.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مبارک اُن کے حُجرہِ وفات کے اندر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دین اسلام میں کوئی بھی چیز خفیہ یا پوشیدہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اسلام علیہ الصلات و السلام کی قبر مبارک بھی زیارت کے لیے عام مسلمانوں کی رسائی میں ہے۔ یہاں وہ اشک بار آنکھوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے دونوں قریب ترین اصحاب رضی اللہ عنہما کی خدمت میں سلام پیش کرتے ہیں۔ روضہ مبارک کی جالیوں کی کشائش ، آنے والوں کو خیر البشر کی قبر مبارک کے قریب ترین منظر تک پہنچنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

اس سلسلے میں ایک مقامی ذمہ دار نے بتایا کہ " حجرہ مبارک تاریخی طور پر متعدد بار تجدید کے مراحل سے گزر چکا ہے۔ پہلی مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور پھر ولید بن عبدالملک کے عہد میں.. 88 ھجری میں حجرہ مبارک کے گرد دیوار کو سیاہ پتھروں سے بنایا گیا"۔

ایک حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ ہر نبی اسی جگہ دفن کیا جاتا ہے جہاں اس کی روح مبارک قبض کی جاتی ہے۔ اس حدیث نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام تدفین کے حوالے سے جاری جدل کا فیصلہ کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد نبوی سے متصل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ہی دفن کیا گیا جہاں اللہ کے نبی کا وصال ہوا تھا۔ بعد ازاں رقبے کے پھیلاؤ کے ساتھ وہ مسجد کا حصہ بن گیا۔

مقامی ذمہ دار کے مطابق " جب باب جبریل سے مسجد میں داخل ہوا جائے تو مشرقی سمت روضہ مبارک کا موجودہ دروازہ ہے جس کا نام "بابِ فاطمہ" رضی اللہ عنہا ہے۔ بعض دیگر دروازے بھی ہیں مثلا مغربی سمت میں "بابِ وفود" اور شمالی سمت میں "باب تہجّد"۔

اسلامی تاریخ کے زمانوں میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی دیکھ بھال کا مسلسل خیال رکھا گیا۔ اس میں سب سے طویل اور دیرپا اثرات رکھنے والا دور عہد عثمانی تھا۔ سعودی ریاست نے اس دور کی تجدید کو برقرار رکھا جس میں گنبد کا ڈیزائن وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں آخری اضافہ روضہ مبارک کی دیواروں پو خوبصورت انداز سے تحریر آیات قرآنی ہیں۔

اس سلسلے میں مقامی ذمہ دار نے بتایا کہ " سبز گنبد مملوک سلاطین کے دور میں تعمیر ہوا۔ سلطان محمود دوم کے زمانے میں اس کی تعمیر نو کی گئی۔ بعد ازاں مملکت سعودی عرب کے فرماں رواؤں نے بھی اس کو برقرار رکھا"۔

"العربیہ" کی ٹیم کے ارکان اُن خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنہیں روضہ مبارک کی جالیوں کو قریب سے چھونے کا موقع ملا۔ ٹیم کے ارکان نے اللہ کے آخری نبی علیہ الصلات و السلام کی قبر مبارک اطراف تمام چیزوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔