا ایک حصہ ختم ہوگیا۔ دوسری جانب مسجد حرام کے میناروں نے ہر اُس صاحب اقتدار کا نام زندہ و جاوید کردیا جس نے کسی ایک مینار کی بھی تعمیر کے منصوبے میں اپنا حصہ ڈالا اور اس حوالے سے تیسری سعودی ریاست پیش پیش رہی ہے۔