تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
آئیں! سعودی عرب کے 9 ہزار سال پرانے گاؤں کی سیر کریں
'القصار' گاؤں ہزاروں سال سے چشموں اور کھجور کا نخلستان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م KSA 23:33 - GMT 20:33
آئیں! سعودی عرب کے 9 ہزار سال پرانے گاؤں کی سیر کریں
'القصار' گاؤں ہزاروں سال سے چشموں اور کھجور کا نخلستان
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ حامد القرشی ۔ تصاویر ۔ ماجد عماری

سعودی عرب کے جنوب میں جزیرہ فرسان کے وسط میں ایک ایسا گاؤں بھی آباد ہے جو آج سے ہزاروں سال پہلے سے موجود ہے۔ پانی کے چشموں کھجوروں کے نخلستان کے درمیان واقع اس گاؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 9 ہزار سال پرانا ہے۔ اس تاریخی یادگار گاؤں کے مکان گارے، پتھروں اور کھجور کے تنوں سے بنائے گئے ہیں اور ان کے کھنڈرات اور باقیات آج بھی موجود ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 'القصار' ہیریٹیج ویلج ایک تاریخی اور سیاحتی مقام ہے۔ یہ جازان سے 40 کلومیٹر دور بحیرہ احمر کے جنوب مشرقی کنارے پر واقع ہے۔

یہ گاؤں جزیرہ فرسان میں کھجور کا سب سے بڑا نخلستان ہے اور کھجور کے درختوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس میں موجود عمارتیں قومی تاریخی ورثے کا حصہ اور سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز ہیں۔ سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے سیاحت اور قومی ورثہ نے ثقافتی ورثہ کے تحفظ اور سیاحت کو فروغ دینے کے منصوبوں کے ایک حصے کے طور پر اس گاؤں کو محفوظ بنانے کی ہرممکن کوشش کی  ہے۔

مملکت کے آثار قدیمہ، عجائبات کے محقق اور سعودی ایسوسی ایشن آف ٹور گائیڈز کے ایک رکن طراد العنزی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "مؤرخین کے مطابق یہ گاؤں رومن عہد کا ہے۔ اس میں نوشتہ جات اور نقاشی بھی شامل ہیں، جب کہ 400 پرانے مکانات آج بھی موجود ہیں۔ یہ بستی حمیری دور سے ہی کھجوروں اور پانی کے چشموں کی وجہ سے مشہور ہے۔

انہوں نے مزید کہا القصار گاؤں میں سیاحوں کی سہولت کے لیے ریستوران اور لوک کیفے ، فرسانی ورثے کا ایک میوزیم اور سمندری دستکاری کی نمائش ، نیز روایتی فرسانی مصنوعات کی کئی دکانیں بھی وہاں موجود ہیں جہاں سیاحت کے لیے آنے والے اپنی پسند کی یادگاری مصنوعات خرید کرتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند