تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مسجد حرام میں‌ 24 آوازوں میں گونجنے والی صدائے اذان!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 12 رمضان 1440هـ - 17 مئی 2019م KSA 13:02 - GMT 10:02
مسجد حرام میں‌ 24 آوازوں میں گونجنے والی صدائے اذان!
العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ ۔ حامد القرشی

مسجد حرام میں نمازوں اور عبادات کی دیگر اشکال کے ساتھ ساتھ اذان کو بھی خصوصی اہمیت اور اہتمام کا درجہ حاصل ہے۔ مسجد احرام میں‌ گونجنے والی 24 مختلف صوتی آہنگ کی اذانیں دی جاتی ہیں۔

مسجد حرام میں اذان کے لیے انجینیرنگ اور انتظامی نوعیت کی تیاریاں‌کی جاتی ہیں۔ مسلمانوں کے مقدس ترین مقام میں بلند ہونے والی اذانیں اہل ایمان کے دلوں اور ایمان کو گرمانے کا ذریعہ ہیں۔

اذان کے انتظامی امور کے لیے عالمی سطح کے تعلیم یافتہ 140 ماہرین تعینات ہیں۔ مسجد حرام کے اندرونی مقامات میں اذان کی آواز پہنچانے کے لیے 7 ہزار اسپیکروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مسجد کے میناروں میں لگے لائوڈ اسپیکروں کی بلند ہونے والی اذان اور اقامت کی آواز بھی ان اندرونی اسپیکروں کے ذریعے نمازیوں تک پہنچتی ہے۔

حرم مکی کے اندر اذان اور اقامت کی آواز صاف سنائی دینے کے لیے خصوصی تکنیکی انتظامات کیےگئے جن کی وجہ سے ہزاروں اسپیکروں کے باوجود صدائے اذان میں کسی قسم کا خلل پیدا نہیں ہوتا۔

مسجد حرام میں آئمہ وموذنین کے امور کے ڈائریکٹر الشیخ وحید بن محمد النحاس نے بتایا کہ مسجد حرام میں 24 موذن حضرات آزان دیتے ہیں۔ ان کا تعلق مکہ معظمہ کے مختلف علاقوں سے ہے۔ ان کا تعارف علی بن احمد ملا، نائف بن صالح فیدہ، محمد بن علی شاکر،ماجد بن ابراہیم العباس، توفیق بن عبدالحفیظ خوج، محمد یوسف موذن، فاروقبن عبدالرحمان خضراوی، عصام بن علی خان، احمد بن یونس خوجہ، حمد محمد دغریری، سعید بن عمر فلاتہ، محمد بن احمد مغربی، عماد بن علی بقری، ھاشم بن محمد السقاف،حسين بن حسن شحات، محمد بن أحمد باسعد،سامي بن عبدالرحيم ريس، سهيل بن عبدالملك حافظ، عبدالله بن أحمد باعفيف، إبراهيم بن عادل مدني، محمد بن علي العمري، أحمد بن علي نحاس، اور تركي بن طلال الحسنی کے ناموں سے کی جاتی ہے۔

اذان کی ترتیب

مسجد حرام میں موذن باری باری اذان دیتے ہیں۔ جس موذن کی باری ہوتی ہے وہ اذان سے ایک گھنٹہ قبل مسجد میں موجود ہوتا ہے۔ ہر نماز میں مستقل موذن کےساتھ ایک ریزرو موذن بھی ہوتا ہے۔ مسجد کے اندر تکبیرات کے لیے بھی ان موذنین کو تکبیرات کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے جو رکوع، سجدوں اور سلام کے موقع پر اپنی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ معاون ملازم کے ذمہ مسجد حرام میں نماز جنازہ کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔ موذن اور اس کے معاون کو ہنگامی حالات کے لیے بھی خود کو تیار رکھنا پڑتا ہے۔

النحاس نے بتایا کہ مسجد حرام میں حجازی طرز پر اذان دی جاتی ہے۔ روزانہ چھ بار اذانیں بلند ہوتی ہیں۔ پہلی اذان فجر اول، دوسری فجر ثانی، تیسری ظہر، چوتھی عصر، پانچویں مغرب اور چھٹی اذان عشاء کی نماز میں دی جاتی ہے۔ ایک موذن دن میں صرف ایک ہی اذان دیتا ہے۔

النجاس نے بتایا کہ موذن کو اذان کے حوالے سے الرٹ اور با خبر رکھنے کے لیے سرخ رنگ کی رشنی سے مطلع کیا جاتا ہے محراب مسجد میں اسکرین پر نمودار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ نماز کی با جماعت ادائی کے دوران امام کو براہ راست اسکرین پر دکھایا جاتا ہے۔ جنازوں کی نمازیں بھی اسکرین پر دکھائی جاتی ہیں۔ تمام اسکرینیں ہنگامی بیٹریوں پر چلتی ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند