تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
’’سعودی انٹرٹینمنٹ اتھارٹی نے کسی خلاف قانون سرگرمی کی اجازت نہیں دی’’
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 10 شوال 1440هـ - 14 جون 2019م KSA 21:43 - GMT 18:43
’’سعودی انٹرٹینمنٹ اتھارٹی نے کسی خلاف قانون سرگرمی کی اجازت نہیں دی’’
دبئی ۔ ایجنسیاں

سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی اس ویڈیو کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جس میں جدہ میں منعقد کئے جانے والے ایک ایسے پروگرام کی تشہیر کی گئی تھی جس کے لئے اتھارٹی سے کوئی اجازت نامہ حاصل نہیں کیا گیا تھا۔

اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر انٹرٹینمنٹ اتھارٹی نے واضح کیا کہ ’’متذکرہ سرگرمی ملک میں رائج قوانین اور سسٹم کے خلاف ہے، ہم نے اس کے انعقاد کی ہر گز اجازت نہیں دی۔‘‘ بیان کے مطابق جدہ میں ایک دیگر سرگرمی کی اجازت لے کر معاہدہ کرنے والوں نے حد درجہ ناقابل قبول سنگین خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔

جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی نے عوام الناس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ایسی خلاف ورزیوں کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور ان کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اتھارٹی ایسی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مزید تحقیق کے لئے متعلقہ شعبے کے حوالے کیا جائے گا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔‘‘

سعودی عرب میں نائٹ کلب؟

قبل ازیں بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’’اے پی‘‘ نے سعودی عرب میں مشرقِ اوسط کے ایک مقبول نائٹ کلب کے حوالے سے خبر دی تھی کہ اس کی شاخ کا جدہ میں افتتاح ہو رہا ہے۔ یہ نائٹ کلب سعودی عرب میں حالیہ برسوں کے دوران میں تفریح کے نام پر دی جانے والی آزادیوں اور بعض سماجی پابندیوں کے خاتمے کا ایک نیا مظہر ہے لیکن مملکت میں نافذ اسلامی قوانین کے تحت اس کلب میں شراب پیش نہیں کی جائے گی۔

یہ نائٹ کلب ساحلی شہر جدہ میں سمندر کنارے قائم کیا گیا ہے اور وہاں لباس کا سخت ضابطہ نافذ نہیں ہو گا۔ ایڈمنڈ ہاسپٹلیٹی کلب کے مینجر ابلاغیات سرجی ٹراڈ نے امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا ہے کہ وائٹ کلب سعودی عرب میں ایک ماہ تک کھلا رہے گا۔اس کا امریکی فن کار ’نی یو‘ کے فن کے مظاہرے سے آغاز ہو رہا ہے۔

مسٹر ٹراڈ کا کہنا ہے کہ اس کلب کے لیے ’عام اسمارٹ‘ لباس ہوگا ۔اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کلب میں آنے والی خواتین کو کھلے ملبوسات پہننے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مملکت کے ضابطہ لباس کے تحت خواتین مکمل ستر والا لباس پہننے اور برقع اوڑھنے کی پابند ہیں۔

ٹراڈ نے بتایا ہے کہ اس کلب کے انسٹاگرام پر اکاؤنٹ کے پیروکاروں کی تعداد گیارہ ہزار تک پہنچ گئی تھی لیکن اس کے ناقدین کی رپورٹ کے بعد اس اکاؤنٹ کو فوری طور پر بند کردیا گیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند