سعودی عرب میں سکیورٹی حکام نے کئی ماہ کی نگرانی کے بعد دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) سے وابستہ تین سیل پکڑ لیے ہیں اور ان سے تعلق رکھنے والے سترہ مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار مشتبہ افراد چار خودکش بم حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے اور تیاریوں کے آخری مراحل میں تھے۔ان خودکش بم حملوں میں صوبے الاحساء میں مذہبی مقامات کے علاوہ مختلف علاقوں میں شہریوں ،مذہبی علماء ،سکیورٹی فورسز ،فوجی اور اقتصادی تنصیبات اور وزارت دفاع اور داخلہ کے تحت سکیورٹی ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا جانا تھا۔

گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد میں تیرہ سعودی ، ایک مصری ،ایک یمنی ،ایک فلسطینی اور ایک عورت شامل ہے جس نے دہشت گردی کی اسکیموں کو عملی جامہ پہنانے کی سرگرمیوں میں شرکت کی تھی۔

سعودی حکام نے مشتبہ ملزموں کے قبضے سے بیس کلو گرام دھماکا خیز مواد ،آٹھ کلو گرام بارود سے بھری بیلٹس ،ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کیا ہے۔انھوں نے چھے لاکھ سعودی ریال بھی ضبط کرلیے ہیں۔یہ نقد رقم ایک سیل سے برآمد ہوئی تھی۔

ابتدائی تحقیقات سے یہ پتا چلا ہے کہ پکڑے گئے ایک سیل نے الاحساء میں امام الرضا مسجد میں بم دھماکا کرنے والوں کو پناہ دی تھی۔انھوں نے دارالحکومت الریاض میں ایک فوجی کار کو بھی دھماکے سے اڑایا تھا اور ایک سعودی افسر کے قتل میں معاونت کی تھی ۔ نیز الریاض میں الحائر روڈ پر ایک سکیورٹی چوکی کو بم حملے میں نشانہ بنایا تھا۔