تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
چین: 10 لاکھ یغور مسلمانوں کو سنکیانگ میں کیمپوں میں رکھنے کے الزامات مسترد
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 17 ذیعقدہ 1440هـ - 20 جولائی 2019م
آخری اشاعت: پیر 1 ذوالحجہ 1439هـ - 13 اگست 2018م KSA 21:26 - GMT 18:26
چین: 10 لاکھ یغور مسلمانوں کو سنکیانگ میں کیمپوں میں رکھنے کے الزامات مسترد
چین کے صوبہ سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے یغور مسلمان اور ان کے حامی نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز کی جانب جانے والی ایک شاہراہ پر 15 مارچ 2018ء کو نکالی گئی ریلی میں شریک ہیں۔ فائل تصویر
برلن ۔ ایجنسیاں

چین نے مغربی صوبے سنکیانگ میں دس لاکھ سے زیادہ یغور مسلمانوں کو کیمپوں میں رکھنے سے متعلق الزامات کی تردید کردی ہے اور کہا ہے کہ ان کی کوئی پکڑ دھکڑ جار ی ہے اور نہ انھیں تعلیمی مراکز میں بھیجا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے ایک رکن نے گذشتہ ہفتے اس تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ایک لاکھ سے زیادہ یغور نسل سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو’’ انسداد انتہا پسندی ‘‘ کے لیے قائم کیمپوں میں ر کھا جارہا ہے اور مزید بیس لاکھ کو دوبارہ تعلیم کے کیمپوں میں رکھا جارہا ہے‘‘۔

چین کے وفد نے اس کمیٹی کو بتایا کہ بلا تمیز یغور مسلمانوں کو حراست میں نہیں لیا جارہا ہے بلکہ سنکیانگ میں حکام نے متشدد دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے، سزا یافتہ مجرموں کو معاشرے میں بحالی کے لیے مہارتیں سکھائی جارہی ہیں اور انھیں پیشہ ورانہ تربیت بھی دی جارہی ہے۔

چین کے ایک سرکاری اخبار نے سنکیانگ میں حکومت کی سخت گیر سکیورٹی پالیسیوں کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی بدولت ہی سنکیانگ دوسرا ’’ شام‘‘ نہیں بن سکا ہے۔

چینی مندوب ہو لیان ہی نے مترجم کی وساطت سے کہا کہ ’’ دس لاکھ یغوروں کی تعلیمی مراکز میں گرفتاری کا دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے۔نسلی اقلیتوں کو ان کے مذہبی معتقدات کی بنا پر انسداد دہشت گردی کے نام پر ہرگز بھی جبر وتشدد کا نشانہ نہیں بنایا جارہا ہے‘‘۔

مگر انھوں نے یہ بھی کہا کہ جن لوگوں کو مذہبی انتہا پسندی نے دھوکا دیا ہے،ان کی دوبارہ بحالی اور تعلیم میں مدد کی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ سنکیانگ میں یغور نسل کے مسلمانوں کو 2009ء میں علاقائی دارالحکومت اُرمچی میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد سے سخت کریک ڈاؤن کا سامنا ہے ۔انسانی حقوق کے نگراں گروپوں کی رپورٹس اور عینی شاہدین کے مطابق یغوروں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے اور انھیں حراستی مراکز میں پھینکا جارہا ہے۔

کمیٹی کی وائس چیئرمین گے میکڈوگل نے یغور مسلمانوں کی حراست سے متعلق چین کے اس صاف انکار کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ چین نے تعلیمی پروگراموں کی صحت سے انکار نہیں کیا ہے۔انھوں نے چینی مندوب کو مخاطب ہو کر کہا کہ ’’ آپ یہ کہتے ہیں کہ دس لاکھ کا عدد غلط ہے تو پھر آپ ہی بتادیجیے کہ کتنے افراد زیر حراست ہیں اور انھیں کس قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے‘‘۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند