.

رضاکار خواتین مسجد حرام میں نمازیوں کی کیسے خدمت کر رہی ہیں؟‎

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حرمین شریفین کی جنرل پریزیڈینسی کی جانب سے مسجد حرام میں خواتین نمازیوں اور عمرہ زائرات کی معاونت اور رہ نمائی کے لیے 50 رکنی خواتین کی ٹیم مقرر کر رکھی ہے۔ خواتین کی اس ٹیم کو 'مطوفہ' کا نام دیا گیا ہے۔

مطوفہ خواتین کو پیرانہ سال عمرہ زائرات کی رہ نمائی اور ان کی معاونت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انہیں عمر رسیدہ خواتین نمازیوں‌ کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ مطوفہ خواتین معمر خواتین کی وہیل چیئرز بھی چلاتی ہیں۔ ان میں 600 الیکٹرک وہیل چیئرز اور 5000 دستی وہیل چیئزز ہیں۔ وہیل چیئرز کے لیے مسجد حرام میں 120 ملازمین تعینات ہیں۔ خواتین نمازیوں اور معتمرات کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے خواتین کی ٹیم ہمہ وقت متحرک رہتی ہے۔

انسانی اور دینی بنیادوں پر عمر رسیدہ، معذور اور دیگر معتمرات کی مدد کرنے والی خواتین میں رحاب آل مساعد الحارثی نے بتایا کہ وہ گذشتہ سات سال سے معتمرات کی خدمت پر مامور ہے۔ شروع میں اس نے رضاکارانہ طور پر یہ خدمت انجام دی مگر اب وہ باقاعدہ پریزیڈینسی کی ملازمہ ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں رحاب کا کہنا تھا کہ مسجد حرام میں خواتین کی رہ نمائی اور مدد کرنے کی خوشی اور مسرت ناقابل بیان ہے۔ دنیاوی عمل سے زیادہ اس کی اخروی اہمیت ہے۔ میرا خیال ہے کہ مسجد حرام میں خواتین عبادت گذاروں کی رہ نمائی اور مدد کرنے والی خواتین کی معاونت ایک عمل خیر اور توشہ آخرت ہے۔

رحاب الحارثی نے بتایا کہ مسجد حرام میں خواتین نمازیوں اور معتمرات کی معاونت پر مامور خواتین کی تعداد 50 ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خواتین کو باقاعدہ ماہانہ مشاہرہ ادا کیا جاتا ہے۔

اس کی ساتھی مطوفہ میعاد الطویرقی کےجذبات بھی اپنی رفیقہ کار رحاب الحارثی سے مختلف نہیں۔ وہ بھی خواتین عبادت گذاروں کی مسجد حرام میں معاونت کو اپنے لیے نیکی اور آخرت میں نجات کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اللہ کے مہمانوں کی معاونت ہمارا اصل مشن ہے اور اس کار خیر میں تمام رضاکار خواتین بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔

مطوفہ اروایٰ احمد کا کہنا ہے کہ میں جیسے ہی مسجد حرام میں معتمرات اور بزرگ خواتین کی مدد کے لیے پہنچتی ہوں تو میرا سینہ نور سے بھر جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں کئی سال سے القصیم کے علاقے میں مقیم ہوں اور باقاعدگی کے ساتھ مسجد حرام میں خواتین نمازیوں اور عمرہ زائرات کی مدد کر رہی ہوں۔ اس کا کہنا تھا کہ کرونا کی وبا کے دوران مسجد حرام میں رضا کار خواتین اور مطوفہ ارکان کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔